Code : 1051 82 Hit

تقیہ پر وہابیوں کے اعتراض کا جواب(2)

ملل ونحل کی بعض کتب میںشیعوں کی طرف یہ جھوٹی نسبت دی گئی ہے کہ یہ لوگ تقیہ کی بنا پر پیغمبروں کے لئے کفر کے اظہار کو جائز سمجھتے ہیں جبکہ بزرگ شیعہ علماء نے صاف الفاظ میں یہ تحریر کیا ہے کہ اس موقع پر تقیہ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس کالازمہ یہ ہے کبھی بھی دین الٰہی لوگوں تک نہیں پہنچ پائے گا کیونکہ اکثر انبیاء کی بعثت کی ابتداء میں اکثر لوگ ان کے دشمن ہی ہوتے تھے اور ان کا ابتدائی دور دور تقیہ کے واضح ترین حالات میںداخل تھا لیکن اگر ان کے لئے تقیہ جائز ہو تا اور وہ توحید کا اظہار کرنے کے بجائے کفر وشرک کا اظہار کرتے تو بشریت تک دین الہی نہیں پہنچ سکتا تھا اور یہ نبوت کے مقصد کے سراسرخلاف ہے۔(

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے گذشتہ کالم میں تقیہ کے متعلق وہابیوں کے ایک اہم اعتراض کو پیش کرنے کے ساتھ اس کا جواب بھی دیا تھا چنانچہ سابقہ کالم پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
تقیہ پر وہابیوں کے اعتراض کا جواب(۱)
گذشتہ سے پیوستہ:بعض وہابیوں کا تقیہ کے متعلق شیعہ مذہب پر ایک دوسرا اعتراض یہ ہے کہ چونکہ تقیہ شیعوں کے بنیادی اصول میں شامل ہے ،لہذا شیعوں کے صحیح عقائد کو پہچاننا ممکن نہیں ہے کیونکہ ہرمسئلہ میں تقیہ کا امکان بہر حال پایا جاتاہے لہذا علمی دنیا میں ان کے اقوال کا کوئی بھی اعتبار نہیں ہے۔
جواب:یہ اعتراض کبھی آئمہ معصومین (ع)کی احادیث اور کبھی علماء شیعہ کے اقوال کے بارے میں کیا جاتا ہے۔
جس کے جواب میں ہم سب سے پہلے یہ کہیں گے کہ آئمہ معصومین(ع)نے شریعت کے اصل احکام اورتقیہ کے حالات کے احکام کی شناخت کی مختلف راہیں بیان فرمادی ہیں مثلاً دو روایتوں میں ٹکراؤ پیدا ہو جائے تو ان میں سے اس کو ترجیح دی جائے جو مذہب کے مخالفین کے بر خلاف ہو۔
دوسرے یہ کہ اگر کوئی شخص حکم واقعی اور تقیہ والے حکم کو نہ پہچان پائے تو اس صورت میں دیگر قواعد واصول موجود ہیں جن کے مطابق وہ اجتہاد کرسکتا ہے اور اس طرح اہل بیت(ع) کے ماننے والوں کے لئے کوئی ایسی مشکل نہیں ہے جو حل نہ ہوسکے۔
اسی طرح دوسرے حضرات بھی جب مذہب اہلبیت(ع) کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنا چاہیں تو اس کے لئے انھیں تمام پہلوؤں پر نظر رکھنا ہوگی جن میں سے ایک تقیہ بھی ہے لہٰذا انہیں ہر طرح کے پیش داوری یا تفسیر بالرائے سے پرہیز کرنا ہوگا۔
تیسرے یہ کہ ایسا نہیں ہے کہ تمام مسائل میں ہر اعتبار سے تقیہ کا امکان ہو جس کا نتیجہ میں انسان مذہب اہل بیت(ع) میں اسلامی احکام و معارف کو پہچان ہی نہ سکے تقیہ اگر چہ ایک شرعی اور عقلائی قاعدہ و قانون ہے مگر یہ قاعدہ ثانوی ہے نہ کہ قاعدہ اولی لیکن آئمہ معصومین(ع) کی احادیث میں عام طور سے تقیہ نہیں ہے اور جن مقامات پر تقیہ ہے وہ بہت ہی محدود اور مخصوص مقامات ہیں جن کی شناخت ان لوگوں کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے کہ جو اہل بیت(ع) کے علوم سے واقفیت رکھتے ہیں۔
علماء کرام کے اقوال و نظریات کے بارے میں یہ کہیںگے کہ ان کے نظریات تقسیر ،کلام اور فقہ کی کتابوں میں دنیاکے ہر گوشہ میں موجود ہیں ان کے یہ نظریات چند طرح کے ہیں:بعض کے بارے میں اجماع و اتفاق پایا جاتاہے بعض کو اکثر لوگوں نے قبول کیا ہے یا یہ کہ ان کے درمیان مشہور ہیں بعض کے بارے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے اور ان کے بارے میں اجماع یا شہرت نہیں ہے، بہر حال ان کے نظریات کسی طرح بھی پوشیدہ اور مخفی نہیں ہیں کہ دوسرے لوگ ان کے بارے میں واقفیت پید ا ہی نہ کرسکیںیا ان کے اصل عقائد و نظریات کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہو جائیں یہ دوسری بات ہے کہ جب خود غرض ، ہٹ دھرم اور تنگ نظر لوگ علمائے اہل بیت(ع) کی کتابوں کو پڑھتے ہیں تو ان کو بعض ضعیف اور غیر معتبر اقوال ہی نظر آتے ہیں اور ان ہی کوشیعہ عقائد کی شکل میں بیان کرتے ہیں یا من مانی اوراپنی مرضی کے مطابق شیعہ عقائد میں تحریف کرکے سادہ لوح او ر ناواقف لوگوں کے ذہنوں میں زہر بھرتے رہتے ہیں۔
ملل ونحل کی بعض کتب میں۔(۱)شیعوں کی طرف یہ جھوٹی نسبت دی گئی ہے کہ یہ لوگ تقیہ کی بنا پر پیغمبروں کے لئے کفر کے اظہار کو جائز سمجھتے ہیں جبکہ بزرگ شیعہ علماء نے صاف الفاظ میں یہ تحریر کیا ہے کہ اس موقع پر تقیہ کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اس کالازمہ یہ ہے کبھی بھی دین الٰہی لوگوں تک نہیں پہنچ پائے گا کیونکہ اکثر انبیاء کی   بعثت کی ابتداء میں اکثر لوگ ان کے دشمن ہی ہوتے تھے اور ان کا ابتدائی دور دور تقیہ کے واضح ترین حالات میںداخل تھا لیکن اگر ان کے لئے تقیہ جائز ہو تا اور وہ توحید کا اظہار کرنے کے بجائے کفر وشرک کا اظہار کرتے تو بشریت تک دین الہی نہیں پہنچ سکتا تھا اور یہ نبوت کے مقصد کے سراسرخلاف ہے۔(۲)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔شرح المواقف ۸،۲۶۴،شرح المقاصدج۵،ص۵۰۔
۲۔ارشاد الطالبین ص۳۰۳ اور۳۰۴ ۔





0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम