Code : 1125 66 Hit

امام حسین(ع) کا راستہ

سرکار سید الشہداء(ع) کے مقصد کی مکمل آشنائی اور پھر اس کے بعد اس پر جان و دل سے عمل ہی ہمیں سید الشہداء(ع) سے قریب کرسکتا ہے۔ اور ہمیں آپ کے راستہ کا سچا راہی بنا سکتا ہے ورنہ دعوے سے کوئی حسینی نہیں ہوسکتا۔

ولایت پورٹل:  قارئین کرام! ہم آج یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم حسینی ہیں اور ہم راہ حسین(ع) پر چلنے والے ہیں لیکن ہمیں آج یہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ امام حسین(ع) کا راستہ کیا تھا اگر آپ امام حسین(ع) کے اس خط کے ایک جملہ کی طرف توجہ کریں جو آپ نے اپنے بھائی محمد حنفیہ کے نام تحریر کیا تھا:’’إنما خرجت لطلب الإصلاح فی أمۃ جدی‘‘۔میرے قیام کا مطلب اپنے جد کی امت کی اصلاح ہے اور دوسرا جملہ یہ تھا جو آپ کے مقصد کا مکمل آئنہ دار ہے:’’أرید أن آمر بالمعروف وأنهی عن المنکر‘‘۔کہ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ارادہ رکھتا ہوں۔
قارئین کرام! اصلاح امت ایک مقام اور منصب ہے چونکہ آپ قرآن ناطق کو صرف قرآن صامت کے سائے میں ہی سمجھ سکتے ہیں اور اسی طرح قرآن صامت کی معرفت کا صحیح پیمانہ قرآن ناطق کے فرامین و بیانات ہیں۔چنانچہ قرآن مجید میں ان دونوں مقاصد کی طرف اشارہ ہوا ہے۔
’’وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ‘‘۔(سورہ آل عمران:۱۰۴)۔ اور تم میں سے ایک گروہ کو ایسا ہونا چاہئے جو خیر کی دعوت دے،نیکیوں کا حکم دے برائیوں سے منع کرے اور یہی لوگ نجات یافتہ ہیں۔
اب آپ نے ملاحظہ کیا کہ امام حسین(ع) کس راستہ کے مسافر تھے۔ آپ راہ اصلاح کو بطور احسن طئے کرنے والے اور امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے تھے۔
یہ ہر ایک مؤمن کا مقصد ہونا چاہیئے کہ اس کی زندگی ان دو مقاصد سے عبارت ہو ورنہ اسے اپنے کو امام حسین(ع) کا پیروکار کہنے اور آپ کا چاہنے والا کہنے کا حق نہیں ہے۔
سرکار سید الشہداء(ع) کے مقصد کی مکمل آشنائی اور پھر اس کے بعد اس پر جان و دل سے عمل ہی ہمیں سید الشہداء(ع) سے قریب کرسکتا ہے۔ اور ہمیں آپ کے راستہ کا سچا راہی بنا سکتا ہے ورنہ دعوے سے کوئی حسینی نہیں ہوسکتا۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम