Code : 2832 90 Hit

عین الاسد پر حملے کے بعد امریکیوں کا ان کے ڈرونز کے ساتھ رابطہ منقطع ہوگیا: صہیونی اخبار

صیہونی اخبار نے عراق کے عین الاسد اڈے پر امریکی فوجیوں کے خلاف ایران کے میزائل حملے کے بارے میں خبر شائع کی ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ میزائل حملوں کے بعد امریکی فوج کا اپنے ڈرونز کے ساتھ رابطہ منقطع ہوگیا تھا۔

ولایت پورٹل:صہیونی اخبار اسرائیل ٹائمز نے مایا جیلی کی تیار کردہ ایک رپورٹ میں بتایا ہےکہ  عراق میں امریکی فضائیہ کے اڈے پر ایرانی میزائلوں کے چند لمحوں بعد ، اس اڈے پر موجود امریکی فوجیوں کا آسمان میں پرواز کررہی ان کی طاقتور اورمہنگی آنکھوں سے رابطہ ختم ہوگیا،مذکورہ صہیونی ذرائع کے مطابق ، 8 جنوری کی صبح 1:30 بجے جب عین الاسد پر ایرانی میزائل حملہ شروع ہواہے اس وقت امریکی فوج کے سات ڈرون طیارے عراق میں امریکی زیرقیادت اتحادیوں کے ٹھکانوں کی نگرانی کے لئے عراقی فضائیہ میں اڑ رہے تھے ،یادرہے کہ یہ ڈرون ایم کیو -1 سی گرے ایگل تھے ، جو 27 گھنٹے تک آسمان میں اڑ سکتے ہیں  اور چار ہیلفائر میزائل اٹھا سکتے ہیں،اس اڈے پر ڈرون کنٹرولر کاسٹن ہاروینگ نے اسرائیل ٹائمز کو بتایا  کہ ہمارا خیال تھا کہ زمینی حملہ ہوگا  لہذا ہم نے ڈرون آسمان میں رکھےتھے،صہیونی اخبار نے مزید لکھا ہے کہ الاسد میں امریکی فوجی  1500  موجود تھے  کہ ابتدائی انتباہ کے بعدان میں سے بیشتر افراد کو دو گھنٹے کے لئے پناہ گاہ میں لے جایا گیا تھا ، لیکن 14ڈرون کنٹرولر ڈرونز کی بھیجی ہوئی  تصاویر کی نگرانی کرنے کے لئے تاریک کنٹینرز میں موجود رہے ،اسرائیل ٹائمز نے مزید لکھاہے کہ  ہیرنگ نے فرانس نیوزایجنسی  کو بتایا کہ پہلا میزائل ان کی پناہ گاہ پر لگا جس کی وجہ سے ان کے سروں پر مٹی گری لیکن وہ اپنی جگہ پر قائم رہے لیکن اس کے بعد کے  اس کے دھماکے قریب تر ہوتے گئے،ہیرونگ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی قسمت کا فیصلہ کرلیا تھا،ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سوچ لیا تھا کہ ہمارا کام تمام ہوچکا اب۔،اسرائیل ٹائمز نے مزید لکھا ہے کہ ابھی اصلی بحران باقی ہے۔







0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین