Code : 2370 73 Hit

لبنانی حکومت حزب اللہ کی حامی ہے،اس کی مالی امداد بند کر دی جائے؛ صہیونی حکام کا مغربی ممالک سے مطالبہ

صہیونی حکام نے امریکا اور دیگر مغربی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک لبنان کی حکومت حزب اللہ کے خلاف کارروائی نہیں کرتی ہے اس کی مالی امداد بند کر دی جائے۔

ولایت پورٹل:ایکسیوز نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں امریکہ اور لبنان کے قریبی روابط رہے ہیں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے برسرکار آنے کے بعد امریکہ میں لبنان کی مالی امداد بند کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں ،رپورٹ کے مطابق امریکہ  کی جانب سے کی جانے والی امداد لبنانی فوج کو مضبوط کرنے پر صرف ہوتی ہے ،امریکا نے پچھلے سال سو ملین ڈالر سے زائد لبنان کی امداد کی ہے،ایکسیوز نے اپنی رپورٹ میں مزید لکھا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے بہت سارے اراکین اس ملک کی مالی امداد کو بند کرنے کے حامی ہیں لیکن پینٹاگن اور امریکی وزارت خارجہ اس امداد کو جاری رکھنا چاہتے ہیں ،امریکی ذرائع ابلاغ نے صہیونی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے یہ مطالبہ لبنان میں شروع ہونے والے حالیہ مظاہروں سے پہلے کیا گیا تھا ،قابل ذکر ہے کہ لبنان کے کئی شہروں میں  ملک میں جاری معاشی اور اقتصادی حالت کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں جن میں  مظاہرین بنیادی  اصلاحات اور بدعنوان  عہدیداروں کو ہٹائے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اسی سلسلے میں  منگل کی رات کو لبنان کے وزیر اعظم سعد الحریری نے مظاہروں پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے تاہم لبنان کے صدر میشل عون نےان  کا استعفی قبول کرنے کے باوجود ان سے سے اپیل کی ہے ہے کہ وہ نئی کابینہ تشکیل پانے تک اپنے عہدے پر باقی رہیں، صہیونی حکام نے دعوی کیا ہے کہ حزب اللہ اللہ لبنان کی فوج میں اثرانداز ہو چکی ہے اور اس ملک کی فوج کو کی جانے والی امداد دراصل اس تنظیم کو مضبوط کرنے میں صرف ہوتی ہے، اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ صہیونی وزارت خارجہ نے کچھ ہفتے پہلے کئی ملکوں میں اپنے سفیروں کو یہ پیغام دیا کہ وہ مغربی ممالک سے لبنان کی مالی امداد منقطع کرنے کا مطالبہ پر مبنی اسرائیل کا پیغام مغربی حکام تک پہنچا دیں، صیہونی حکام  کا کہنا ہے ہے حزب اللہ لبنان کی حکومت کا حصہ ہے اور حکومت جب تک اس تنظیم کے میزائل کارخانوں کو بند نہیں کر دیتی ہے اس کی امداد روک دی جائے، صہیونی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ٹرمپ حکومت کے ساتھ تبادلہ خیال کر رہے ہیں کہ کس طریقے سے حزب اللہ کی مالی امداد بند کی جائے اور انہوں نے واشنگٹن کو ایسے افراد پر  بھی پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے جوحزب  اللہ سے وابستہ ہیں ،یاد رہے کہ جب سے حزب اللہ نے شام میں دہشتگرد گروہوں کے ساتھ مقابلے میں کامیابی حاصل کی ہے تب سے امریکہ کی جانب سے اس تنظیم پر دباؤ ڈالا جارہا ہے اور انہوں نے اس تنظیم کے ساتھ تعاون کے الزام میں لبنان کے کئی بینکوں اور کئی افراد  کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے ،امریکہ  اور صہیونی  نے حزب اللہ کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یورپی ممالک پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ اس تنظیم کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیں، یاد رہے کہ صیہونیوں کے جانب سے یہ مطالبہ ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جبکہ حزب اللہ لبنان کی ایک اہم سیاسی تنظیم ہے اور امریکہ کے اس تنظیم کے خلاف ہر طرح کی  زہر افشانیوں  کے باوجود اس نے لبنانی پارلیمنٹ میں اچھی خاصی تعداد میں سیٹیں حاصل کرلیں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम