Code : 2404 55 Hit

اردن کی عوام کی نظر میں اسرائیل ان کاناقابل برداشت دشمن ہے: صیہونی اخبار

صیہونی اخبار نے لکھا ہے صلح کا معاہدہ ہوئے پچیس سال ہوچکے ہیں لیکن ادرن کی عوام ابھی تک اسرائیل کوناقابل برداشت دشمن سمجھتی ہے۔

ولایت پورٹل:صیہونی اخبار ہارٹزنےاپنی ایک رپورٹ میں  اسرائیل اور اردن کے درمیان روابط کا  ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے  دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدہ ہوئے دو دہائیاں بیت چکی ہیں لیکن  اسرائیل ایسے کام کرتا ہے کہ اردن کی عام فکر میں یہ ناقابل برداشت دشمن تصور کیا جاتا ہے،رپورٹ میں مزید آیا ہے کہ اردن کی حکومت اس وقت  دو نظریوں کے درمیان  پھنسی ہوئی ہے  ایک صیہونی کی یکطرفہ شدید حمایت کا نظریہ جس کے موجد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں اور دوسرا اردن کی عوام کا نظریہ جو شدت کے ساتھ اسرائیل سے ہر طرح کےتجارتی اور سفارتی تعلقات ختم کرنے کے خواہاں ہیں،اردن کی عوام دیکھ رہی ہے کہ صیہونی کیسے غزہ اور مغربی پٹی کے مظلوم فلسطینوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں،دوسری طرف ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور اسرائیل مسجد اقصی کو مٹانا چاہتے ہیں ،اس کے علاوہ اردن اور اسرائیل کے امن معاہدہ پر عمل بھی نہیں ہوا ہے،قابل ذکر ہے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کے بعد اردن کی معیشتی  حالت بد تر ہوگئی ہیں ،یہاں بے روزگاری میں اضافہ ہوگیا ہے،امن معاہدہ میں ذکر ہونے والے منصوبوں پر عمل نہیں ہوا ہے، فلسطینی بازار میں اردن کا سامان نہیں جارہا ہے،صیہونی اخبار نے مزید  لکھا ہے کہ اردنی عوام پوچھتی ہے کہ امن معاہدہ کا پھل کب نصیب ہوگا،اردن کے لوگ میں صیہونیوں کے ہاتھوں بے گناہ فلسطینیوں کے کچلے جانےپر اسرائیل کے خلاف غم وغصہ کی ایک لہر پائی جاتی ہے،یہ لوگ مشرقی بیت المقدس میں صیہونی آبادکاری کو بھی دیکھ رہے ہیں جو اوسلو معاہدہ کی کھلی خلاف ورزی ہے،یہ سب امور سبب بنے ہیں کہ اردن کی عوام صیہونیوں کو دشمن کی نظر سے دیکھے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम