سلامتی کونسل کا ایک بار پھر مظلوم کے بجائے ظالم کا ساتھ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن کی عوامی اور سعودی اتحاد کے مقابلہ میں اپنے ملک کا دفاع کرنے والی تنظیم انصاراللہ کے خلاف اسلحہ جاتی  پابندیوں میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔

ولایت پورٹل:اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متحدہ عرب امارات کی درخواست پر یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ پر اسلحہ جاتی پابندی کی مدت مزید ایک سال کے لئے بڑھا دی، واضح رہے کہ  متحدہ عرب امارات نے یہ درخواست ایسے وقت دی جبکہ یمن کی فوج نے ابو ظہبی کی جانب سے یمن پر ہونے والی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے متحدہ عرب امارات کی کئی تنصیبات پر ہونے والے ڈرون اور میزائلی حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
متحدہ عرب امارات کی اس قرارداد کے حق میں 11 ووٹ آئے جبکہ کونسل کے بقیہ اراکین آئرلینڈ، برازیل، میکسیکو اور ناروے نے ووٹ دینے سے گریز کیا،واضح رہے کہ یمن پر جارج اتحاد کے جاری حملوں کے جواب میں یمنی فورسز نے حالیہ مہینوں کے دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر ڈرون اور میزائل حملے بڑھا دیے اور مزید حملے کرنے کا بھی اعلان کیا  ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب امریکہ اور اسرائیل کی حمایت سےکچھ عرب ملکوں کے ساتھ مل کر مارچ 2015 سے یمن پر وحشیانہ حملے کررہا ہے اور اس ملک کا اس نے بری بحری اور فضائی محاصرہ بھی کر رکھا ہے،یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے حملوں میں اب تک دسیوں ہزار یمنی شہید و زخمی ہوچکے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ افراد بے گھر اور دربدر ہوچکے ہیں ۔
سعودی عرب کی فوجی جارحیت کے نتیجے میں غریب عرب ملک یمن کو غذاؤں اور دواؤں کی شدید قلت کا سامنا ہے،تاہم یمنی عوام کی استقامت کے باعث سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو اب تک اپنے مذموم اہداف میں کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین