Code : 2807 41 Hit

ہم جو دل چاہے کریں ،تم کچھ نہ کہو؛تہران میں برطانوی سفیر کی عارضی نظربندی پر برطانوی حکومت کا رد عمل

برطانوی وزارت خارجہ نے اتوار کی صبح تہران میں غیرقانونی ریلی میں موجود ہونے کےدوران اپنے سفیر کی عارضی نظربندی کے ردعمل میں ایک بیان جاری کیا۔

ولایت پورٹل:اسکائی نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت کا دعوی ہے کہ ہفتے کے روز تہران میں غیر قانونی اجتماع میں اس ملک کے سفیر کی گرفتاری بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے،رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک روب نے کہا کہ ایران میں برطانیہ  کے سفیر کی نظربندی بین الاقوامی قانون کے منافی ہےجبکہ  ایرانی حکومت اس وقت ایک نازک مرحلہ میں ہے،روب نے ایران کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس دو راستے ہیں یا موجودہ سخت گیر حکومت  اور نظام کو برداشت کرے اور اس کے نتیجہ میں معاشی اور سیاسی تنہائی کی طرف بڑھتا رہے یا کشیدگی اورتناؤ کو ختم کرتے ہوئے معمول کے مطابق سفارتی راستہ اپنا سکتا ہے،سکیورٹی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق تہرا  ن میں تعینات برطانوی سفیر رابرٹ میکیئر ہفتہ کی رات امیرکبیر یونیورسٹی میں غیر قانونی مظاہرے میں شریک  ہوکرتصاویر اور ویڈیوز تیار کررہے تھے،جہاں سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں  پہچان لیا اور حراست میں لے لیا ،تاہم کچھ دیر کے بعد وزارت خارجہ  کی درخواست پر انھیں آزاد کردیا گیا،قابل ذکر ہے کہ برطانوی سفیر نے تہران میں ہونے والے غیرقانونی اور ملک کے خلاف مظاہرے میں شرکت جس پر ایرانی سکیورٹی حکام نے ایکشن لیا  اور برطانیہ کی حکومت بجائے اس کے اپنی غلطی تسلیم کرے اور اپنے سفیر سے پوچھ تاچھ کرے ، ایران کے خلاف ہرزہ سرائی کررہی ہے اور اس گرفتاری کو غیر قانونی  نیز بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہے  کہ ایران کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس وقت ایران کافی حساس مرحلہ سے گذر رہا ہے۔




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین