Code : 1247 63 Hit

ملک شام کے مقدس مقامات

واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین(ع) کے بعد جب اسیران اہل حرم شام پہونچے اور لوگوں نے آپ حضرات کو خارجی کہہ کر پکارا تو امام سجاد(ع) اور حضرت زینب(س) نے پوری ہمت کے ساتھ دفاع کیا اور لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کیا اور ساتھ میں یزید اور اس کے باپ معاویہ کی اصلیت بھی بتلائی ۔اس کے بعد سے مسلسل اس زمین پر محبت اہل بیت(ع) کی کھیتی اگنے لگی چنانچہ آج شام میں بھی دیگر اسلامی ممالک کی طرح شیعہ ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں اور یہاں بہت سے مقدس مقامات پائے جاتے ہیں کہ اندرون و بیرون ملک سے لاکھوں لوگ ہر سال یہاں زیارت کرنے آتے ہیں۔

ولایت پورٹل: حال حاضر میں جب عالم اسلام میں اہم  حساس اور اسٹراٹیجک علاقہ جات کی بات ہوتی ہے تو ان میں ایک نام ملک شام کا بھی آتا ہے ۔ملک شام جغرافیائی اعتبار سے بحرہ روم کے حد فاصل پر واقع ہے۔قبل از اسلام یہ سرزمین مشرقی روم کے تحت اختیار تھی لیکن شام میں مسلمانوں کی فتح کے بعد یہ علاقہ مسلمانوں کو نصیب ہوا۔
اگرچہ ابتداء میں شام کی فتح۔ جیسا کہ کتب تواریخ میں مشہور ہے۔ ۱۲ ہجری یعنی رسول خدا(ص) کے وصال کے بعد ابوبکر کے زمانہ خلافت میں یزید بن ابو سفیان کی سرکردگی میں ہوئی اور اس کے مرنے کے بعد اس کے بھائی معاویہ بن ابی سفیان کو وہاں کا گورنر بنا دیا گیا۔
خلفیہ سوم کی موت کے بعد  جب لوگوں نے امیرالمؤمنین(ع) کے ہاتھ پر بیعت کی تو آپ نے جن شرائط کی بنیاد پر خلافت قبول کی تھی ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ ہر اس شخص اور والی سے بیت المال کا حساب لیں گے جس نے بھی بیت المال میں خرد بُرد کر اسے برباد کیا ہے اور ظاہر ہے کہ امیر شام جو ایک عرصہ سے شام کا حاکم تھا اس کا حال تاریخ داں طبقہ سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔
غرض اور کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اہل شام نے ابتداء سے جن لوگوں سے اسلام کا پیغام دریافت کیا تھا انہیں خود بھی اسلام پر زیادہ یقین نہیں تھا اور اس پر بھی طرہ یہ تھا کہ قرآن مجید میں اہل بیت(ع) کے لئے نازل ہونے والی آیات کو بنی امیہ نے اپنی شان میں نازل ہونے کے لئے بہت سے جعلی و درباری راویان حدیث پال رکھے تھے یہی وجہ تھی کہ مسلسل شام کے سارے علاقہ کی مساجد کے منبروں سے علی(ع) پر سب و شتم کیا جاتا تھا۔
لیکن واقعہ کربلا اور شہادت امام حسین(ع) کے بعد جب اسیران اہل حرم شام پہونچے اور لوگوں نے آپ حضرات کو خارجی کہہ کر پکارا تو امام سجاد(ع) اور حضرت زینب(س) نے پوری ہمت کے ساتھ دفاع کیا اور لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کیا اور ساتھ میں یزید اور اس کے باپ معاویہ کی اصلیت بھی بتلائی ۔
اس کے بعد سے مسلسل اس زمین پر محبت اہل بیت(ع) کی کھیتی اگنے لگی چنانچہ آج شام میں بھی دیگر اسلامی ممالک کی طرح شیعہ ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں اور یہاں بہت سے مقدس مقامات پائے جاتے ہیں کہ اندرون و بیرون ملک سے لاکھوں لوگ ہر سال یہاں زیارت کرنے آتے ہیں:
حرم حضرت زینب کبرٰی(س)
بی بی زینب(س) کا حرم شہر دمشق میں واقع ہے اور آج اس پورے علاقہ کو زینبیہ کہا جاتا ہے۔ حضرت زینب(س) کی زیارت کرنے کے لئے دنیا بھر سے آپ کے محب کافی تعداد میں جاکر علی(ع) کی بیٹی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں کہ اگر علی کی شیر دل بیٹی نے بنی امیہ کے سامنے وہ حماسہ خلق نہ کیا ہوتا تو آج اصلی اسلام کا کوئی نام لیوا موجود نہ ہوتا۔
حرم حضرت رقیہ بنت امام حسین(ع)
حضرت رقیہ امام حسین علیہ السلام کی وہ ۴ برس کی بیٹی تھی جو اپنے باپ کی شہادت کے بعد دیگر اسیران حرم کے ساتھ قید ہوکر شام آئی تھیں ۔تاریخ گواہ ہے کہ اس بی بی پر اتنے ظلم یزید و یزیدیوں نے ڈھائے کہ بچی قید خانہ شام میں ہی دم توڑ گئی اور اسی(قید خانہ) جگہ دفن کردی گئیں۔
حجر بن عدی کی آرامگاہ
جناب حجر بن عدی رسول خدا(ص) کے با وفا اصحاب میں سے تھے رسول اللہ(ص) کے وصال کے بعد اہل بیت(ع) سے ملحق رہنے والے لوگوں میں سے ایک حجر بن عدی بھی تھے چنانچہ معاویہ کے ہاتھوں شہید ہوئے اور انہیں وہیں سپرد خاک کردیا گیا۔شیعوں نے رسول خدا و علی(ع) کے اصحاب خاص کے لئے روضے تعمیر کرکے ان میں ضریح بنا رکھی تھی اور بڑی عقیدت کے ساتھ زیارت کے لئے جایا کرتے تھے لیکن شام کی موجودہ کیفیت میں داعشی درندوں کے ہاتھوں جہاں دیگر اسلامی و تاریخی میراث و آثار کو نقصان پہونچا ہے وہیں جناب حجر کا روضہ بھی ان کی سیاہ کاریوں سے محفوظ نہ رہ سکا۔
مسجد اویس قرنی
ملک شام کے شہر رقہ میں شیعوں کی ایک اہم اور یادگار عمارت مسجد اویس قرنی ہے  چنانچہ جناب عمار اور جناب اویس کہ جو سن ۲۷ ہجری کو صفین کی جنگ میں امیر شام کے ہاتھوں شہید ہوئے اسی مسجد میں مدفون ہیں۔اور جیسا کہ پہلے بیان کیا کہ شام میں جہاں دوسری اہم تاریخی سرمائے کو نقصان پہونچایا گیا انہیں میں ایک یہ شاندار اور قدیم مسجد بھی تھی جسے ۲۰۱۴ میں کئی بم دھماکے کرکے اڑا دیا گیا۔
مسجد نقطہ
قارئین کرام! شام کے تاریخی شہر حلب میں ایک اہم اور تاریخی مسجد ہے جسے مسجد نقطہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس مسجد میں وہ پتھر بھی ہے کہ برواتے جو امام حسین علیہ السلام کے مقدس خون میں لت پت تھا جس کے سبب ہر سال لاکھوں شیعہ اس مسجد کی زیارت کو حاضر ہوتے ہیں۔۹۰ کی دہائی میں حلب میں شامی فوج کے ساتھ مقامی لوگوں کی کچھ جھڑپے ہوئیں جس میں اس مسجد کا صدر دروازہ اور فصیل مکمل طور پر تباہ ہوگئی تھی جسے بعد میں ۱۹۹۱ء میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम