Code : 4028 24 Hit

اسرائیل کے بارے میں رہبر ایران کے پیغامات ہمارے قوانین کے خلاف نہیں ہیں: ٹویٹر

سماجی نیٹ ورک "ٹویٹر" کے ایک عہدیدار نے صیہونی پارلیمنٹ ممبروں کو مخاطب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صہیونی حکومت کے بارے میں ایرانی رہبر کے پیغامات اس سوشل نیٹ ورک کے قواعد کی خلاف ورزی نہیں کرتے ہیں۔

ولایت پورٹل:صہیونی اخبار یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق "ٹویٹر" کے ایک عہدیدار نےصیہونی حکومت کی تباہی سے متعلق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر سے کیے جانے والے ٹویٹس کو حذف نہ کرنے کے خلاف صیہونی پارلیمنٹ کے ممبروں کے احتجاج پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ پیغامات ٹویٹر کے قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرتے ہیں اس وجہ سے حذف نہیں کیا گیا ہے،ٹویٹر عہدیدار نے گذشتہ روز (بدھ کو) صیہونی پارلیمنٹ کے نمائندوں کو بتایا کہ صیہونی حکومت کے بارے میں ایرانی رہبرکے ٹویٹس ، نفرت انگیز قوانین منتشر کرنے پر مبنی اس سوشل نیٹ ورک کے قوانین کی خلاف ورزی اور ٹویٹر نیٹ ورک کی نفرت انگیز بیانات کو نشر کرنے کے سلسلہ میں موجود پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کرتے ہیں بلکہ ان بیانات کو خارجہ پالیسی کے میدان میں طاقت  کا مظاہرہ سمجھا جاتا ہے ۔
نورڈک ممالک اور صیہونی حکومت کے لیےٹویٹر پالیسی کے سربراہ الیوا پیٹرسن نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پوری دنیا میں امیگریشن ، انضمام اور یہودیوں کی منتقلی سے متعلق صیہونی نیسٹ کمیٹی کو بتایا کہ عالمی رہنماؤں کے بارے میں ہمارا ایک نقطہ نظر ہے جس کے تحت  سرکاری شخصیات کے ساتھ براہ راست تعامل یا موجودہ سیاسی امور پر تبصرہ کرنا  یا فوجی معاشی امور پر خارجہ پالیسی کو مضبوط بنانا ہمارے قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ٹویٹر کے عہدیدار کا یہ بیان ارسن آسٹوروسکی نامی صہیونیو ں کےحامی کارکن کے ایک سوال کے جواب میں  سامنے آیا ہے جس نے اس بات کو اجاگر کیا تھا کہ ٹویٹر نے حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ ٹویٹ کے ساتھ ٹیگ کرنے کے ساتھ اس بات پر زور دیا ہے کہ انہوں نے اس سوشل نیٹ ورک کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے جبکہ ایرانی رہنما کے بہت سے ٹویٹسپر اس نیٹ ورک نے کچھ نہیں کیا جنہوں نے صیہونی حکومت کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔






0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین