Code : 3071 39 Hit

ادلب میں دہشت گردوں کا اپنی شکست کا اعتراف

ادلب میں موجود دہشت گردوں کے رہنماؤں نے ادلب اور حلب میں بھاری شکست ، ان کی صفوں کے خاتمے اور شام کی فوج کی پیش قدمی کی وجہ سے اپنے سیکڑوں فوجیوں کے نقصان کا اعتراف کیا ہے۔

ولایت پورٹل:القدس العربی  نے شمالی شام میں دہشت گرد گروہوں کے ذرائع اور قریبی ساتھیوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ترکی کی طرف سے میدانی  اور ہتھیاروں کی حمایت حاصل کرنے کے باوجود ادلب میں موجود دہشت گردوں کے رہنماؤں نے شام کی فوج کے ہاتھوں اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے اپنی موجودہ  صورتحال کو داعش کی طرح ہی قرار دیا ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ شامی فوج کے حالیہ آپریشنوں کے نتیجے میں اس ملک کے شمال میں واقع حلب اور ادلب صوبوں میں ایک سو سے زیادہ قصبوں اور دیہاتوں کو آزاد کرایا گیا ، جس سے اس علاقہ میں سرگرم تمام  دہشت گرد گروہوں خاص طور پر سب سے زیادہ منظم دہشت گرد گروہ تحریر الشام کو ایک اہم شکست ہوئی۔
ایک دہشت گرد رہنما قحطان الدمشقی نے ، القدس العربی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے تحریر الشام اور اس کے اتحادی دہشت گرد گروہوں کے تیزی سے خاتمے کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ ان گروہوں کو شامی فوج نے سخت شکست سے دوچار کیا۔
انہوں نے آپریشن ادلب میں شامی فوج کے ساتھ روس اور ایران کے اتحاد کے ساتھ ساتھ دہشت گرد گروہ تحرر الشام کے فوجی ہتھکنڈوں کے فاش ہونے کو شکست کی اہم  وجوہات قرار دیا۔
الدمشقی نے دہشت گرد گروہوں کے مابین پھوٹ اور ان کے اختلافات اور کمزوریوں کو بھی اپنی ناکامی کی ایک اور وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شامی فوج کے بار بار اور مسلسل حملوں کے نتیجے میں مسلح گروہوں کی کے حوصلے پست ہوگئے اور طاقت ختم ہوگئی ۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम