Code : 3511 11 Hit

فلسطین اتھارٹی کا امریکہ اور اسرائیل سے تمام معاہدے ختم کرنے کا اعلان

محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن اور فلسطین اتھارٹی اب اسرائیلی اور امریکی حکومت کے ساتھ سکیورٹی سمیت کسی معاہدے اور مفاہمت کا پابند نہیں ہے۔

ولایت پورٹل:اے پی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق1990 کی دہائی میں اوسلو معاہدے اور دیگر معاہدوں کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی تشکیل دی گئی تھی جس کے تحت وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے سیاسی، معاشی اور سلامتی تعلقات انجام دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو اب عالمی برادری کے سامنے قابض کی حیثیت سے اپنے ذمہ داریاں اٹھانا پڑے گی۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ فلسطین بطور رکن ریاست بین الاقوامی تنظیموں میں شامل ہونے کے لیے اپنی مہم کو تیز کرے گا اور اس سے امریکی دفاع کی مخالفت کی جائے گی۔
واضح رہے کہ محمود عباس کے بیان کے بعد تاحال امریکا کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
صہیونی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل میں حلف اٹھانے والی نئی حکومت کو فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی خود مختاری کا اطلاق کرنا چاہیے۔
فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی خود مختاری کا دعویٰ بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔
انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں یہودی آباد کاریوں کے معاملے پر کہا تھا کہ ’اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیلی قانون کو نافذ کریں اور صہیونیت کی تاریخ کا ایک اور شاندار باب لکھیں‘۔
بعد ازاں اردن کے بادشاہ نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ اگر فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے حصوں کو الحاق کرنے کا منصوبہ جاری رہا تو بڑے پیمانے پر تنازع جنم لے سکتا ہے۔
اسرائیل نے یہودی بستیوں اور وادی اردن کو الحاق کرنے کا وعدہ کیا ہے جو ایک طویل عرصے سے تعطل کا شکار امن عمل کے خاتمے کا عملی جواز بن سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اردن، مغربی ممالک کا اتحادی ملک ہے اور ان دو عرب ریاستوں میں سے ایک جس نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
دوسری جانب دنیا بھر کے 250 سے زائد فنکاروں اور مصنفین نے اسرائیل سے فلسطین کی مغربی پٹی غزہ کے محاصرے کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تسنیم

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम