شامی صدر کا ماسکو کا غیر متوقع دورہ

شامی صدر بشار الاسد نے ماسکو  کے اپنےغیر متوقع دورہ  کے دوروان  اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کی اوردمشق کے خلاف امریکی پابندیوں کو غیر انسانی اور غیر قانونی قرار دیا۔

ولایت پورٹل:شامی خبر رساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق شام اور روس کے صدور بشار الاسد اور ولادیمیر پوٹین نے بشار الاسد کے ماسکو کے اچانک دورے کے دوران ملاقات کی، ملاقات کے دوران شام کے صدر بشار الاسد نے شام پر عائد پابندیوں کو غیر انسانی اور غیر قانونی قرار دیا۔
 انہوں نے مزید کہا کہ شامی اور روسی فوجوں نے شام میں دہشت گردی پر قابو پانے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، اسد نے کہا کہ بین الاقوامی دہشت گردی کی کوئی سرحد نہیں ہے اور یہ پوری دنیا میں پھیل رہی ہے،تاہم ہمارے اقدامات چاہے سوچی میں ہوں یا آستانہ میں، نے شام میں زندگی کو معمول پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
 انہوں نے مزید کہاکہ کچھ ممالک نے شام پر پابندیاں عائد کی ہیں جنہیں غیر انسانی کہا جا سکتا ہےجبکہ  کچھ ممالک نےہمارے ملک کے سیاسی عمل پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں،انھوں نے کہا کہ  میں روس اور اس کے لوگوں کا شام میں انسانی امداد کے لیے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
درایں اثنا روسی صدر پوٹین نے شام  میں حالیہ صدارتی انتخابات کے اچھے نتائج پر اسد کو مبارکباد دیتے ہوئے مزید کہاکہ  یہ نتائج اس بات پر زور دیتے ہیں کہ شامیوں نے ان تمام مشکلات اور مسائل کے باوجود جو انھیں برسوں سے درپیش ہیں ثابت کیا کہ وہ آپ کے پاس واپس آئیں گےنیزانھوں نے عام زندگی پرواپس آنے کے لیے آپ پر بھروسہ کیا ہے۔
پوٹین نے کہا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعےہم نے دہشت گردوں کو مہلک دھچکا لگایا ہے اور شامی فوج نے 90 فیصد سے زیادہ شامی علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جبکہ بعض جگہوں پر ابھی بھی حالانکہ دہشت گردوں کے اڈے باقی ہیں، دوسری جانب پوٹین نے بیان دیا کہ بشار الاسد نے سیاسی مخالفین سے بات کرنے کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین