Code : 828 84 Hit

تقیہ پر وہابیوں کے اعتراض کا جواب(۱)

اگر جھوٹ بولنے میں کوئی اہم مصلحت پوشیدہ ہو تو یہ عقلی اور شرعی ہر لحاظ سے جائز ہے۔البتہ امکان کی صورت میں ضروری ہے کہ توریہ سے کام لے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے:’’ان فی المعاریض لمندوحۃ عن الکذب‘‘۔اسی میں دو لوگوں کے در میان صلح کرنا بھی شامل ہے (جیسا کہ فقہی کتابوں میں ذکر ہوا ہے)جسے شریعت اسلامیہ میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے جیسا کہ خود پیغمبر اکرم(ص) نے اس کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے:’’اصلاح ذات البین افضل من عامۃ الصلاۃ والصیام‘‘۔ لوگوں کے در میان مصالحت کرانا عام نماز اور روزہ سے بہتر ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے گذشتہ کالم میں تقیہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ تقیہ کا مطلب یہ ہے کہ دشمنوں اور مخالفین کے سامنے اپنے عقیدہ حق کو اس وجہ سے چھپانا کہ حق کا تحفظ ہوسکے اور ساتھ ہی اس شخص یا اس قوم کو کہ جو حق کی پیروکار ہے،کوئی نقصان نہ پہونچے،یعنی خطرات کے وقت اپنے قلبی عقیدہ کو محفوظ رکھتے ہوئے اس طرح عمل کرے کہ جس سے اس کی جان،دین اور دنیا محفوظ رہے لہذا اس عقلی و دینی حکمت عملی کے سبب حق کو سب سے پہلے تحفظ فراہم کرنا ہوتا ہے۔سابق آرٹیکل کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے:
شیعیت کی حفاظت کے لئے تقیہ ایک مضبوط حکمت عملی
گذشتہ سے پیوستہ: بعض وہابی جن کا مقصدحیات ہی شیعہ دشمنی ہے اور اس سلسلہ میں وہ اپنے لئے ہر طرح کے قول و فعل کو مباح سمجھتے ہیں چاہے حقائق کو توڑمروڑ کر پیش کرنا پڑے اور جھوٹ،تہمت و غیرہ کا ہی سہاراہی کیوں نہ لینا پڑے وہ تقیہ کے بارے میں شیعوں کے عقیدہ کو سراسر جھوٹ یا نفاق کا نام دیتے ہیں اور تقیہ غلط تصویر پیش کرکے اسے باطل قرار دیتے ہیں۔(۱)
جواب:
۱۔جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ تقیہ شیعوں سے مخصوص نہیں ہے سب مسلمانوں بلکہ تمام صاحبان عقل و شعور نے اسے قبول کیا ہے اور اس پر عمل کیا ہے لہٰذا اگر تقیہ کا لازمہ جھوٹ یا نفاق ہو تو یہ اعتراض تمام مسلمانوں پر یکساں طورسے صادق آتا ہے نہ کہ صرف شیعوں پر۔
۲۔دوسرے یہ کہ اگر جھوٹ بولنے میں کوئی اہم مصلحت پوشیدہ ہو تو یہ عقلی اور شرعی ہر لحاظ سے جائز ہے۔البتہ امکان کی صورت میں ضروری ہے کہ توریہ سے کام لے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے:’’ان فی المعاریض لمندوحۃ عن الکذب‘‘۔اسی میں دو لوگوں کے در میان صلح کرنا بھی شامل ہے (جیسا کہ فقہی کتابوں میں ذکر ہوا ہے)جسے شریعت اسلامیہ میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے جیسا کہ خود پیغمبر اکرم(ص) نے اس کے بارے میں یہ ارشاد فرمایا ہے:’’اصلاح ذات البین افضل من عامۃ الصلاۃ والصیام‘‘۔(۲) لوگوں کے در میان مصالحت کرانا عام نماز اور روزہ سے بہتر ہے۔
۳۔تیسرے یہ کہ قرآن کریم اور روایات کے مطابق نفاق کا مطلب یہ ہے کہ’’ انسان حق کا اظہار کرے اور دل میں اس کے بر خلاف عقیدہ رکھتا ہو،جبکہ تقیہ میں انسان باطل کا اظہار کرتا ہے اور دل سے حق کا عقیدہ رکھتا ہے۔
قرآن کریم میں منافقین اور ان کے عمل کی بہت ہی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے جبکہ آپ نے گذشتہ آیتوں میں خود یہ ملاحظہ فرمایا ہے کہ ان میں تقیہ کو ایک جائز اور پسندیدہ کام قرار دیا گیا ہے اور پیغمبر اکرم(ص)نے جناب عمار یاسر کو یہ اجازت دی تھی کہ جب مشرکین تمہیں اذیت پہونچائیں تو تقیہ کے ذریعہ ان سے اپنی جان چھڑا لینا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔جن لوگوں نے اس قسم کی باتوں کو تحریر کیا ہے ان کے اسماء اس طرح ہیں۔محمدبن ستار،نے اپنی کتاب’’بطلان عقائد شیعہ‘‘ موسیٰ جاراللہ نے الوشیعہ اور احسان الٰہی ظہیرنے اپنی کتابوں میں تحریر کی ہیں۔
۲۔نہج البلاغٖہ، ۳۷
 
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम