Code : 2683 266 Hit

حضرت مسیح(ع)؛ اور عیسائیوں کے معروف فرقے

ویسے تو دیگر ادیان کے پیروکاروں کی طرح عیسائیوں کے بھی درجنوں فرقے ہیں بلکہ اگر غائر طریقہ سے مطالعہ کیا جائے جیسا کہ محققین نے بیان کیا ہے کہ تقریباً ۱۱۵ فرقے عیسائیوں میں آج پائے جاتے ہیں لیکن ان کے درمیان ۳ بڑے اور مشہور فرقے ہیں۔

ولایت پورٹل: مسیح، کے معنیٰ نجات دینے والے کے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کو عیسائی یا مسیحی کہاجاتا ہے۔ جناب عیسیٰ اللہ کے اولوالعزم پیغمبروں میں سے تھے جنہیں اللہ نے ایک علیحدہ شریعت اور علیحدہ کتاب عطا کی تھی آپ کی ولادت کے متعلق کئی اقول پائے جاتے ہیں چنانچہ تفصیل کے لئے اس لنک کو کلک کیجئے!
قرآن مجید اور جناب عیسیٰ(ع) کا تعارف

حضرت عیسیٰ(ع) اولوالعزم پیغمبر
قارئین کرام! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اللہ کے بھیجے تمام انبیاء کی نبوتیں عالمی نہیں تھیں بلکہ ان میں سے کچھ انبیاء تو کچھ خاص گروہ اور قبیلوں میں مبعوث ہوئے اور کچھ خاص قوم کے لئے تھے۔ چنانچہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء میں سے صرف پانچ انبیاء؛ یعنی حضرت نوح، ابراہیم، موسیٰ ، عیسیٰ اور پیغمبر اکرم علیہم السلام اجمعین ہی ایسے نبی تھے جن کی نبوتیں عالمی تھیں اور قرآن مجید نے انھیں اولوالعزم  کے نام سے یاد کیا ہے چونکہ ان کی رسالتیں اور دائرہ تبلیغ و ارشاد کسی ایک قوم یا خطہ کے رہنے والوں سے مخصوص و محدود نہیں تھا۔
عیسٰی(ع) ایک انسان
قارئین کرام! بعض لوگ اس طرح کی باتیں کرتیں ہیں کہ انبیاء الگ طرح کی مخلوق تھے۔ نہیں! بلکہ سارے کے سارے انبیاء کرام(ع) حضرت آدم علیہ السلام کی نسل سے تھے جو دوسرے انسانوں کی طرح کھاتے پیتے اور رہتے تھے وہ دیگر انسانوں کی طرح شادی بھی کرتے تھے ان کے بھی بچے ہوتے تھے ۔اور یہ اللہ کی ایک ثابت سنت ہے کہ ہمیشہ انسانوں کے درمیان سے ہی انبیاء کا انتخاب ہوتا رہا اب آج کل یہ بحث بہت چلتی ہے کہ کیا انبیاء کرام(ع) بشر ہیں یا نہیں؟
یاد رہے کہ یہ کوئی آج نیا پیش آنے والا شبہ نہیں ہے بلکہ یہ تو وہی دور جاہلی کا شبہ ہے جس کے ذریعہ کفار قریش سرکار رسالتمآب(ص) پر اعتراض کیا کرتے تھے کہ بھلا یہ کیسے نبی ہوسکتا ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا اور بازار میں چلتا ہے:’’ وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ‘‘۔(سورہ فرقان:۷) اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس رسول کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ کھانا بھی کھاتا ہے اور بازاروں میں چکر بھی لگاتا ہے۔
شاید یہ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اگر نبی بشر نہ ہوکر کوئی فرشتہ ہوتا تو شاید اس کو وہ مان لیتے ۔ جبکہ کسی دوسری مخلوق سے آنے والا مثلاً فرشتہ ہمارے لئے نمونہ و اسوہ نہیں بن سکتا۔ چونکہ انسان کو غور کرنا چاہیئے کہ انسان کے لئے آئیڈیل صرف وہی بن سکتا ہے جس کی ضرورتیں ہماری ضرورتوں کی مانند ہوں ،جس کی زندگی ہمارے جیسی ہو چونکہ فرشتہ کے پاس تو وہ سب چیزیں نہیں ہوتیں جن کی ہمیں ضرورت پڑتی ہے لہذا یہ ایک بے جا اعتراض ہے اور قرآن مجید نے ان لوگوں کو پھٹکار لگائی ہے جن کا مطالبہ یہ تھا کہ نبی کو فرشتہ یا کسی جنس سے ہونا چاہیئے تھا چنانچہ قرآن مجید نے تمام انبیاء(ع) کے انسان ہونے اور حضرت آدم(ع) کی اولاد میں سے ہونے کی بات کہی ہے۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’ وَلَوْ جَعَلْنَاهُ مَلَكًا لَجَعَلْنَاهُ رَجُلًا وَلَلَبَسْنَا عَلَیهِمْ مَا یلْبِسُونَ‘‘۔(سورہ انعام:۹) اگر ہم پیغمبر کو فرشتہ بھی بناتے تو بھی مرد ہی بناتے اور وہی لباس پہنچاتے جو مرد پہنا کرتے ہیں۔
پس انسان کے لئے نبی یا رسول کسی انسان کو ہی بنا کر بھیجا جاسکتا ہے کسی اور کو نہیں! لہذا جناب عیسیٰ علیہ السلام بھی اللہ کے نبی اور نسل آدم علیہ السلام سے ایک با شرف انسان ہیں۔
دوسری بات یہ کہ اصل خلقت کے اعتبار سے کوئی بھی ملک انسان سے افضل ہو نہیں سکتا اگر ملائکہ افضل و برتر ہوتے تو کبھی اللہ تعالیٰ آدم کے سامنے انھیں سجدہ کرنے کا حکم نہ دیتا۔
عیسیٰ کی الوہیت کے قائلین کو قرآن مجید کا جواب
عیسائیوں کا ایک گروہ شہر مدینہ میں رسول اکرم(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور انھوں نے جناب عیسیٰ کی بغیر باپ کے پیدا ہونے کو عیسیٰ کی الوہیت کی نشانی کے طور پر پیش کیا۔ اسی وقت آیت نازل ہوئی اور ان سے خطاب کرتے ہوئے ان کے مغالطہ کو اس طرح دور کرنے کی کوشش کی:’’ إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّـهِ كَمَثَلِ آدَمَ ۖ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ‘‘۔(سورہ آل عمران:۵۹) عیسٰی علیہ السّلام کی مثال اللہ کے نزدیک آدم علیہ السّلام جیسی ہے کہ انہیں مٹی سے پیدا کیا اور پھر کہا؛ ہوجا اور وہ ہوگیا۔
قرآن مجید نے واضح کردیا کہ اگر عیسیٰ کا بغیر باپ کے پیدا ہوجانا انکی الوہیت کی دلیل ہے تو ہم سب کے باپ آدم کے سلسلے میں تم لوگ کیا کہوگے کہ ان کے نہ تو باپ تھے اور نہ ماں!جبکہ ادیان عالم کے ماننے والوں میں سے کوئی بھی یہ نہیں مانتا کہ آدم(ع) خدا یا خدا کے بیٹےتھے؟
تمام انبیاء پر ایمان
قرآن مجید میں بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام(ع) سے یہ عہد و میثاق لیا کے وہ دیگر انبیاء کی تأئید کریں اور ان پر قلبی ایمان رکھیں نیز مؤمنین کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ انبیائے ماسبق پر ایمان رکھیں اور جو کتابیں ان پر نازل ہوئی ہیں ان کی تصدیق کریں لہذا حضرت عیسیٰ اللہ کے سچے نبی تھے اور آپ پر اللہ نے کتاب بھی نازل فرمائی یہ ہم سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے۔
عقیدہ تثلیث پر قرآن مجید کی تنقید
قارئین کرام! حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونے کے سبب کچھ عیسائیوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ حضرت مسیح اللہ کے بیٹے ہیں اور حضرت عیسیٰ کے آسمان پر چلے جانےکے بعد ان کے یہاں عقیدہ تثلیث پنپنے لگا جس کا ماحصل یہ ہے کہ غیر محسوس طاقتیں ۳ ہیں( باپ ،بیٹا اور روح القدس) ۔ ظاہر ہے یہ عقیدہ اسلام کے عقیدہ توحید کے بالکل مخالف ہے اگرچہ بعض عیسائی اسکالرس اور محققین نے اس عقیدہ کی کچھ اس انداز میں وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ وہ عقیدہ توحید کے منافی محسوس نہ ہو ۔ جبکہ عقیدہ توحید اتنا مقدس عقیدہ ہے جس تک کسی عقیدہ کی رسائی نہیں ہوسکتی۔
بائبل یا عہد جدید
اللہ تعالیٰ نے جو کتاب جناب عیسٰی علیہ السلام پر نازل کی تھی وہ زمانے کے گذرنے کے ساتھ ساتھ تحریف سے محفوظ نہ رہ سکی اور جو آج انجیل موجود ہے یہ وہ نہیں ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی۔ چنانچہ آج ۴ انجیلیں موجود ہیں جنھیں اناجیل اربعہ کہا جاتا ہے کہ جن کے مختلف رائٹرز ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد آپ کی زندگی کے کچھ پہلوؤں اور آپ کے اخلاقی بیانات کو اس میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور انھیں اناجیل اربعہ یا عہد جدید کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے چنانچہ اناجیل اربعہ کے نام یہ ہیں: انجیل متی، انجیل مرقس، انجیل لوقا اور انجیل یوحنا۔ اگرچہ دنیا میں تقریباً ۱۱۴ انجیلیں پائی جاتی ہیں لیکن کلیسا ان ۴ مذکورہ کو ہی اصلی و حقیقی انجیل مانتا ہے۔
اب جبکہ کلیسا ان مذکورہ ۴ اناجیل کو رسمی طور سے انجیل شمار کرتا ہے تو کیا ہم یہ یقین کرسکتے ہیں کہ یہ اصلی انجیل ہونگی؟ نہیں! چونکہ جو انجیل حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی وہ تو ایک تھی لیکن یہ باقی کہاں سے آئیں؟ جس کا سیدھا سا مطلب یہ ہے کہ وہ اصل انجیل اب عیسائیوں کے پاس بھی نہیں ہے البتہ یہ بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اصل انجیل کی کوئی عبارت ان کے اندر موجود نہ ہو ؟ ممکن ہے بہت سی عبارتیں ان میں اصل انجیل کی بھی ہوں۔
رسول اللہ(ص) کے بارے میں انجیل کی بشارت
قرآن مجید کے سورہ اعراف کی آیت ۱۵۷ میں آیا ہے کہ: پیغمبر امی کے ذکر کو یہودی اور مسیحی توریت و انجیل میں لکھا پاتے ہیں ۔
اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ(ص) کے زمانے تک توریت و انجیل میں سرکار(ص) کا نام نامی موجود تھا اور وہ یہودی اور عیسائی جو مکہ و مدینہ کے اطراف میں آکر آباد ہوئے تھے اس امید میں کے دیگر اقوام سے پہلے آپ پر ایمان لائیں گے اور آپ کی تصدیق کریں گے لیکن حالات کبھی اس طرح کروٹ لیں گے یہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایک عرصہ تک مدینہ و مکہ کے اطراف میں آکر آباد ہوجانے کے باوجود وہ ہدایت سے محروم رہ گئے بہر حال اگرچہ انجیل میں تحریف ہوچکی ہے لیکن پھر بھی سرکار کی رسالت اور آپ کے اللہ کے رسول(ص) ہونے کی  بشارت کو آج بھی ان میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔
عیسائیوں کے معروف فرقے
ویسے تو دیگر ادیان کے پیروکاروں کی طرح عیسائیوں کے بھی درجنوں فرقے ہیں بلکہ اگر غائر طریقہ سے مطالعہ کیا جائے جیسا کہ محققین نے بیان کیا ہے کہ تقریباً ۱۱۵ فرقے عیسائیوں میں آج پائے جاتے ہیں لیکن ان کے درمیان ۳ بڑے اور مشہور فرقے ہیں:
۱۔ کیتھولک
۲۔ پروٹسٹنٹ
۳۔آرتھوڈوکس
اور ان میں بھی سب سے معروف اور روایتی فرقہ کیتھولک ہے جن کے مذہبی پیشوا کو پاپ کہا جاتا ہے اور کیتھولک ہی اپنے کو مسیحیت کے کلیسا کا حقیقی نمائندہ مانتا ہے۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम