Code : 2664 145 Hit

قرآن مجید اور جناب عیسیٰ(ع) کا تعارف

اگر ہم قرآن مجید سے ہٹ کر خود تحریف شدہ انجیل(بائبل) سے حضرت مسیح علیہ السلام کے حالات زندگی ، آپ کے اقوال و افعال اور کارکردگی و خدمات کے بارے میں جاننا چاہیں تو یہ بہت بڑی بھول ہوگی چونکہ جس طرح حضرت عیسیٰ(ع) کے چرخ چہارم پر چلے جانے کے بعد ان کی شریعت کو مسخ کردیا گیا ان کی کتاب میں تحریف کردی گئی تو ظاہر سی بات ہے کہ تحریف شدہ کتاب سے ہم حضرت عیسیٰ(ع) کی زندگی کی حقیقت کو شفاف طور پر نہیں سمجھ سکتے۔ اگرچہ قرآن مجید میں محوری کردار سرکار ختمی مرتبت(ص) کا ہے اور آپ ہی کلام خدا کے اصلی مخاطب ہیں لیکن اللہ رے بلاغت قرآن، اس کتاب نے جب بھی جناب عیسیٰ(ع) کے بارے میں کوئی بات کی ہے اس کا انداز ہی نرالا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! تمام مسلمانان عالم کا یہ متفق و مسلّم عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع بشر کے لئے 1 لاکھ 24 ہزار انبیاء کرام علیہم السلام کو مبعوث کیا کہ جن میں 5 انبیاء الوالعزم اور صاحب شریعت تھے جن کے اسمائے گرامی یہ ہیں: حضرت نوح(ع)، حضرت ابراہیم(ع) حضرت موسیٰ (ع) حضرت عیسیٰ (ع) اور سرکار ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفیٰ(ص) یعنی یہ وہ رسول تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے الگ دین اور علیحدہ کتاب دے کر بھیجا۔
جیسا کہ بیان ہوا اولولعزم پیغمبروں کی تعداد 5 ہے انھیں میں سے ایک حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قوم بنی اسرائیل کے نبی تھے اور ایک عرصہ دراز تک مشقت میں گھری انسانیت کو نکالنے اور انھیں نجات دینے کے لئے آپ کی نوید آپ سے پہلے انبیاء (ع) نے دی۔
یوں تو جناب عیسیٰ(ع) کے ماننے والے دنیا میں بہت بڑی تعداد میں موجود ہیں اور دنیا کے عظیم ذخائر بھی ظاہراً یہود و نصارا کے ہی پاس ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ مکتب دنیا میں بہت پھلا پھولا اور آج بھی تبشیری مومنٹ کے نام سے دنیا کے اکثر حصوں میں اس کے فعال اور متحرک کارکنان و مبلغین موجود ہیں۔
دوسری اہم بات اور جس مقصد کے لئے یہ مقالہ تحریر کیا جارہا ہے چونکہ عیسائی مذہب کے پیروکار 25 دسمبر کو جناب عیسیٰ (ع) کی ولادت کے طور پر مناتے ہیں اگرچہ آپ کی ولادت کا 25 دسمبر میں ہونے کا کوئی پختہ ثبوت تو تاریخ کے دامن میں نہیں ہے بہر حال ایک بڑی تعداد میں لوگ اس دن کو اپنی عید کے طور پر مناتے ہیں لہذا ہم بھی ان کی عقیدت کا خیال رکھتے ہوئے اپنے آج کے مضمون کو جناب عیسیٰ(ع) سے مخصوص کررہے ہیں۔
قرآن مجید اللہ کی آخری اور قیامت تک کے لئے باقی رہنے والی کتاب ہے اس کی حفاظت کی ضمانت خود اللہ تعالیٰ نے لی ہے اسی وجہ سے جس جس چیز کا تذکرہ قرآن مجید نے کیا وہ حق ہے یہ ہمارا عقیدہ ہے۔ جن افراد و ہستیوں کا تذکرہ قرآن مجید نے کیا ان میں ایک نام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی ہے۔
قارئین کرام! اگر ہم قرآن مجید سے ہٹ کر خود تحریف شدہ انجیل(بائبل) سے حضرت مسیح علیہ السلام کے حالات زندگی ، آپ کے اقوال و افعال اور کارکردگی و خدمات کے بارے میں جاننا چاہیں تو یہ بہت بڑی بھول ہوگی چونکہ جس طرح حضرت عیسیٰ(ع) کے چرخ چہارم پر چلے جانے کے بعد ان کی شریعت کو مسخ کردیا گیا ان کی کتاب میں تحریف کردی گئی تو ظاہر سی بات ہے کہ تحریف شدہ کتاب سے ہم حضرت عیسیٰ(ع) کی زندگی کی حقیقت کو شفاف طور پر نہیں سمجھ سکتے۔ اگرچہ قرآن مجید میں محوری کردار سرکار ختمی مرتبت(ص) کا ہے اور آپ ہی کلام خدا کے اصلی مخاطب ہیں لیکن اللہ رے بلاغت قرآن، اس کتاب نے جب بھی جناب عیسیٰ(ع) کے بارے میں کوئی بات کی ہے اس کا انداز ہی نرالا ہے۔
قارئین کرام! قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اسم گرامی 25 مرتبہ اور آپ کے متعدد القاب جیسا کہ مسیح، روح اللہ وغیرہ 13 مرتبہ قرآن مجید میں آئے ہیں۔
اسلامی تواریخ کے مطابق حضرت عیسیٰ(ع) حضرت آدم کے زمین پر تشریف لانے کے تقریباً 5585 برس کے بعد اور آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ(ص) کی ولادت سے 500 برس پہلے کے نبی ہیں۔
البتہ آپ کی ولادت کس جگہ ہوئی اس کے بارے میں کسی حتمی قول کو اختیار نہیں کیا جاسکتا چونکہ شیعہ منابع میں 3 طرح کی روایات اکابر علماء نے نقل کی ہیں جیسا کہ علامہ مجلسی کے ایک قول کے مطابق آپ کی ولادت’’ بیت لحم‘‘ میں ہوئی جو اس وقت فلسطین میں واقع ہے جبکہ دوسری روایت جو ابو حمزہ ثمالی نے امام سجاد علیہ السلام سے نقل کی ہے آپ کی ولادت کربلا میں ہوئی جہاں امام حسین علیہ السلام مدفون ہیں۔ جبکہ شیخ مفید کی روایت کے مطابق جناب عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کوفہ کی مسجد براثا میں ہوئی۔(بحارالأنوار،ج 14، ص 208) اور (تهذيب‏‌الأحكام،ج6 ، ص 73 نیز وسائل الشیعۃ،ج 14، ص 517) اور (بحارالأنوار،ج14، ص 210)
جناب عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ کا نام نامی جناب مریم تھا جو اپنے زمانے کی ایک بافضیلت تقویٰ خاتون تھیں اور ان کا نام نامی قرآن مجید کے 12 سوروں اور 34 آیات میں صراحت کے ساتھ آیا ہے۔
قرآنی آیات کے تناظر میں جناب مریم کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ 114 سوروں میں سے 1 کا نام ہی سورہ مریم ہے۔
قرآنی آیات کی روشنی میں جناب عیسیٰ(ع) نے گہوارے سے ہی لوگوں سے باتیں کی اور اپنی ماں کے پاکدامن ہونے کا اعلان کیا، آپ مردوں کو زندہ کردیتے تھے اسی وجہ سے آپ کو روح اللہ کہا جاتا تھا۔
جناب عیسیٰ کے بارے میں اسلامی تواریخ میں ملتا ہے کہ جب آپ 30 برس کے ہوگئے تو آپ کو اللہ نے کار تبلیغ انجام دینے کا حکم دیا جس کے بعد آپ مسلسل بنی اسرائیل کو خدائے واحد کی طرف بلاتے رہے۔ ابھی صرف 5 برس تبلیغ ہی کی تھی کہ اس زمانے کے یہودی آپ کی جان کے دشمن ہوگئے اور 35 برس کی عمر میں آپ کو قتل کرنے سازش کر بیٹھے اور آپ کے قتل کے لئے بہت سے جاسوس مقرر کئے  گئے اور آخر کار اللہ کا ارادہ آپ کو آسمان پر اٹھا لینے پر تمام ہوا۔ اور آپ ایک طولانی غیبت میں چلے گئے اور آپ اس وقت سے آج تک غیبت میں ہیں اور اس وقت ظہور کریں گے جب منجی بشریت حضرت صاحب العصر(عج) تشریف لائیں گے۔
تحریف شدہ انجیل کے برخلاف قرآن مجید کا دیگر امتیاز یہ ہے کہ قرآن نے جتنی مرتبہ بھی جناب عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کیا ہے آپ کو فضیلت و کرامت کے ساتھ  یاد کیا ہے چنانچہ آپ کے جملہ القاب جیسا کہ ’’ عبد اللہ‘‘ ’’کلمۃ اللہ‘‘  ’’روح اللہ‘‘ اور ’’روح القدس‘‘ جیسے افتخارات کے ساتھ قرآن مجید نے آپ کا تعارف کروایا ہے۔





0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین