Code : 4379 5 Hit

آل خلیفہ حکومت فلسطین کی حمایت میں احتجاج کو بھی کچل رہی ہے:بحرینی انسانی حقوق کمیشن

بحرین ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن کے سربراہ نے ملکی عہدیداروں اور صیہونی حکومت کے مابین سمجھوتے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آل خلیفہ حکومت حتی فلسطین کی حمایت میں احتجاج کو بھی دباتی ہے۔

ولایت پورٹل:الوفاق نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بحرین ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن کے صدر باقر درویش نےکہا ہے کہ بحرین کے عوام آپ خلیفہ حکومت کی جانب سےصہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کرتے ہیں اور بحرین کی حکومت نے مظاہروں  یہاں تک کہ فلسطینی عوام کی حمایت میں ہونے والے احتجاج کو دبانے سے کبھی گریز نہیں کیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ بحرین میں مظاہروں پر برسوں سے پابندی ہے اور اس ملک کے عوام کو مظاہرے کرنے کے فیصلے کے اعلان کے باوجود بھی عوامی سطح پر مظاہرے کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
اسی وجہ سےحالیہ برسوں میں بحرین میں نہ صرف آزادی اور جمہوریت کے فقدان  کے خلاف پرامن مظاہروں بلکہ بحرین کی سکیورٹی فورسز کے ذریعہ فلسطینی عوام کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں اور مظاہروں کو بھی دباؤ دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ بحرین ، متحدہ عرب امارات ، صیہونی حکومت اور امریکہ کے عہدیداروں نے منگل کی رات وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران "ابراہام امن معاہدہ" کے نام سے سمجھوتہ کےمعاہدے پر دستخط کیے ہیں، اس معاہدے پر دستخط کرنے کا مقصد ابوظہبی منامہ اور تل ابیب کے مابین تعلقات کو معمول پر لانا ہے ، اس تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور متحدہ عرب امارات اور بحرین کے وزرائے خارجہ بھی موجود تھے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین