امریکی افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں اور بائیڈن ساحل پر ٹہل رہے ہیں:امریکی سینیٹر

امریکی ریاست آرکنساس کے ایک ریپبلکن سینیٹر نے امریکی صدر جو بائیڈن کو اپنا ویک اینڈ ڈیلاویر کے ساحلی علاقے میں گزارنے پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے صدر ساحل کی سیر کر رہے ہیں  جبکہ بہت سارے  امریکی اب بھی افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ولایت پورٹل:امریکی ریاست آرکنساس کے ایک ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن نے پیر کو فاکس نیوز کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں افغانستان ، سرحدی بحران اور 2024 کے انتخابات پر بات کرتے ہوئےکہا کہ ہمارے صدر کے ہفتے کے آخر میں ڈیلاویئر ساحل کی سیر نے امریکہ کے لیے ذلت کے ساتھ  ساتھ شرم کو بھی بڑھا دیا ہے ۔
ریپبلکن سینیٹر نے کہا کہ میرے خیال میں یہ شرم کی بات ہےلہذا جو بائیڈن  امریکیوں کو لاپرواہی کے ساتھ افغانستان میں چھوڑنے میں تذلیل  کے ساتھ ساتھ  شرم کا بھی اضافہ کرلیں،کاٹن نے مزید کہاکہ بائیڈن نے 11 ستمبر تک افغانستان سے اپنی فوجیں نکالنے کا فیصلہ کیا  جسے انہوں نے ایک علامتی سیاسی تاریخ قرار دیا، تاہم یہ جنگ کے دوران ایک تباہ کن حکمت عملی کا وقت تھا کیونکہ طالبان دوبارہ جنگ کی تیاری کر رہے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بائیڈن نے تمام امریکیوں کے انخلاء تک افغانستان میں رہنے کا اپنا وعدہ پورا نہیں جس کی وجہ سے امریکی سفارت خانے پر طالبان کا جھنڈا لہرا رہا ہے، جنگ طلب سینیٹر نے بائیڈن پر الزام عائد کیا کہ وہ ان امریکیوں کی توہین کر رہے ہیں جو اس وقت امریکی فوج کے انخلاء کے بعد افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔
کاٹن کے مطابق ، بائیڈن انتظامیہ نے بہت سارے گرین کارڈ ہولڈرز اور ان کے خاندانوں  نیز افغانوں کو چھوڑ دیا گیا ہے جو امریکی فوجیوں کے ساتھ خدمت کرتے تھے اور انہیں امریکہ ہجرت کرنے کی منظوری دی گئی تھی جبکہ اس کے بدلے میں ایسے بہت سارے لوگوں کو امریکہ لایا گیا ہے جن امریکی قانون کے تحت اس ملک سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا اور انھیں امریکہ ہجرت کا حق نہیں تھا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین