Code : 2183 125 Hit

قرآن مجید،شیعہ مذہب کی حقانیت کا منھ بولتا ثبوت

شیعہ نقطہ نظر سے جس دین نے زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے مسئلہ کو نظر انداز نہ کیا ہو بلکہ اس کے لئے حکم بیان کیا ہو تو پھر یہ بات کیسے ممکن ہے کہ وہ دین امت کی رہبری اور رسول اللہ(ص) کے وصال کے بعد مسئلہ جانشینی میں خاموش رہے یا اتنے اہم منصب کے تعین و تقرر کی سنگین ذمہ داری خاطی اور گنہگار لوگوں کے سپرد کردے؟

ولایت پورٹل: تمام اسلامی مذاہب کے درمیان مذہب جعفری(شیعہ اثنا عشری) ہی وہ واحد مذہب ہے جس کی بنیاد حقیقی اسلام کی تعلیمات پر استوار ہیں اور جس کا عقیدہ یہ ہے کہ اسلام ایک جامع اور ہمیشہ رہنے والا دین ہے اور اس کے دامن میں انسانی زندگی کے تمام اعمال، اخلاق اور عقائد یہاں تک کے چھوٹے چھوٹے اور سادہ سے مسائل جیسے کھانا کھانا، پانی پینا، بیت الخلاء میں جانا،سونے اور جاگنے سمیت مبداء و معاد کے تمام مسائل کا حل اور سامان ہدایت موجود ہے۔
لہذا شیعہ نقطہ نظر سے جس دین نے زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے مسئلہ کو نظر انداز نہ کیا ہو بلکہ اس کے لئے حکم بیان کیا ہو تو پھر یہ بات کیسے ممکن ہے کہ وہ دین امت کی رہبری اور رسول اللہ(ص) کے وصال کے بعد مسئلہ جانشینی میں خاموش رہے یا اتنے اہم منصب کے تعین و تقرر کی سنگین ذمہ داری خاطی اور گنہگار لوگوں کے سپرد کردے؟
یہ ایسا راسخ عقیدہ ہے جس کی جڑیں قرآن و سنت سے ملتی ہیں اور خود عقل سلیم بھی اس کی تأئید کے لئے قرآن و سنت کی ہم قدم نظر آتی ہے چنانچہ قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں اس عقیدہ کی صحت اور تثبیت کا ایک مختصر خاکہ ملاحظہ فرمائیں:
1۔ قرآن مجید کے سورہ مائدہ کی مشہور آیت:’’ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا‘‘۔(مائدہ:3)
ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا ہے۔ اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند کر لیا ہے۔
نیز اسی سورہ کی ایک دوسری آیت:’’ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ...‘‘۔(مائدہ:67)
ترجمہ: اے رسول! جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے۔ اسے (لوگوں تک) پہنچا دیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو (پھر یہ سمجھا جائے گا کہ) آپ نے اس کا کوئی پیغام پہنچایا ہی نہیں۔ اور اللہ آپ کی لوگوں (کے شر) سے حفاظت کرے گا۔
ان دونوں آیات کے شأن نزول کی طرف توجہ رکھتے ہوئے کہ یہ دونوں آیات حجۃ الوداع میں نازل ہوئیں اور سرکار ختمی مرتبت(ص) نے علی ابن ابی طالب(ع) کو مسلمانوں کا سرپرست اور مولا و ولی مقرر فرمایا۔چنانچہ ان آیات کا شأن نزول اور پس منظر کسی شک کی گنجائش ہی نہیں چھوڑتا کہ حق طلب کے دل میں کسی طرح کا کوئی شک پیدا ہو بلکہ اسے تو کمال درجہ کا اطمئنان ہوتا ہے کہ وہی مذہب، حق ہے جس میں نبی کے بعد ایک ایسے معصوم امام اور ہادی کی اطاعت و پیروی کا حکم دیا گیا کہ جس کی امامت قرآنی نص سے ثابت ہے۔
کتب تفاسیر میں ان دونوں آیات کے ذیل میں علی کے خلیفہ بلا فصل ہونے پر متعدد شواہد و قرائن کو نقل کیا گیا ہے چنانچہ جوینی نے اپنی کتاب ’’فرائد السمطین‘‘ میں ان دونوں آیات کے ذیل میں یہ روایت نقل کی ہے کہ:’’ عثمان کے دور اقتدار میں مسجد نبوی کے اندر تقریباً 200 اصحاب رسول خدا(ص) بیٹھے ہوئے تھے جن میں سعد بن وقاص، عبدالرحمٰن بن عوف، طلحہ، زبیر،مقداد،ابوذر،امام حسن و حسین(ع) ، ابن عباس وغیرہ وغیرہ موجود تھے۔اور قریش و انصار میں سے ہر ایک اپنی فضیلت میں کچھ نہ کچھ کہہ رہا تھا اسی مجمع میں امیرالمؤمنین(ع) ایک گوشے میں چپ چاپ بیٹھے تھے مجمع نے آپ سے مطالبہ کیا کہ آپ بھی کچھ اپنے فضائل بیان کریں تو علی(ع) نے اہل بیت(ع) کے کچھ فضائل بیان کئے اور ساتھ ہی کچھ اپنے مخصوص مناقب کا تذکرہ فرمایا اور مولا(ع) کا کمال یہ تھا کہ آپ نے سب سے اپنے کلام کی تائید بھی لی تو علی(ع) نے جہاں اپنے دوسرے فضائل بیان کئے وہیں ایک یہ فضیلت بھی بیان فرمائی:’’اے لوگوں میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ اگر میری بات حق ہوئی تو تم تصدیق و تأئید کرو گے اور پھر فرمایا جب قرآن مجید کی یہ آیات:’’انما وليكم الله و رسوله و الذين آمنوا الذين يقيمون الصلوه و يؤتون الزكوه و هم راكعون‘‘ اور’’ام حسبتم ان تتركوا و لمّا يعلم الله الذين جاهدوا منكم و لم يتخذوا من دون الله و لا رسوله و لا المؤمنون وليجة‘‘ نازل ہوئیں تو لوگوں نے اللہ کے رسول اللہ (ص) سے سوال کیا: یا رسول اللہ(ص) یہ آیتیں تمام مؤمنین پر صادق آتی ہیں یا صرف کچھ خاص مؤمنین پر؟
یہی وہ مقام تھا کہ اللہ نے اپنے رسول(ص) کو حکم دیا کہ جس طرح آپ نے ان تک نماز روزہ،حج جیسے دیگر اہم مسائل ابلاغ کئے اسی طرح علی(ع) کی ولایت کو بھی پہونچا دو یہی وجہ تھی کہ اللہ کے رسول(ص) نے مجھے غدیر خم میں اپنا جانشین بنایا اور فرمایا:’’من كنت مولاه فهذا علي مولاه اللهم وال ...‘‘اسی درمیان سلمان فارسی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ(ص) علی کو ہم پر کون سی ولایت حاصل ہے؟
فرمایا: وہی ولایت جو مجھے تم سب پر حاصل ہے لہذا اسی وقت یہ آیت:’’ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا‘‘ نازل ہوئی۔ اسی لمحہ ابوبکر و عمر اٹھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ(ص)! یہ آیت علی(ع) سے مخصوص ہے؟ فرمایا: ہاں! یہ آیت علی اور ان کے بعد قیامت تک آنے والے میرے اوصیاء سے مخصوص ہے۔ سلمان نے پھر عرض کیا:یا رسول اللہ(ص) آپ اپنے اوصیاء کا تعارف کروائیے! فرمایا: علی ، ان کے بعد میرا بیٹا حسن، پھر حسین اور پھر علی ابن الحسین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔( ابراهيم بن محمد جويني، فرائد السمطين، بيروت، مؤسسه المحمودي للطباعة والنشر، ج1، ص312)
2۔ قرآن مجید کے سورہ مبارکہ النساء کی یہ آیت:’’يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا‘‘۔(سورہ النساء:59)
ترجمہ: اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبانِ امر ہیں (فرمان روائی کے حقدار ہیں)۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی بات میں نزاع (یا جھگڑا) ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پلٹاؤ اگر تم اللہ اور آخرت کے روز پر ایمان رکھتے ہو تو یہ طریقہ کار تمہارے لئے اچھا ہے اور انجام کے اعتبار سے عمدہ ہے۔
یہ آئہ کریمہ اللہ کی مطلق و بے چوں چرا اطاعت کا حکم دے رہی ہے اور پھر اسی انداز سے پیغمبر اکرم(ص) کی اطاعت کا حکم کررہی ہے۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ اللہ تعالٰی معصوم مطلق اور ہر طرح کی خطا سے مبراء ہے لہذا اس کی اطاعت ہر حال میں صحیح ہے اور پھر جس طرح قرآن مجید نے اللہ کی اطاعت کا مطالبہ کیا ہے بعینہ مؤمنین سے اسی اطاعت کا مطالبہ پیغمبر خدا(ص) کے لئے بھی کیا ہے اس کا مطلب صاف ہے کہ جس طرح اللہ معصوم ہے اسی طرح اس کا رسول بھی معصوم ہے بس فرق یہ ہے کہ اللہ کی عصمت ذاتی ہے اور رسول اللہ(ص) کی عصمت عطا اور تفضل ہے۔
اور جس طرح مذکورہ آیت نے مؤمنین سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا مطالبہ کیا ہے اسی طرح اولو الامر کی اطاعت کی طرف بلایا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اولو الامر بھی معصوم ہیں اور ان سے بھی کوئی خطا نہیں ہوتی۔ اور اگر اللہ اور رسول کی طرح اولو الامر معصوم نہ ہوتے تو کبھی قرآن ان حضرات کی اطاعت کا مطلق و صریح حکم نہ دیتا بلکہ کہیں نہ کہیں اطاعت کا دائرہ محدود کردیتا جیسا کہ قرآن مجید نے ایسے والدین کی اطاعت کرنے سے منع کیا ہے جو انسان کو اللہ کی عبادت سے موڑ کر شرک و کفر کی طرف راغب کردیں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’وَ وَصينا الأنسانَ بِوالِدَيهِ حُسناً وَ اِنْ جاهَداكَ لِتُشْرِكَ بي ما لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ فَلا تُطِعْهُما‘‘۔(عنکبوت:8)
ترجمہ: اور ہم نے انسان کو وصیت کی ہے (یعنی حکم دیا ہے) کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور (یہ بھی کہ) اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو کسی ایسی چیز کو میرا شریک بنا جس کا تجھے کوئی علم نہیں ہے تو پھر ان کی اطاعت نہ کر۔
 قارئین کرام! یہاں تک اہل سنت کے مشہور عالم و مفسر فخر رازی کا استدلال ہمارا ساتھ دیتا ہے۔کہ مطلق اطاعت صرف معصوم ہی کی  ہوسکتی ہے۔( فخر رازي، تفسير، تهران، دارالكتب العلمية، چاپ دوم، سطر 2، ج 10، ص 144)
لیکن اب سوال یہ ہے کہ وہ معصوم اولو الامر کون ہیں جن کی اطاعت کا اللہ حکم دیتا ہے؟
حق بات تو یہ ہے کہ وہ اولو الامر اہل بیت علیہم السلام اور رسول اللہ(ص) کے بعد 12 امام ہیں اور ہم دلیلوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ معصوم اولو الامر صرف 12 ہیں۔
ہمارے دلائل
پہلی دلیل، حدیث منزلت:
حاکم حسکانی نے شواہد التنزیل میں اس آیت میں موجود ’’اولی الامر‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے مجاہد سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت امیرالمؤمنین(ع) کے بارے میں نازل ہوئی اور واقعہ یہ ہے کہ سرکار کسی جنگ کے لئے تشریف لے جانے لگے تو مدینہ میں علی(ع) کو اپنا جانشین بنا کر گئے۔کچھ منافقین نے آپ کو آکر طعنہ دیا کہ رسول(ص) نے تو آپ کو مدینہ میں عورتوں اور بچوں کی نگرانی کے لئے چھوڑا ہے۔ حضرت علی(ع) رسول اللہ(ص) کی خدمت میں تشریف لائے تو اس وقت آپ نے ارشاد فرمایا:’’یا علی تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے جو موسٰی کو ہارون سے تھی‘‘۔
حاکم حسکانی کہتے ہیں کہ یہ وہی حدیث منزلت ہے جس کے بارے میں میرے استاد ابو حازم حافظ نے فرمایا کہ میں نے اس حدیث کی سند کو 5000 طریقہ سے استخراج کیا ہے۔( حاكم حسكاني، شواهد التنزيل، مؤسسه الطبع و النشر، ج 2، ص 190)
دوسری دلیل، حدیث اطاعت:
حاکم نیشاپوری نے مستدرک میں نقل کیا ہے کہ رسول اللہ(ص) نے فرمایا:’’ جس نے میری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی وہ خدا کا گنہگار ہوا اور جس نے علی کی اطاعت کی وہ میرا مطیع ہے اور جس نے علی کی نافرمانی کی وہ میرا نافرمان ہے‘‘۔(حاكم نيشابوري، المستدرك علي الصحيحين، مؤسسه طبع و نشر، ج 3، ص 195)
یہ حدیث واضح طور پر علی علیہ السلام کے اسی طرح واجب الاطاعۃ ہونے پر دلالت کررہی ہے جس طرح خود رسول اللہ(ص) واجب الاطاعۃ ہیں نیز یہ حدیث حقیقت میں آئہ’’اولی الامر‘‘ کی تفسیر ہے۔
تیسری دلیل:
جیسا کہ خود فخر رازی اس نتیجہ پر پہونچے تھے کہ ’’اولو الامر‘‘ کو معصوم ہونا۔ چاہیئے( فخر رازي، تفسير، تهران، دارالكتب العلمية، چاپ دوم، سطر 2، ج 10، ص 144) تو ہم انہیں بتلانا چاہتے ہیں کہ ہم شیعہ اثنا عشری کا عقیدہ یہی ہے۔ دوسرے یہ کہ اہل سنت صرف پیغمبر(ص) کو معصوم مانتے ہیں جبکہ اہل تشیع پیغمبر اکرم(ص) کے علاوہ 12 اماموں کو بھی معصوم مانتے و جانتے ہیں لہذا اس طرح یہ اجماع قائم ہوجاتا ہے کہ رسول خدا(ص) اور آئمہ اہل بیت(ع) کے علاوہ کوئی معصوم نہیں ہے جو اولو الامر بن سکے۔( حلي، كشف المراد، تحقيق آيت الله سبحاني، انتشارات مؤسسه امام صادق ـ عليه السلام ـ ، چاپ اول، ص 188)
لہذا مذکورہ بیان، قرآن مجید کی آیات اور فریقین کی نقل کردہ صحیح روایات کی روشنی میں امامت اور امت کی رہبری و ولایت رسول اللہ(ص) کے بعد علی اور آپ کے 11 بیٹوں سے متلعق ہے اور یہ وہ حق ہے جس کا ان حضرات کے علاوہ کوئی دوسرا حقدار نہیں ہے ۔پس یہ بات مسلّم و واضح ہے کہ آئمہ اطہار(ع) کی حقیقی اطاعت و اتباع ہی شیعہ مذہب کے مذہب حقہ ہونے کی سب سے روشن دلیل ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम