Code : 1502 93 Hit

آیت اللہ خامنہ ای کی نظر میں تقوا کی تعریف، لوازمات اور اس کی شرطیں

بعض لوگ تقوا کا معنی، خدا سے خوف کھانا مراد لیتے ہیں، خشیّتِ پروردگار اور خوف خدا کی اہمیت اور قدر و منزلت اپنی جگہ پر الگ ہے۔ لیکن یہ تقوا ہے۔ تقوا یعنی آپ کو چوکنّا رہنا ہوگا کہ جو کام اور عمل آپ سے سرزد ہوتا ہے اس کو ایسی مصلحت پر استوار ہونا چاہیئے جس کو خداوند عالم نے آپ کی خاطر نظر میں رکھا ہے۔

ولایت پورٹل: تقوا یعنی ایک آدمی کا سب کچھ، ایک قوم کی دنیا اور آخرت اور اس طولانی راستے کا حقیقی توشہ و زاد راہ کہ انسان جس پر چلنے کو مجبور ہے، امیرالمؤمنین(ع) کے پہلے اور آخری جملہ میں صرف تقوا کا نام آیا ہے۔ آپ(ع) فرماتے ہیں:
ائے میرے بچو! اپنا خیال رکھنا، خدا کی راہ میں اور اس کے معیار کے مطابق ’’تقوائے الٰہی‘‘ کو اپنانا۔یعنی یہ ہے اصل، یہاں پر خدا سے خائف ہونا نہیں ہے کہ بعض لوگ تقوا کا معنی، خدا سے خوف کھانا مراد لیتے ہیں، خشیّتِ پروردگار اور خوف خدا کی اہمیت اور قدر و منزلت اپنی جگہ پر الگ ہے۔ لیکن یہ تقوا ہے۔ تقوا یعنی آپ کو چوکنّا رہنا ہوگا کہ جو کام اور عمل آپ سے سرزد ہوتا ہے اس کو ایسی مصلحت پر استوار ہونا چاہیئے جس کو خداوند عالم نے آپ کی خاطر نظر میں رکھا ہے، تقوا کوئی ایسی چیزنہیں ہے کہ جس کو کوئی ایک لمحہ کیلئے چھوڑ دے۔ اگر چھوڑدیا تو سمجھ لیں کہ پاؤں راستہ سے بھٹکا۔جادہ پھسلنے والا ہے، (نیچے) بہت گہری کھائی ہے اگر لڑکھڑائے تو زوال یقینی ہے، مگر یہ کہ ہمارا ہاتھ کسی کا سہارا لے لے یا کسی درخت یا جھاڑی کا سہارا لینے کا موقع مل جائے اور اس کے ذریعہ ہم خود کو بچالیں اور اوپر کھینچ لیں۔
’’اِنَّ الَّذِ یْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّھُمْ طَآئِفٌ مِنَ الشَّیْطَانِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَاھُمْ مُبْصِرُوْنَ‘‘۔(سورۂ اعراف:۲۰۱)
جب صاحب تقوا آدمی شیطان کے مس کرنے کا احساس کرتا ہے تو اپنے آپ میں آجاتا ہے اور ہوشیار ہوجاتا ہے، شیطان ہم سے دور تو ہونے والا نہیں ہے اس لئے پہلی وصیت تقوا ہے۔
 


1
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम