Code : 3430 13 Hit

رسول اکرم(ص) اور یاد خدیجہ

رسول خدا (ص) نے حضرت خدیجہ (س) کو اس وقت بھی یاد کیا تھا جب علی (ع) فاطمہ(س) کا رشتہ مانگنے کے لئے سرکار کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے فرمایا تھا: اے کاش آج میری بیٹی کی والدہ بھی اس خوشی کے موقع پر موجود ہوتی۔ اور جونہی حضرت خدیجہ کا نام زبان پر آیا رسول خدا نے گریہ کرنا شروع کر دیا اور فرمایا:۔خدیجہ کے جیسا کون ہے؟جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا تو اس نے میری تصدیق کی اور اس نے دین خدا کی خاطر میری مدد کی اور اپنے مال کے ذریعے سے دین کی تبلیغ و ترقی میں میرا تعاون کیا، خداوند نے مجھے حکم دیا ہے کہ خدیجہ کو جنت میں ایسے گھر کی خوشخبری دوں کہ جس میں کسی قسم کی کوئی سختی اور نا آرامی نہیں ہوگی۔

ولایت پورٹل: جن شیعہ اور اہل سنت علماء و دانشوروں نے سیرت ام المؤمنین جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا پر خامہ فرسائی کی ہے  انہوں رسول اللہ(ص) سے اس بی بی کی شان میں بے پناہ احادیث نقل کی ہیں  اگرچہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ہم لوگ اپنے مرحومین کو بھول جاتے ہیں اور پھر ہمارے لئے وہ ایسے بن جاتے ہیں جیسے وہ کبھی ہمارے درمیان تھے ہی نہیں لیکن اس کے برخلاف جب تک رسول اللہ(ص) حیات رہے آپ بی بی خدیجۃ الکبریٰ کو مسلسل یاد کیا کرتے تھے اور ہر ہر موقع پر یہ بی بی کے نہ ہونے کا افسوس فرماتے اور بسا اوقات فرط محبت میں گریہ کرنے لگتے تھے آئیے کچھ چیزوں کی طرف ذیل میں مطالعہ کرتے ہیں:
صاحب کتاب مستدرک سفینۃ البحار نے کہا ہے: مختلف روایات میں نقل ہونے والے حضرت خدیجہ (س) کے فضائل بہت زیادہ ہیں۔ ان روایات پر غور کرنے سے انکی عظمت اور معرفت سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ (1)
رسول خدا (ص) سے نقل ہوا ہے کہ:’’خیر نسائہا خدیجة و خیر نسائہا مریم ابنة عمران‘‘۔دنیا کی بہترین عورتیں خدیجہ (س) اور مریم بنت عمران ہیں۔(2)
’’خیر نساء العالمین مریم بنت عمران، و آسیہ بنت مزاحم، و خدیجة بنت خویلد و فاطمة بنت محمد (ص)‘‘۔تمام عالمین کی بہترین عورتیں مریم دختر عمران، آسیہ بنت مزاحم، خدیجہ بنت خویلد اور فاطم (س) بنت حضرت محمد (ص) ہیں۔ (3)
ابن عباس کہتے ہیں: ایک دن میرے سامنے رسول خدا (ص) نے چار لکیریں کھینچیں، پھر پوچھا جانتے ہو یہ لکیریں کیا ہیں ؟ ہم نے کہا: خدا اور اسکے رسول ہم سے دانا تر ہیں،تو فرمایا:’’خیر نساء الجنة مریم بنت عمران، و خدیجة بنت خویلد و فاطمة بنت محمد، و آسیة بنت مزاحم امراة فرعون‘‘۔جنت کی بہترین عورتیں مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد (ص) اور آسیہ بنت مزاحم زوجہ فرعون ہیں۔(4)
رسول خدا (ص) نے عائشہ، کہ جو فاطمہ سے برتری طلبی کی فکر میں رہتی تھی، سے فرمایا:’’او ما فاعلمت ان اللہ اصطفی آدم و نوحا و آل ابراہیم و آل عمران و علیا و الحسن و الحسین و حمزہ و جعفرا و فاطمة و خدیجة علی العالمین‘‘۔کیا تم نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے آدم، نوح، آل ابراہیم، آل عمران، علی (ع)، حسن (ع)، حسین (ع)، حمزہ، جعفر، فاطمہ (ع) اور خدیجہ (ع) کو تمام عالمین میں سے انتخاب کیا ہے۔(5)
رسول خدا (ص) نے فرمایا: جبرائیل میرے پاس آئے اور کہا: اے رسول خدا ! یہ خدیجہ ہے، جب بھی وہ آپکے پاس آئیں تو انکو خداوند اور میری طرف سے سلام کہنا:’’و بشرہا ببیت فی الجنة من قصب لا صخب و لا نصب‘‘۔اور اسکو جنت میں زبرجد سے بنے ایسے گھر کی بشارت دیں کہ جس میں کسی قسم کی سختی اور پریشانی نہیں ہو گی۔(6)
یا ایک جگہ نقل ہوا ہے:’’اربع نسوة سیدات سادات عالمہن مریم بنت عمران، و آسیة بنت مزاحم، و خدیجة بنت خویلد، و فاطمة بنت محمد، و افضلہن عالما فاطمة‘‘۔تمام عورتوں کی سردار چار عورتیں ہیں کہ جو مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم، خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد (ص) ہیں اور ان چار میں سب سے بہترین فاطمہ (س) ہیں۔(7)
’’حسبك من نساء العالمین مریم بنت عمران، و خدیجة بنت خویلد، و فاطمة بنت محمد (ص) و آسیة بنت مزاحم‘‘۔فضیلت و کمال کے لحاظ سے تمام عالمین میں یہ عورتیں کافی ہیں:مریم، خدیجہ، فاطمہ اور آسیہ (علیہن السلام)۔ (8)
پیغمبر اكرم (ص) نے سورہ مطففین کی آیت 22’’عینا یشرب بہا المقربون‘‘،کی تفسیر میں فرمایا:’’المقربون السابقون سے مراد رسول خدا ، علی ابن ابیطالب ، الائمة، فاطمہ اور خدیجہ ہیں‘‘۔ (9)
ایک دن رسول خدا (ص) نے علی (ع) سے فرمایا: تمہاری فاطمہ جیسی بیوی ہے کہ میری ایسی بیوی نہیں ہے، تمہاری خدیجہ جیسی ساس ہے کہ میری ایسی ساس نہیں ہے۔(10)
روایت میں ہے کہ: ایک دن چبرائیل رسول خدا (ص) کے پاس آئے اور حضرت خدیجہ کے بارے میں معلوم کیا۔ رسول خدا کو معلوم نہیں تھا کہ بی بی کہاں ہیں۔ جبرائیل نے کہا: جب وہ آئیں تو انکو کہنا کہ خداوند نے انکو سلام کہا ہے۔(11)
پیامبر اكرم (ص) نے حضرت خدیجہ سے چالیس دن کی جدائی اور دوری کے ایام میں عمار یاسر کے ذریعے سے ان تک یہ پیغام پہنچایا تھا:’’ان اللہ عز وجل لیباہی بك كرام ملائكتہ كل یوم مرارا‘‘۔بیشک خداوند ہر روز آپکی وجہ سے اپنے بزرگ ملائکہ کے سامنے بار بار فخر فرماتا ہے۔(12)
ایک دن رسول خدا (ص) نے اصحاب کے سامنے امام حسن (ع) و امام حسین (ع) کی اس کچھ انداز میں فضیلت بیان فرمائی:’’ایہا الناس الا اخبركم بخیر الناس جدا و جدہ‘‘۔اے لوگو ! کیا میں تم کو ان لوگوں کے بارے میں بتلاؤں جو اپنے نانا اور نانی کے اعتبار سے سب سے افضل ہیں؟ سب نے کہا: ہاں بتائیں، تو فرمایا:’’الحسن و الحسین، جدہما رسول اللہ و جدتہما خدیجة بنت خویلد‘‘۔وہ حسن اور حسین ہیں کہ جنکے نانا رسول خدا محمد (ص) اور نانی خدیجہ بنت خویلد ہیں۔ (13)
جب رسول خدا (ص) بستر بیماری پر تھے تو حضرت زہرا (س) بہت پریشان ہوئیں اور گریہ کیا۔حضرت نے اپنی بیٹی کو مولا علی (ع) کے پر برکت وجود کے ساتھ تسلی دی اور حضرت خدیجہ (س) کو یاد کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ مطمئن رہیں کیونکہ:’’ان علیا اول من آمن باللہ عزوجل و رسولہ من ہذہ الامة، ہو و خدیجة امك‘‘۔بیشک علی (ع) اس امت کے پہلے وہ شخص ہیں کہ جو ذات خدا اور اسکے رسول پر ایمان لائے، وہ اور آپکی والدہ (ساس) پہلے افراد ہیں کہ جو مسلمان ہوئے۔ (14)
رسول خدا (ص) حضرت خدیجہ (س) کی وفات کے بعد ہمیشہ انکی وفا داری اور فدا کاری کے شیرین واقعات کو یاد کرتے تھے تو انکی یاد میں اشک انکے چہرے مبارک پر جاری ہو جاتے تھے، جیسے ایک دن رسول خدا اپنے چند ہمسایوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک حضرت خدیجہ کا ذکر ہوا۔ رسول خدا اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور انکے چہرے پر اشکوں کے قطرے بہنا شروع ہو گئے۔
عائشہ نے ان حضرت سے کہا: آپ کیوں اشک بہا رہے ہیں ؟ کیا آپکو قبیلہ اسد سے تعلق رکھنے والی ایک گندمی رنگ کی بوڑھی عورت کے لیے اشک بہانے چاہیئے؟ رسول خدا (ص) نے اسکے جواب میں فرمایا:’’صدقتنی اذ كذبتم، و آمنت بی اذكفرتم، و ولدت لی اذ عقمتم‘‘۔اس نے اس وقت میری تصدیق کی جب تم لوگوں نے میری تکذیب کی اور جب تم لوگ کافر تھے تو وہ نے مجھ پر ایمان لائیں اور وہ  میری اولاد کو دنیا میں لانے کا سبب بنیں  جبکہ تم سب بانجھ ہو۔(15)
روایت نقل ہوئی ہے کہ:ایک دن ایک بوڑھی عورت رسول خدا (ص) کے پاس آئی، حضرت اس سے بہت خندہ پیشانی سے پیش آئے، جب وہ چلی گئی تو عائشہ نے اس خندہ پیشانی اور شفقت کا سبب دریافت کیاتو حضرت نے جواب میں فرمایا:’’انہاكانت تاتینا فی زمن خدیجة، و ان حسن العہد من الایمان‘‘۔یہ بوڑھی عورت خدیجہ کی زندگی میں ہمارے گھر آتی تھی اور خدیجہ بھی اس سے اسی طرح پیش آتی تھی، بیشک وہ ایمان کے لحاظ سے بھی اچھی ہے۔(16)
ایک دوسری روایت کے مطابق عائشہ نے یہ سن کر کہا: جب رسول خدا بھیڑ کو ذبح کرتے تھے تو مجھے فرماتے تھے: اسکے گوشت سے خدیجہ کی سہیلیوں کے لیے بھی کچھ بھیجاواؤ۔ ایک دن میں نے اس بارے میں کچھ کہا تو حضرت نے مجھ سے فرمایا:’’انی لاحب حبیبہا‘‘۔میں خدیجہ کی سہیلیوں کا بھی احترام کرتا ہوں۔(17)
رسول خدا (ص) نے حضرت خدیجہ (س) کو  اس وقت بھی یاد کیا تھا جب علی (ع) فاطمہ(س) کا رشتہ مانگنے کے لئے سرکار کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے فرمایا تھا: اے کاش آج میری بیٹی کی والدہ بھی اس خوشی کے موقع پر موجود ہوتی۔ اور جونہی حضرت خدیجہ کا نام زبان پر آیا رسول خدا نے گریہ کرنا شروع کر دیا اور فرمایا:’’خدیجة و این مثل خدیجة صدقتانی حین كذبنی الناس، و وازرتنی علی دین اللہ و اعانتنی علیہ بمالہا، ان اللہ عزوجل امر فی ان ابشر خدیجة ببیت فیالجنة من قصب لا صخب فیہ و لانصب؛ خدیجہ!‘‘۔خدیجہ کے جیسا کون ہے؟جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا تو اس نے میری تصدیق کی اور اس نے دین خدا کی خاطر میری مدد کی اور اپنے مال کے ذریعے سے دین کی تبلیغ و ترقی میں میرا تعاون کیا، خداوند نے مجھے حکم دیا ہے کہ خدیجہ کو جنت میں ایسے گھر کی خوشخبری دوں کہ جس میں کسی قسم کی کوئی سختی اور نا آرامی نہیں ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1ـ خدیجہ، اسطورہ مقاومت و ایثار، صفحہ 186، اشتہاردی، محمدمہدی 2ـ صحیح بخاری، ج 4، ص 164.
3ـ الاستیعاب، ج 2، ص 720.
4ـ بحار الانوار، ج 13، ص 162، ج 16، ص 2.
5ـ خدیجہ؛ اسطورہ مقاومت و ایثار، ص 187، نقل از بحار ج 37، ص 63.
6ـ اسد الغابہ، ج 5، ص 438.
7ـ ذخائر العقبی، ص 44.
8ـ كشف الغمہ، ج 2، ص 71.
9ـ مجمع البیان، ج 10، ص 320.
10ـ بحار، ج 40، ص 68 بہ نقل از خدیجہ؛ اسطورہ مقاومت و ایثار ص 190.
11ـ ہمان، ج 16، ص 8.
12ـ كشف الغمہ، ج 2، ص 72.
13ـ بحار، ج 43، ص 302، بہ نقل از خدیجہ، اسطورہ مقاومت و ایثار، ص 198.
14ـ بحار الانوار، ج 22، ص 502.
15ـ وہی، ج 16، ص 8.
16ـ خدیجہ اسطورہ ایثار و مقاومت، ص 207.
17ـ ریاحین الشریعہ، ج 2، ص 206.
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین