Code : 4819 36 Hit

زندگی میں ایمان کے فائدے(1)

ایمان کا ایک فائدہ فرض شناسی ہے ، بندۂ مؤمن خدا کے سامنے مکمل طریقہ سے سر تسلیم خم کئے رہتا ہے اس لئے وہ اپنا راستہ مقصد اور طرز عمل خدا و رسول سے معلوم کرتا ہے اور ان کے احکام کے مطابق قدم اٹھاتا ہے اور جب کوئی نیا حادثہ (اتفاق) پیش آتا ہے اس کے بارے میں بھی وہ حکم شریعت معلوم کرتا ہے اور حسن ظن، جوش و خروش اور رغبت و میلان کے ساتھ اپنا فریضہ ادا کرتا ہے اور کیونکہ اسے اپنے منتخب راستے اور مقصد پر مکمل یقین ہوتا ہے اس لئے وہ اپنا فریضہ ادا کرتے وقت قربانی پیش کرتا ہے اور بڑے شوق کے ساتھ شہادت کو گلے لگاتا ہے۔

ولایت پورٹل: دنیا کے عظیم خالق اچھے اور مہربان خدا پر ایمان، اسی طرح قیامت اور مر نے کے بعد ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی پر عقیدہ، نبوت کا یقین اور انبیائے کرام(ع) کی تصدیق سے مؤمنین کے ولولہ کو ایک عجیب شادابی، حسن اور خلوص و نورانیت نیز سکون حاصل ہوتا ہے اس مقام پر ایمان کے بعض فوائد کا تذکرہ کیا جارہا ہے:
۱۔امید
چونکہ مؤمن خداوند عالم اور اسکی وعدہ وفائی پر ایمان رکھتا ہے اس لئے اس کا دل ہمیشہ پرامیدو بانشاط رہتا ہے اسے ہمیشہ خداوند عالم کے لطف و کرم اور مہربانیوں کی امید رہتی ہے، ایک مؤمن خداوند عالم کو قادر، طاقتور اور مہربان سمجھتا ہے اسی لئے مشکلات اور پریشانیوں میں مبتلا ہوتے ہی وہ اس کی پناہ لیتا ہے اس کی طرف دست نیاز بڑھاتا ہے اور اپنے پروردگار عالم کی غیبی امداد پر امید کی نگاہیں جمائے رکھتا ہے، مؤمن انسان مشکلات کو حل کرنے کے لئے خود بھی کوشش کرتا ہے اور اسے یہ اطمینان بھی رہتا ہے کہ خدا مؤمنین کا معاون و مددگار ہے۔ مؤمن اپنے تئیںدنیا میں تنہا اور اکیلا نہیں سمجھتا بلکہ اس کے دل میں ہمیشہ خدائی امداد کا آسرا رہتا ہے، مایوسی اور ناامیدی جو زندگی کاسب سے درد ناک پہلو ہے، مؤمن کے دل میں اس کی کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے، اور وہ مایوس ہو کیوں؟جبکہ وہ اس خدائے قادر و توانا پر ایمان رکھتا ہے جو ہر چیز کا جاننے والا اور پوری کائنات کا مالک ہے۔ اور کیوں ناامید رہے جبکہ وہ خداوند عالم پر ایمان رکھتا ہے اور اس کا رابطہ اس پروردگار سے ہے جو تمام طاقتوں اور ہر طرح کے کمالات اور خوبیوں کا سرچشمہ ہے وہ ایسے خدا کو ان لوگوں کا پشت پناہ اور مددگار سمجھتا ہے جو حق میں اور خیر خواہی کی راہ میں دوسروں کیلئے کوشاںرہتے ہیںاور اسے ان لوگوں کی کامیابی کا مکمل یقین ہوتا ہے اس لئے وہ ہمیشہ شوق و ولولہ سے سرشار رہتا ہے، چونکہ مؤمن خداوند عالم کے لامحدود اور بے حساب رحم و کرم پر ایمان رکھتا ہے تو وہ اس کی رحمت و مغفرت سے ناامیدی کو کبھی بھی اپنے دل میں داخل نہیں ہونے دیتا ہے اور امید کی روشنی سے اس کا دل ہمیشہ جگمگاتا رہتا ہے۔
مگر کافر کا کیا ہوگا؟ جبکہ اس کا خدا پر ایمان ہی نہیں ہے جسکی وہ مشکلات میں پناہ حاصل کرے اور جب وہ ظاہری اسباب اور وسائل کے سہارے کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ پاتا تو زندگی کے مشکلات اور پریشانیوں میں اپنے کو بالکل اکیلا اور بے یار و مددگار پاتا ہے اس لئے مضطرب اور پریشان ہوجاتا ہے اور مایوسی و ناامیدی کے گڑھے میں گرجاتا ہے سب کو اپنے سے بیگانہ سمجھتا ہے اور اپنے کو مغلوب اور بیچارہ سمجھنے لگتا ہے اور نا امیدی و مایوسی ،کوڑھ کے مرض کی طرح اس کی روح کو مسلسل تکلیف دیتی رہتی ہے۔
۲۔ زندگی کے انجام کے بارے میں خوش فہمی
چونکہ مؤمن قیامت اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس لئے وہ مرنے سے نہیں ڈرتا اور اسے اپنی زندگی کے اچھے خاتمہ کی توقع ہے، اسے یقین ہے کہ وہ مرنے کے بعد نابود نہیں ہوگا بلکہ اس دنیا سے دوسری خوبصورت اور ہمیشہ رہنے والی دنیا کی طرف منتقل ہوجائے گا ،مؤمن دنیا کو آخرت کی کھیتی سمجھتا ہے اور اس دنیا کو دوڑ دھوپ اور انسانی فضائل و کمالات کی تعلیم و تربیت کی جگہ مانتا ہے تا کہ ان کے ذریعہ آخرت کی ابدی سعادت حاصل کر سکے، مؤمن انسان ایمان خداپر ایمان کے زیر سایہ دنیا کو نیک اور صالح اعمال کی انجام دہی اور معنوی درجات کی ترقی و بلندی کا وسیلہ سمجھتا ہے اپنے کو جوابدہ سمجھتا ہے، اسے یقین ہے کہ اس کا معمولی سے معمولی عمل بھی بے نتیجہ نہیں رہے گا اور آخرت میں اس کا ثواب ضرور ملے گا، مؤمن نہ یہ کہ موت سے نہیں ڈرتا بلکہ خدا کی راہ اور اس کے لئے جہاد میں مرجانے کو شہادت اور خدا کی عظیم عطا سمجھتا ہے اور بڑے شوق و ولولہ اور خندہ پیشانی سے اسے خوش آمدید کہتا ہے تاکہ اس طرح پروردگار کے قرب اور جوار رحمت میں اس کے نیک اور صالح بندوں کے ساتھ ایک خوبصورت اور ابدی زندگی گذار سکے۔
مؤمن اس زندگی کو فضول اور بے مقصد نہیں سمجھتا ہے نہ اسے اسکے فضول اور بے مقصد ہونے کا احساس ہوتا ہے بلکہ وہ اسے خود سازی نفس کی ترقی و تکمیل اور اخروی سعادت تک پہنچے کے لئے ضروری صلاحیت اور لیاقت حاصل کرنیکا بہترین موقع سمجھتا ہے اس لئے پوری توقع اور جوش و جذبہ کے ساتھ اپنے نفس کی تربیت کی کوشش کرتا ہے اور نیک کاموں اور لوگوں کی خدمت کر کے اپنے نقائص کی تکمیل کرتا ہے۔ ایک مؤمن انسان کار خیر، سچائی، امانت داری اور خدا کے بندوں پر احسان ، عدالت، ایثار و قربانی، اور دوسرے نیک کاموں کو بیکار و بے فائدہ نہیں سمجھتا ہے بلکہ اسے اطمینان ہے کہ اس کا کوئی کام ضائع اور بے اثر رہنے والا نہیں اور ان سب کا پھل آخرت میں اسے ایک ساتھ ضرور حاصل ہوگا۔
مگر کافر کا کیا حال ہوتا ہے؟ کیا اسے زندگی کے اچھے خاتمہ کی کوئی توقع ہوتی ہے؟ کافر چونکہ آخرت کا یقین نہیں رکھتا ہے اس لئے وہ زندگی کا انجام نابودی اور ہلاکت کو سمجھتا ہے، زندگی کو فضول اور بے مقصد سمجھتا ہے، کافر کی سوچ کے مطابق انسان کی زندگی نیستی وفنا کی کھائی سے شروع ہوتی ہے جو پروان چڑھتی رہتی ہے، آہستہ آہستہ بلندی کی طرف جاتی ہے، بچپنے کو پیچھے چھوڑ کر جوانی میں طاقت و نشاط کی آخری چوٹی اور بلندی پر پہنچ جاتی ہے مگر افسوس کہ کچھ ہی دنوں کے بعد اس کی تنزلی کا دور شروع ہوجاتا ہے اور ضعف و ناتوانی، بیماری و پیری یکے بعد دیگرے آگھیرتی ہے اور انسان توانائی و جوش کی بلندی سے نیچے گر پڑتا ہے اور بہت سی زحمتی، مشکلات سہنے کے بعد لڑکھڑاتے قدموں سے نیستی (نابودی) کے دہانے پر پہنچ کر ختم ہوجاتا ہے ۔ اور اس کا مردار جسم مٹی اور پتھروں میں چھپ جاتا ہے ہو جاتا ہے۔ کتنا دردناک اور وحشتناک انجام ہے؟ کتنی فضول زندگی ہے؟ کیا نابودی اور فنا سے زیادہ وحشتناک بھی کوئی چیز ہوسکتی ہے؟
کافر کو بڑھاپے میں یہ صاف نظر آتا ہے کہ اس کی زندگی کے تمام کام بالکل فضول اور بے ثمر تھے اس نے اب تک جو کچھ بھی محنت اور مشقت کی ہے اور جو کچھ جمع کیا ہے اسے یہیں چھوڑ کر جانا ہوگا اور وہ خود مر کر نابود ہوجائے گا۔
کیا ایسی زندگی پر خوش رہا جاسکتا ہے؟ ایسا شخص کارخیر کس طرح انجام دے سکتا ہے؟ کس کے لئے؟ اور کس لئے؟ وہ تو اخروی ثواب اور عذاب پر عقیدہ ہی نہیں رکھتا ہے تو پھر وہ کس امید میں نیک کام کرے؟ ایسے افراد کے لئے ایثار و فداکاری اور شہادت کے کیا معنی اور اس کی کیا صحیح توجیہ و تاویل ہوگی؟
اس بنا پر کافر ہمیشہ موت سے لرزتا رہتا ہے اور اس کے بارے میں صحیح غور و فکر کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتاہے کیونکہ ہر لمحہ موت کے بارے میں غور و فکر جو اس کی نظر میں نابودی ہے، ہر ہرپل اس کے لئے سینکڑوں کوڑے مارے جانے سے کہیں دردناک ہے۔
۳۔ فریضہ کی شناخت
انسان کے سامنے مسلسل مختلف قسم کے (انفرادی، اجتماعی، اخلاقی اور سیاسی) مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں جن کے لئے اسے کوئی نہ کوئی فیصلہ کر کے مناسب قدم اٹھانا پڑتا ہے اگر وہ دین کے اوپر پختہ ایمان رکھتا ہے تو وہ اپنے فریضہ کو اپنے دین کے مطابق طے کرتا ہے اور اگر کسی دین پر اس کا ایمان نہیں ہوتا ہے تو پھر وہ اپنا فریضہ طے نہیں کر پاتا ہے اور اِدھر اُدھر بھٹکتا رہتا ہے۔
مگر بندۂ مؤمن خدا کے سامنے مکمل طریقہ سے سر تسلیم خم کئے رہتا ہے اس لئے وہ اپنا راستہ مقصد اور طرز عمل خدا و رسول سے معلوم کرتا ہے اور ان کے احکام کے مطابق قدم اٹھاتا ہے اور جب کوئی نیا حادثہ (اتفاق) پیش آتا ہے اس کے بارے میں بھی وہ حکم شریعت معلوم کرتا ہے اور حسن ظن، جوش و خروش اور رغبت و میلان کے ساتھ اپنا فریضہ ادا کرتا ہے اور کیونکہ اسے اپنے منتخب راستے اور مقصد پر مکمل یقین ہوتا ہے اس لئے وہ اپنا فریضہ ادا کرتے وقت قربانی پیش کرتا ہے اور بڑے شوق کے ساتھ شہادت کو گلے لگاتا ہے، ایک مؤمن انسان خود کو اور پوری دنیا کو خدا کی ملکیت سمجھتا ہے اور اس کا یہ عقیدہ ہے کہ چونکہ خداوند عالم انسان کی سعادت اور کمال پر نظر کرم رکھتا ہے اس لئے اس نے اس کی سعادت کاآئین انبیائے کرام(ع) کے ذریعہ بھیجا ہے اور انہوں نے اسے ہمارے حوالے کردیا ہے۔ ایک مؤمن انسان کا یہ عقیدہ ہے کہ دین کے احکام اور قوانین کی پیروی اسے ابدی سعادت کی منزل تک پہنچادے گی وہ اپنے تئیںاپنے مستقبل کے بارے میں مختار اور جواب دہ سمجھتا ہے اور کسی شک کے بغیربڑے اطمینان اور سکون کے ساتھ اپنے اس فریضہ پر عمل کرتا ہے جو اس نے اپنے دین سے حاصل کیا ہے۔
مگر کافر کا کیا حال ہے؟ چونکہ اس نے حق کو قبول نہیں کیا ہے اور کسی دین پر اس کا ایمان نہیں ہے اس لئے وہ ہمیشہ سرگردان رہتا ہے، اسے نہیں معلوم کس راستہ کا انتخاب کرے، اور کس طرف جائے؟ وہ اپنی نفسانی خواہشات کا اسیر ہوتا ہے کبھی اِدھر جاتا ہے تو کبھی اُدھر، جس راستہ کا بھی انتخاب کرے اور جو کام بھی شروع کرے یقینی طور پر نہیں جانتا کہ وہ اس کے لئے مناسب ہے یا نقصان دہ؟
اپنی سعادت واقعی تک پہنچنے کے لئے وہ کوئی معین منزل اور مقصد طے نہیں کرسکتا ہے وہ کسی قابل اعتماد مقصد کا پابند نہیں ہے کہ اس کے یہاں کسی قسم کا اضطراب نہ رہے اس بنا پر ہر دن کسی نہ کسی طرف کھنچ کر چلا جاتا ہے اور جال میں پھنس جاتا ہے۔ کیونکہ اس نے اپنا فریضہ انبیائے کرام(ع) سے حاصل نہیں کیا ہے اس لئے ہر ایک اس کے لئے ذمہ داری (فریضہ) معین کرتا ہے چونکہ اس نے خدا اور اس کے دین کے آگے اس نے سر تسلیم خم نہیں کیا ہے اس لئے دوسرے مذاہب اسے دھوکہ دیتے رہتے ہیں اور چونکہ اس نے انبیائے الٰہی کی سچی اور بر حق رہبری کو قبول نہیں کیا ہے اس لئے فریب کاروں اور جھوٹوں کے دام میں اسیر ہوتارہتا ہے۔


جاری ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ 



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین