Code : 2347 91 Hit

تنہا سردار

لیکن امام علیہ السلام نے صلح اس لئے قبول کی تاکہ معاویہ کو صلح کی شرطوں کا پابند بنا کر رکھا جائے کیونکہ امام حسن علیہ السلام جانتے تھے کہ معاویہ جیسا انسان زیادہ دن صلح کی شرطوں پر عمل کرنے والا نہیں ہے اور وہ بہت جلد ہی صلح کے شرائط کو پیروں تلے روند دے گا جس کے نتیجہ میں اس کے ناپاک ارادے اور بے دینی اور وعدہ خلافی ان سبھی لوگوں کے سامنے آجائے گی جو ابھی تک معاویہ کو دیندار سمجھ رہے ہیں۔

ولایت پورٹل: امام حسن علیہ السلام امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا(س) کے بیٹے اور پیغمبر اکرم(ص) کے نواسے ہیں آپ 15 رمضان سن 3 ہجری میں پیدا ہوئے اور آپ کے پیدا ہونے کے بعد پیغمبر اکرم(ص) نے آپ کو گود میں لیکر کان میں اذان اور اقامت کہی اور پھر آپ کا عقیقہ کیا، ایک بھیڑ کی قربانی کی اور آپ کے سر کو مونڈ کر بالوں کے وزن کے برابر چاندی کا صدقہ دیا ،پیغمبر اکرم(ص) نے آپ کا نام حسن رکھا اور کنیت ابو محمد رکھی ، آپ کے مشہور القاب سید، زکی، مجتبیٰ وغیرہ ہیں۔
امام حسن علیہ السلام کی امامت
امام حسن علیہ السلام نے اپنے والد ماجد امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد خدا کے حکم اور امام علی(ع) کی وصیت کے مطابق امامت اور خلافت کی ذمہ داری سنبھالی اور تقریباً 6 مہینہ تک مسلمانوں کے معاملات کو حل کرتے رہے اور انہیں مہینوں میں معاویہ جو امام علی(ع) اور ان کے خاندان کا کھلا دشمن تھا اور جس نے کئی برس حکومت کی لالچ میں جنگ میں گذارے تھے اس نے امام حسن علیہ السلام کی حکومت کے مرکز یعنی عراق پر حملہ کردیا اور جنگ شروع کردی۔
لوگوں کا امام(ع) کی بیعت کرنا
جس وقت مسجد کوفہ میں امام علی(ع) کے سر پر وار کیا گیا اور آپ زخم کی وجہ سے بستر پر تھے اس وقت امام حسن علیہ السلام کو حکم دیا کہ اب وہ نماز پڑھائیں گے اور زندگی کے آخری لمحوں میں آپ کو اپنا جانشین ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹے تم ہر اس چیز کے مالک ہو جس کا میں تھا، تم میرے بعد لوگوں کے امام ہو اور آپ نے امام حسین(ع) ،محمد حنفیہ  اور خاندان کے دیگر لوگوں اور بزرگ شیعوں کو اس وصیت پر گواہ بنایا پھر آپ نے اپنی کتاب اور تلوار آپ کے حوالے کی اور فرمایا میرے بیٹے پیغمبر اکرم(ص) نے حکم دیا تھا کہ اپنے بعد تم کو اپنا جانشین بناؤں اور اپنی کتاب اور تلوا تمہارے حوالے کروں بالکل اسی طرح جس طرح خود پیغمبر(ص) نے میرے حوالہ کیا تھا اور مجھے حکم دیا تھا کہ میں تمہیں حکم دوں کہ تم اپنے بعد اپنے بھائی حسین(ع) کے حوالہ کردینا۔
امام حسن علیہ السلام مسلمانوں کے درمیان آئے اور منبر پر تشریف لے گئے ، مسجد مسلمانوں سے چھلک رہی تھی، عبیداللہ ابن عباس کھڑے ہوئے اور لوگوں سے امام حسن علیہ السلام کی بیعت کو کہا، کوفہ ، بصرہ، مدائن، عراق، حجاز اور یمن کے لوگوں نے پورے جوش اور پوری خوشی سے آپ کی بیعت کی لیکن معاویہ اپنے اسی رویہ پر چلتا رہا جو رویہ اس نے امام علی(ع) کے لئے اپنا رکھا تھا۔
معاویہ کی مکاریاں
امام حسن(ع) نے امامت اور خلافت کی ذمہ داری سنبھالتے ہی شہروں کے گورنروں اور حاکموں کی تقرری کا کام شروع کردیا اور سارے معاملات پر نظر رکھنے لگے، لیکن ابھی کچھ ہی وقت گذرا تھا کہ لوگوں نے امام حسن(ع) کی حکومت کا انداز اور طریقہ بالکل آپ کے والد کی طرح پایا، کہ جس طرح امام علی(ع) عدالت اور حق کی بات کے علاوہ کسی رشتہ داری یا بڑے خاندان اور بڑے باپ کی اولاد ہونے کی بنیاد پر نہیں بلکہ اسلامی قانون اور عدالت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرتے تھے بالکل یہی انداز امام حسن علیہ السلام کا بھی تھا، یہی وجہ بنی کہ کچھ قبیلوں کے بزرگوں نے جو ظاہر میں تو امام حسن علیہ السلام کے ساتھ تھے لیکن اپنے ذاتی مفاد تک پہونچنے کے لئے مخفیانہ طور پر معاویہ کو خط لکھا اور کوفہ کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا کہ جیسے ہی تیری فوج امام حسن(ع) کی چھاؤنی کے قریب پہونچے گی ہم امام حسن(ع) کو قید کرکے تیری فوج کے حوالے کردیں گے یا دھوکہ سے انہیں قتل کردیں گے اور چونکہ خوارج بھی ہاشمی گھرانے کی حکومت کے دشمن تھے اس لئے وہ بھی اس سازش کا حصہ بنے۔
ان منافقین کے مقابلے کچھ امام علی(ع) کے شعیہ اور کچھ مہاجر اور انصار تھے جو امام حسن(ع) کے ساتھ کوفہ آئے تھے اور وہیں امام کے ساتھ تھے ۔ یہ وہ اصحاب تھے جو زندگی کے الگ الگ کئی موڑ پر اپنی وفاداری اور خلوص کو ثابت کرچکے تھے ، امام حسن علیہ السلام نے معاویہ کی سازشوں کو دیکھا تو اسے کئی خط لکھ کر اپنی اطاعت کرنے اور سازشوں میں ملوث ہونے سے خبردار کیا اور مسلمانوں کے خون بہانے سے روکا، لیکن معاویہ ، امام علیہ السلام کے ہر خط کے جواب میں صرف یہی بات لکھتا تھا کہ وہ حکومت کے معاملات میں امام سے زیادہ سمجھدار، تجربہ کار اور سن رسیدہ ہے۔
امام حسن علیہ السلام نے کوفہ کی جامعہ مسجد میں اپنی فوج کو نخیلہ چلنے کا حکم دیا، عدی بن حاتم سب سے پہلے وہ شخص تھے جو امام علیہ السلام کی اطاعت کرتے ہوئے گھوڑے پر سوار ہوئے اور بھی بہت سے اہل بیت(ع) کی سچی معرفت رکھنے والوں نے امام علیہ السلام کی اطاعت کرتے ہوئے نخیلہ کا رخ کیا۔
امام حسن علیہ السلام نے اپنے ایک سب سے قریبی چاہنے والے عبیداللہ جو آپ کے ہی خاندان سے تھے اور جنہوں نے لوگوں کو امام علیہ السلام کی بیعت کے لئے آمادہ کیا تھا انہیں 12 ہزار کی فوج کے ساتھ عراق کے شمالی علاقہ کی طرف بھیجا لیکن وہ معاویہ کی دولت کے جال میں پھنس گیا اور اس طرح امام علیہ السلام کا سب سے بھروسہ مند شخص  10 لاکھ درہم کے عوض اپنے 8 ہزار سپاہیوں کے ساتھ معاویہ کے لشکر میں شامل ہوگیا۔
عبیداللہ کے بعد لشکر کی قیادت قیس ابن سعد کو ملی، معاویہ کی فوج اور منافقین نے ان کے شہید ہوجانے کی افواہ پھیلا کر لشکر کے حوصلے پست کردیئے۔ معاویہ کے کچھ نمک خوار مدائن آئے اور امام حسن علیہ السلام سے ملاقات کی اور امام حسن(ع) کی طرف سے صلح کرنے کی پیش کش کی افواہیں پھیلانا شروع کردی، اور اس درمیان خوارج میں سے ایک نامراد اور خبیث شخص نے امام کی ران پر نیزے سے ایسا حملہ کیا کہ نیزہ ہڈی تک در آیا اور اس کے علاوہ بھی بہت سے ایسے حالات سامنے آگئے جس سے امام علیہ السلام کے پاس مسلمانوں اور خاص کر اہل بیت(ع) کے سچے چاہنے والوں کا خون بہنے سے روکنے کے لئے اب صلح کے علاہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔
معاویہ نے جیسے ہی ماحول کو اپنے فائدے میں پایا تو فوراً ہی امام علیہ السلام کے سامنے صلح کی پیش کش کردی، امام حسن علیہ السلام نے اس بارے میں اپنے سپاہیوں سے مشورہ کرنے کے لئے ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور ان لوگوں کے سامنے دو راستے رکھے ۔یا معاویہ سے جنگ کرکے شہید ہوجائیں یا صلح کرکے اہل بیت(ع) کے سچے چاہنے والوں کی جان کو بچا لیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔
بہت سے لوگوں نے صلح کرنے کو ہی بہتر بتلایا لیکن کچھ ایسے کمزور ایمان اور کمزور عقیدے کے لوگ بھی تھے جو امام حسن علیہ السلام کو ہی برا بھلا کہہ رہے تھے کہ (معاذ اللہ) آخرکار امام علیہ السلام نے لوگوں کی صلح کرنے والی بات کو قبول کرلیا۔
لیکن امام علیہ السلام نے صلح اس لئے قبول کی تاکہ معاویہ کو صلح کی شرطوں کا پابند بنا کر رکھا جائے کیونکہ امام حسن علیہ السلام جانتے تھے کہ معاویہ جیسا انسان زیادہ دن صلح کی شرطوں پر عمل کرنے والا نہیں ہے اور وہ بہت جلد ہی صلح کے شرائط کو پیروں تلے روند دے گا جس کے نتیجہ میں اس کے ناپاک ارادے اور بے دینی اور وعدہ خلافی ان سبھی لوگوں کے سامنے آجائے گی جو ابھی تک معاویہ کو دیندار سمجھ رہے ہیں۔
امام حسن علیہ السلام نے صلح کی پیش کش کو قبول کرکے معاویہ کی سب سے بڑی سازش کو ناکام کردیا کیونکہ اس کا مقصد جنگ کرکے امام حسن علیہ السلام اور اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں اور امام علیہ السلام کے ساتھیوں کو قتل کرکے ان کا خاتمہ کردینا تھا۔ امام علیہ السلام نے صلح کرکے معاویہ کی ایک بہت بڑی اور اہم سازش کو بے نقاب کرکے ناکام کردیا۔
امام علیہ کی شہادت
امام حسن علیہ السلام نے دس سال امامت کی ذمہ داری سنبھالی اور مسلمانوں کی سرپرستی کی اور بہت ہی گھٹن کے ماحول میں اپنی زندگی کے آخری کچھ برسوں کو گذارا جسے الفاظ کے پیرائے میں بیان نہیں کیا جاسکتا اور آخرکار معاویہ کی سازش کا شکار ہوکر آپ کی بیوی جعدہ بن اشعث نے آپ کو زہر دیکر شہید کردیا گیا اور پھر آپ کے جنازے کے ساتھ جو ہوا اس کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی اور وہ یہ کہ آپ کے جنازے پر تیر برسائے گئے۔



0
شیئر کیجئے:
متعلقہ مواد
फॉलो अस
नवीनतम