Code : 4863 23 Hit

قرآن مجید اور سنت و سیرت نبوی(ص) اسلامی تہذیب کے دو علمی ستون

یہ بحثیں قرآن کے صریح مطالعہ اور مفصل مباحثہ کے تحت نہیں تھیں بلکہ دلیل اور ثبوت کے عنوان سے یا عبرت اور نصیحت کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔ جو کہ حتی الامکان نہایت ہی غور و خوض کے ساتھ پیش کی گئی ہیں تاکہ ان میں کسی خطا یا غلطی کی کوئی گنجائش نہ رہ جائے اور یہ یقینی بات ہے کہ یہ امتیاز و خصوصیت تو قرآن ہی سے مخصوص ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے اپنے ایک مضمون میں اسلام کے عالمی نظرئے کی اہمیت اور اس کی بنیاد پر قائم و استوار اسلامی تہذیب و ثقافت پر گفتگو کی تھی جس میں ہم نے بیان کیا تھا کہ اسلام کا عالمی نظریہ یہ ہے کہ اس عالم اور ما فیہا میں صرف خداوند عالم کی ذات ہے اور تمام اشیاء اس کی قدرت کے مظاہر ہیں۔ اسی وجہ سے عبادت صرف اسی سے مخصوصی ہے۔چنانچہ اس طرز تفکر کے نتیجہ میں جو آئیڈیالوجی اور عالمی نظریہ وجود میں آتا ہے اسے توحیدی آئیڈیالوجی یا توحیدی عالمی نظرئے سے تعبیر کرتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں جو تہذیب اور ثقافت وجود میں آتی ہے اس میں انسان محور و مرکز کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ خدا محور و مرکز ہوتا ہے لہذا آج میں اس توحیدی اور اسلامی تہذیب کے دو اہم علمی ستون یعنی قرآن مجید اور سنت و سیرت پیغمبر اکرم(ص) ہیں آئیے گفتگو شروع کرنے سے پہلے ایک نظر ڈالتے ہیں گذشتہ مضمون کی طرف:
اسلام کا مخصوص عالمی نظریہ اور ایک زندہ تہذیب کا سنگ بنیاد
گذشتہ سے پیوستہ: قرآن کریم اور سیرت وسنت مرسل اعظم(ص) مسلمانوں کی تہذیبی سطح اور ثقافتی معیار کو بلند کرنے کے لئے دو بنیادی و حقیقی اور اہم ترین ذریعہ اور سرچشمہ ہیں۔ ان دو عظیم سرچشموں کے بیش بہا اور گراں مایہ تعلیمات و ہدایات کے ذریعے جو کہ اصول و عقائد حقوق و فرائض، علم و فن، ادبیات و ہنر، ضرب الامثال، سبق آموز داستانوں اور تواریخ و سیر پر مشتمل ہیں مسلمانوں کے افکار و خیالات تبدیل ہوگئے۔ ان کے تفکر و تدبّر کی سطح بلند ہوگئی اور مکمل تربیت پاگئی۔
ہم ان دو سرچشموں کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان پر توجہ دیتے ہیں تو واضح طور پر مختلف اقتصادی و معاشی مباحث اور سماجی و معاشرتی مسائل سے دوچار ہوتے ہیں اور ان میں کچھ نفسیاتی مباحث بھی ہمیں ملتے ہیں۔ یہ مباحث جوکہ سادہ و آسان زبان میں منطقی انداز سے اور دینی دلائل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں، بہت ہی دلچسپ موضوعات سامنے آتے ہیں مثال کے طور پر حسد و جلن سے جو کہ ایک اخلاقی مرض شمار کیا جاتا ہے، مقابلہ کرنے کے لئے ہم معتبر روایتوں میں دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا ہے کہ ’’جب تک حسد کرنے والا اپنے حسد کا اظہار نہیں کرتا اس وقت تک وہ گناہ نہیں شمار ہوتا‘‘۔ یہ بات بالکل صاف اور واضح ہے کہ یہ طریقہ عملی اور نفسانی جہاد کا بہترین ذریعہ اور بالکل سیدھا سادہ اور سہل و آسان ہے۔ کیونکہ جس وقت تک حاسد نے کسی زبانی اور عملی ردِّ عمل کا اظہار نہیں کیا ہے رفتہ رفتہ یہ مرض جو کہ انسانی فطرت کے خلاف اور بشری طبیعت کے برعکس ہے کم ہوکر دھیرے دھیرے ختم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح وسوسہ (غلط خیالات) کے بارے میں بھی حدیثوں میں آیا ہے کہ ’’وہم و وسوسہ (غلط خیالات اور بے جا شکوک کے شبہات) پر توجہ دے کر شیطان کو اس کا عادی نہ بناؤ اور اپنے اوپر مسلط نہ ہونے اور واقعی میں وسوسے کے علاج کا بہترین طریقہ اس کی طرف سے غفلت و لاپرواہی اور بے توجہی و بے التفاتی ہے‘‘۔
ذہنی و روحی اضطراب و بے چینی کے سلسلے میں بھی جو کہ ارتکابِ گناہ کے بعد پیدا ہوتا ہے یا سفر و مسافرت اور نقل و انتقال کی حالت میں حاصل ہوتا ہے جو کہ غالباً خود ہی حادثات کا سبب ہوتا ہے، توبہ و استغفار اور صدقہ و خیرات کے ذریعے جو کہ دفع بلا اور ردِّ آفات سمجھا گیا ہے آرام و سکون کا وسیلہ فراہم ہوتا ہے اور آخر کار جنسی تعلقات و روابط اور تناسلی رشتوں کے بارے میں بھی کوشش کی گئی ہے کہ عمر کے ابتدائی برسوں میں ہی رشتۂ ازدواج و عقدِ مناکحت کے ذریعے نیز عورت اپنے حرکات و سکنات اور بات چیت میں تحریک و ترغیب پیدا کرنے والے دلفریب انداز اور خواہش و اشتیاق کوجگانے والی چیزوں سے پرہیزکرکے ہر طرح کی جنسی بے راہ روی سے خود کو روک سکتی ہے۔
ہم اس بحث میں کسی صورت سے بھی اسلام کی گوناگوں تعلیمات کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں مکمل و مفصل بحث نہیں کرسکتے بلکہ صرف مختصر طور پر قرآنی مثالوں سے چند معمولی اشارے کرکے ناظرین کے ذہنوں کو ایک بہت ہی دلچسپ نکتے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
قرآن کریم اور سنّتِ پیغمبر(ص) میں بہت سی مثالیں بیان کی گئی ہیں اور یہ مثالیں دوسرے مقاصد کے لئے ذکر کی گئی ہیں اور کسی طرح سے بھی ان سے خود ان مثالوں کی تعلیم و تفہیم مقصود نہیں ہے۔
یہ مثالیں کبھی تو موجوداتِ عالم اور مناظرِ قدرت کی تفصیل بیان کرتی ہیں، کبھی آفتاب و ماہتاب کی گردش اور ستاروں کی سمت و رفتار کا ذکر کرتی ہیں اور کبھی عجائبات خلقت کا کوئی منظر بیان کرتی اور کتاب تخلیق کے کسی باب کا تذکرہ کرتی ہیں اور عقیدہ کے اثبات، عبرت و نصیحت کی تحصیل اور اخلاقی تربیت کے لئے بڑی نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں۔
قابل توجہ موضوع یہ ہے کہ یہ مثالیں عام طور پر آخری علمی نظریات سے مطابقت رکھتی ہیں اور کسی صورت سے بھی ان افکار و خیالات اور عقاید و نظریات کو جو کہ نزولِ قرآن کے زمانے میں اور اس کے بعد کے دور میں اہل علم اور دانشور کے لئے قابل قبول رہے ہیں نقل نہیں کرتیں۔ مختصر یہ کہ قرآنی دور کی تہذیب کسی حالت میں بھی قرآن و سنت پر اثر انداز نہیں ہوتی ہے اور یہ بات خود قرآن کے کلام الٰہی ہونے کی بہترین دلیل ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ قرآن کا لانے والا کوئی ایسا بشر نہیں ہے جو اپنے زمانے کے تہذیبی سرچشموں سے فیضیاب ہوا ہو۔
اب آپ مندرجہ ذیل چند مثالوں کی طرف توجہ فرمائیں:
ہم قرآن میں پڑھتے ہیں کہ:’’وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُھَا جَامِدَۃً وَّھِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ط مُنْعَ اللّٰہَ الَّذِیْ اَتْقَنَ کُلَّ شَیْئیٍ ،اِنَّہٗ خَبِیْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ‘‘۔(سورۂ نمل:۸۸)
ترجمہ:یعنی تم پہاڑوں کو دیکھ کر انہیں جامد (مضبوط جمے ہوئے) سمجھتے ہو حالانکہ یہ بادل کی طرح حرکت کرتے ہیں۔ یہ خدا کی صنعت و کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو بہت ہی حکمت و قدرت اور کمال و مہارت کے ساتھ مضبوط و مستحکم بنایا ہے بے شک جو کچھ بھی تم لوگ کرتے ہو اس سے وہ خوب واقف ہے۔
اورقرآن میں یہ بھی ہم پڑھتے ہیں کہ:’’ لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ‘‘۔(سورۂ یٰسین:۴۰)
ترجمہ: یعنی نہ تو سورج ہی چاند کو پاسکتا ہے اور نہ ہی رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ ہر ایک اپنے اپنے مدار میں گردش کررہے ہیں اور تیر رہے ہیں۔
اس آیت میں دن کو پہلے تصور کیا گیا ہے اور یہ خیال بظاہر خلقتِ زمین کے علمی و تحقیقی نظریئے سے مکمل طور پرمطابقت کرتا ہے۔ کیونکہ یہ سوزاں و شعلہ ور زمین جو کہ سورج سے ہی الگ ہوئی ہے کسی رات کا وجود نہیں رکھ سکتی بلکہ روشن و منور، دن کی حیثیت سے شمار کی جاتی ہے اور جب وہ بجھ گئی اور ٹھنڈی ہوگئی تو پھر دن اور رات وجود میں آئے۔ اس آیت کی دوسری عبارت کہ ’’آفتاب و ماہتاب(سورج اور چاند)اپنے مدار میں گردش کررہے ہیں‘‘۔ پوری طرح ’’فلسفۂ بطلموسی‘‘سے موافقت رکھتی ہے جو کہ آسمان اور آفتاب و ماہتاب کی اپنے اپنے مداروں کے ساتھ گردش کا قائل و معتقد تھا۔ حالانکہ فلسفہ و بطلیموس عہدِ قرآن کی عمومی تہذیب کا ایک جزو رہا ہے۔
اور اسی طرح ہم قرآن میں یہ بھی پڑھتے ہیں کہ:’’فَمَن یُرِدِ اللّٰہُ أَن یَہْدِیَہٗ یَشْرَحْ صَدْرَہٗ لِلإِسْلاَمِ وَمَن یُرِدْ أَن یُضِلَّہٗ یَجْعَلْ صَدْرَہٗ ضَیِّقاً حَرَجاً کَأَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِیْ السَّمَاء  کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللّہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ‘‘۔(سورۂ انعام:۱۲۵)
ترجمہ:یعنی پس خداجس شخص کو راہِ راست کی طرف ہدایت اور رہنمائی کرنا چاہتا ہے اس کے سینے کو اسلام(کی ودیعت )کے لئے کشادہ(پاک صاف)کردیتا ہے اور جس کو ضلالت و گمراہی میں چھوڑنا چاہتا ہے اس کے سینے کو تنگ اور دشوار گذارکردیتا ہے گویا کہ (قبول اسلام) اس کے لئے آسمان پر چڑھنے کے مترادف(محال اور مشکل) ہے۔
یہ خوبصورت مثال جس کی تائید و تصدیق آج کی سائنس بھی بخوبی کرتی ہے، قابل غور ہے اور کلام مجید میں ہم دیکھتے ہیں کہ:’’وَالسَّمَآءَ بَنَیْنٰھَا بِاَیْدٍ وَاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ‘‘۔(سورۂ ذاریات:۴۷)
ترجمہ:یعنی ہم نے آسمان کو اپنی قدرت سے (اپنے بل بوتے پر)بنایا اور بے شک ہم میں یہ بھی قدرت ہے کہ ہم اسے برابر وسعت دیتے رہیں۔
اس آیت سے پوری طرح یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ فضا بطور مسلسل توسیعی حالت رکھتی ہے اور اس حقیقت کو اس دورِ جدید میں (ابھی حال ہی میں)بلجیم کے ماہر علم ریاضی (Mathematican)’’لومتر‘‘ کے علاوہ جس نے کہ دنیا کی وسعت پذیری اور اجرام فلکی کی افزائش کا نظریہ پیش کیا اور اس نظریئے کا اظہار کرکے اسے قابل قبول قرار دیا کوئی اور نہیں جانتا تھا۔
ہم یہاں بس انھیں چند مثالوں پر اکتفا کرتے ہوئے ایک بار پھر آپ کو یہ یاد دلاتے ہیں کہ یہ بحثیں قرآن کے صریح مطالعہ اور مفصل مباحثہ کے تحت نہیں تھیں بلکہ دلیل اور ثبوت کے عنوان سے یا عبرت اور نصیحت کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔ جو کہ حتی الامکان نہایت ہی غور و خوض کے ساتھ پیش کی گئی ہیں تاکہ ان میں کسی خطا یا غلطی کی کوئی گنجائش نہ رہ جائے اور یہ یقینی بات ہے کہ یہ امتیاز و خصوصیت تو قرآن ہی سے مخصوص ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین