Code : 2474 127 Hit

اخلاقی اںحطاط کے باعث سابقہ اقوم الہی عتاب کا شکار ہوئیں

قرآن مجید نے بہت سی گذشتہ ایسی امتوں کا تذکرہ کیا ہے کہ جو اللہ کی توحید پر عقیدہ رکھنے کے باوجود اخلاقی پستی کے سبب اللہ ان پر غضبناک ہوا اور وہ الہی عتاب کا شکار ہوگئیں چنانچہ ان سابقہ امتوں میں سے قوم مدین کا نام بطور مثال لیا جاسکتا ہے۔ باوجود اس کے کہ یہ قوم خدا کی عبادت کرتی تھی اور ان میں سے 9 قبائل نے جناب صالح(ع) کے ساتھ تبلیغ میں مدد کرنے کا معاہدہ کیا تھا لیکن اخلاقی پستی اور فساد کے سبب اللہ کے غضب کا شکار ہوکر معدوم ہوگئ۔

ولایت پورٹل: اگر قرآن مجید کی آیات میں غور و فکر کیا جائے تو سابقہ اقوام پر اسی دنیا میں  اللہ کی طرف سے عذاب نازل ہونے کے  اسباب میں سے  ایک ان کا اخلاقی انحطاط کا شکار ہوجانا تھا۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ صرف کافر،مشرک اور بت پرست ہی غضب الہی کے شکار نہیں ہوئے بلکہ ان امتوں کے درمیان کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسی دنیا میں دردناک عذاب میں مبتلا کیا اور صفحہ ہستی سے مٹایا ایسی امتیں و اقوام بھی تھیں جو اللہ تعالیٰ پر عقیدہ رکھتی تھیں لیکن اخلاقی پستی اور انحطاط کے باعث اللہ تعالیٰ کے غضب کا شکار ہوئیں اور آنے والی نسلوں کے لئے عبرت کا سامان بن گئیں۔
قرآن مجید نے بہت سی گذشتہ ایسی امتوں کا تذکرہ کیا ہے کہ جو اللہ کی توحید پر عقیدہ رکھنے کے باوجود اخلاقی پستی کے سبب اللہ ان پر غضبناک ہوا اور وہ الہی عتاب کا شکار ہوگئیں چنانچہ ان سابقہ امتوں میں سے قوم مدین کا نام بطور مثال لیا جاسکتا ہے۔ باوجود اس کے کہ یہ قوم خدا کی عبادت کرتی تھی اور ان میں سے 9 قبائل نے جناب صالح(ع) کے ساتھ تبلیغ میں مدد کرنے کا معاہدہ کیا تھا لیکن اخلاقی پستی اور فساد کے سبب اللہ کے غضب کا شکار ہوکر معدوم ہوگئ۔( نمل، آیات 47 تا 50)
اسی طرح دوسری ایسی قوم جناب لوط اور جناب شعیب کی بھی تاریخ میں گذری ہیں جو لائق عبرت بنیں  اور اپنے برے اخلاق کے باعث عتاب الہی کا شکار ہوئیں چونکہ قوم لوط عقلانی و طبیعی عمل کو چھوڑ کر ایک غیر معقول اور غیر طبیعی عمل کا شکار ہوئی کہ جس کی مثال گذشتہ امتوں میں تو کیا بہت سے جانوروں میں بھی نہیں ملتی(اعراف، آیه 80؛ عنکبوت، آیه 28)
یہ قوم دنیا میں ہمجنس پرستی کا سنگ بنیاد رکھنے والی پہلی قوم تھی چونکہ یہ شہوت جنسی میں افراط کا شکار ہوگئے تھے اور جنس مخالف کی طرف تمائل کے بجائے شہوت رانی کے جدید طریقے تلاش کرلئے تھے۔
قوم مدین کہ جو حضرت شعیب(ع) کی امت تھی وہ بھی اخلاقی فساد کا شکار ہوئی۔ اگر جناب لوط(ع) کی قوم شہوت رانی کی اس دلدل میں پھنس گئیں تھیں۔ تو قوم شعیب مالی شہوت اور زیادہ خواہی کا شکار ہوگئی اور وہ اپنی اقتصادی شہوت کو پورا کرنے کے لئے اخلاقی پستی یعنی کم فروشی اور گراں فروشی میں ملوث ہوگئی تھی اور انہوں نے اپنی ترازو اور ناپ تول کے وسائل میں کمی کاستی کے سسٹم ایجاد کرکے الہی غضب کا شکار بن گئے۔( اعراف:85)
البتہ گذشتہ ان اقوام کے علاوہ اور بھی بہت سی دیگر اقوام  اور خاص طور پر یہودی کچھ ایسے بھی تھے کہ جو عقلانی و وحیانی تعلیمات کے برخلاف اخلاقی انحطاط کا شکار ہوکر الہی عتاب کا شکار ہوگئے تھے چنانچہ ان میں قانون سے فرار کرنے کی عادت تھی جیسا کہ قرآن میں اصحاب  سبت کا تذکرہ ملتا ہے اور اللہ نے انہیں بندر اور سور کی ماہیت سے تشبیہ دی ہے تاکہ وہ دوسروں کے لئے عبرت کا سامان بن جائیں۔( بقره:65، مائده:60، اعراف: 166)
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम