Code : 4081 22 Hit

غدیر کا پیغام؛ عترت کی عصمت،حجیت اور خلافت

کبھی نور ، ظلمت کا، ہادی ، گمراہ کرنے والے کا، شفا، درد کا، حق ، باطل کا، واضح و روشن ، مبھم و مجمل کا ہم مرتبہ نہیں ہوسکتا ۔ صرف نور نور کے ساتھ ، حق حق کے ساتھ ،شفا شفا کے ساتھ، دو ثقل کے طور پر رہ سکتے ہیں ۔ جس کا مطلب صاف ہے کہ جس طرح قرآن میں امکان خطا نہیں ہے ویسے ہی عترت الودگی و رجس سے مبرا ہے ۔جس طرح قرآن مجید کا حرف حرف اور آیت آیت حجت ہے ویسے ہی عترت پاک کی زبان اقدس سے نکلا ہوا ہر ہر کلمہ حجیت رکھتا ہے ۔ ان کے ذریعہ انجام پانے والا ہر فعل و عمل اور اسی طرح ان کی جانب سے کی گئی تائید حجت ہے ۔ چونکہ نور میں ظلمت نہیں سما سکتی ، حق کے ساتھ باطل نہیں رہ سکتا، ہدایت کرنے والا ضلالت و گمراہی سے مبرا ہوتاہے ، بیان و تبیان میں کسی طرح کا اجمال و ابہام نہیں پایا جاسکتا ۔

ولایت پورٹل: قال اللہ تبارک و تعالٰی فی القرآن الکریم:’’ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْکَ مِنْ رَبِّکَ ‘‘۔(1)
قارئین کرام ! غدیر کا واقعہ جو ہجرت کے دسویں برس رسول اللہ(ص) کے آخری حج سے لوٹتے وقت رونما ہوا وہ صرف ایک تاریخی روداد نہیں تھی کہ تاریخ اسلام کے دیگر بہت سے واقعات کی طرح اس کا بھی مطالعہ کر لیا جائے اور بس ۔  ! غدیر صرف ایک مخصوص خطہ کا نام  نہیں ہے بلکہ ایک پایدار اور زندہ جاوید تفکر کا نام ہے۔جو راہ نبوت و رسالت کے استمرار کی علامت و نشانی ہے۔ غدیر ایک ایسا موڑ ہے جہاں رسالت کا قافلہ امامت کے ہراول دستہ سے جاکر مل تھا۔
ہاں ! غدیر صرف ایک زمین کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ ایک ایسا چشمہ ہے جس سے دنیا قیامت تک سیراب ہوتی رہے گی ۔ ایک ایسا حوض کوثر ہے جس کے دھارے کبھی خشک نہیں ہونگے ۔ پوری دنیا پر محیط افق اور اس پر چمکتا ہوا آفتاب ضو بار ہے۔
غدیر ایک ایسا دن ہے جس دن عترت کا تعارف قرآن کے  ہم رتبہ اور ہم درجہ ہونے کے طور پر کروایا گیا :’’أني تارك فيكم الثقلين كتاب الله و عترتي أهل بيتي‘‘۔(2)
اور پھر تا قیام قیامت ان دونوں کے ایک ساتھ رہنے کی بھی ضمانت لی گئی :’’و أنَّهما لن يفترقا حتّي يردا علي الحوض‘‘۔(3)
اس حدیث کا واضح سا پیغام یہ ہے کہ عترت قرآن کے مساوی ہے اور ان میں بھی قرآنی صفات پائے جاتے ہیں ۔ اگر قرآن مجید نے اپنا تعارف نور، ہادی، بیان، تبیان، شفا اور حق وغیرہ وغیرہ کہہ کر کروایا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ عترت کو بھی انہیں صفات کا حامل ہونا چاہیئے۔
چونکہ کبھی نور ، ظلمت کا، ہادی ، گمراہ کرنے والے کا، شفا، درد کا، حق ، باطل کا، واضح و روشن ، مبھم و مجمل کا ہم مرتبہ نہیں ہوسکتا ۔ صرف نور نور کے ساتھ ، حق حق کے ساتھ ،شفا شفا کے ساتھ، دو ثقل کے طور پر رہ سکتے ہیں ۔ جس کا مطلب صاف ہے کہ جس طرح قرآن میں امکان خطا نہیں ہے ویسے ہی عترت الودگی و رجس سے مبرا ہے ۔جس طرح قرآن مجید کا حرف حرف اور آیت آیت حجت ہے ویسے ہی عترت پاک کی زبان اقدس سے نکلا ہوا ہر ہر کلمہ حجیت رکھتا ہے ۔ ان کے ذریعہ انجام پانے والا ہر فعل و عمل اور اسی طرح ان کی جانب سے کی گئی تائید حجت ہے ۔ چونکہ نور میں ظلمت نہیں سما سکتی ، حق کے ساتھ باطل نہیں رہ سکتا، ہدایت کرنے والا ضلالت و گمراہی سے مبرا ہوتاہے ، بیان و تبیان میں کسی طرح کا اجمال و ابہام نہیں پایا جاسکتا ۔
غرض اس بیان کا مقصد یہ ہے ان کے ذریعہ رائج اور پیش کی گئی ہر سنت قابل اتباع ہے :’’فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلاَّ الضَّلاَلُ‘‘۔(4)
غدیر اس بے نظیر واقعہ کی یاد ہے جس میں عترت کو رسول اللہ(ص) کی جانشینی کا منصب عنایت کیا گیا چنانچہ رسول اللہ(ص) نے مجمع سے خطاب کیا:’’ أيها الناس من اول بالمومنين من انفسهم؟ إن الله مولاي و اَنا مولي المومنينَ و انا اولي بهم مِن اَنفسهم، فمن كُنتُ مولاُ فعلي مولاهُ‘‘۔
امت سے سوال کیا گیا کہ تمہارا ولی کون ہے؟ امت کا جواب آیا کہ خدا اور اس کا رسول ہمارا ولی ہے  تو پھر رسول(ص) نے اللہ کے حکم کے بموجب اس منصب کو عترت کے حوالہ کردیا کہ جس کا میں ولی ہوں اس کے یہ علی ولی ہیں ۔
علی کے مولی و اولی ہونے کے وہی معنیٰ ہیں جو خدا و پیغمبر(ص) کے مولی و اولی ہونے کے ہیں۔
اب اگر کوئی یہ کہے کہ مولا کے معنیٰ چچا زاد بھائی کے ہیں یا دوست کے ہیں یا پڑوسی کے ہیں ؟ تو کوئی ان عقل کے ماروں سے معلوم کرے کہ اگر مولا کہ وہ معنیٰ ہوتے جو ان معترضین نے بیان کئے تو کیا ان سب پر :’’بخّ بخُ لَكَ يابنَ ابي طالب اصبحت و امسيتَ مولاي و مولي كل مومن و مومنة‘‘۔ کہکر مبارک دینا زیب دیتا ہے؟
کیا مبارکباد دینے کے لئے کسی نئی چیز اور نئے اتفاق کی ضرورت پیش نہیں آتی ؟ کیا علی (ع) اس وقت سے پیغمبر(ص) کے چچازاد بھائی نہیں تھےجب سے وہ پیدا ہوئے تھے۔ کیا وہ ہجرت سے پہلے اور بعد میں رسول اللہ(ص)  کے ناصر و مددگار نہیں تھے؟
تو پھر ذرا سوچئے کہ غدیر میں ایسا کون سا نیا اتفاق رونما ہوا تھا جس کے سبب صحابہ نے آگے بڑھ بڑھ کر  مبارک باد دی تھی۔
یہ وہی اعلان و واقعہ تھا  جس کے ذریعہ رسول(س) نے  علی(ع) کو اپنی جانشیی کے لئے منصوب کیا تھا۔
اور پھر اس کے بعد سرکار رسالتمآب(ص) نے بے ساختہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھا لئے :’’اللهم و آل من والاه و عاد من عاداه و احب من احبهُ و ابغض مَن ابغضَهُ وانصُر مَن نصرهُ، و اخذل من خَذَلَهُ‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1-سوره‌ مائده: 67۔
2- بحارالانوار، ج5، ص 21۔
3- سابق حوالہ ۔
4- سوره يونس: 32۔

تحریر : سجاد ربانی
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین