شام کا طبی نظام بھی امریکی جارحیت کا نشانہ

معلوم ہوتا ہے کہ واشنگٹن کے رہنما شامی عوام کو سکون کا سانس نہیں لینے دینا چاہتے، اس بار امریکی حکام نے ایک واضح جرم میں اس ملک کے نظام صحت کے شعبے کو نشانہ بنایا ہے۔

ولایت پورٹل:ایسا لگتا ہے کہ شامی عوام، حکومت اور فوج کی بین الاقوامی دہشت گردی کی جنگ کے خلاف مزاحمت، جس کا بارہواں سال ختم ہو رہا ہے، نے واشنگٹن کے حکام کو پریشان کر دیا ہے اور وہ ہر طرح سے شامی عوام کی مزاحمت کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس بار انہوں نے شام کے شعبہ صحت پر پابندیاں تیز کر کے اس ملک کی عوام کی زندگیوں کو براہ راست نشانہ بنایا ہے،اگرچہ شام کے عوام اور حکومت کئی سالوں سے تکفیری دہشت گردوں کے ساتھ برسرپیکار ہیں اور انہیں سخت شکستوں سے دوچار کرنے میں کامیاب رہے ہیں لیکن وہ دہشت گردوں کے ساتھ  ساتھ ان کے حامی امریکی-عرب-ترک-صیہونیوں سے بھی برسرپیکار ہیں اور ان کا مقابلہ کر رہے ہیں نیز بہت سی مشکلات کے باوجود ان کے منصوبوں اور سازشوں کو بے اثر کرنے اور انہیں شکست دینے میں کامیاب رہے ہیں۔
 شام کی وزارت خارجہ نے اس ملک کے صحت کے شعبے پر پابندیوں کو تیز کرنے میں واشنگٹن کے رہنماؤں کے حالیہ اقدام کے جواب میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دمشق ریاستہائے متحدہ کی حکومت ، انڈسٹری اینڈ سکیورٹی آفس (BIS)  اور امریکی محکمہ تجارت کی کی طرف سے اپنے ملک کے صحت کے شعبے کو ایک بار پھر نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کرتا ہے، شام کی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی حکومت کے نئے اضافی اقدامات شام کے سرکاری اور نجی اسپتالوں کی بڑی تعداد میں آلات کی فروخت یا خدمات، معاونت یا اسپیئر پارٹس کی فراہمی کو روکتے ہیں۔
 بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ کے نئے غیر انسانی اقدامات یکطرفہ غیر قانونی جبر اور شامی عوام کے خلاف امریکہ کی غیر قانونی اور غیر اخلاقی ناکہ بندی کے دائرے میں آتے ہیں ، ان اقدامات سے ایک بار پھر انسانی حقوق کی پاسداری پر مبنی امریکی دعووں کی حقیقت سامنے آگئی ہے، شام کی وزارت خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ  امریکہ کے ہاتھوں بچوں کے ہسپتلالوں سمیت لاکھوں شامیوں کو صحت کی خدمات فراہم کرنے والے ہسپتالوں کو نشانہ بنائے جانے کے خلاف اقوام متحدہ، عالمی ادارہ صحت اور بین الاقوامی کمیٹی آف ریڈ کراس کی طرف سے فوری کارروائی کی ضرورت ہے کیونکہ مخالفانہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی دفعات کی صریح خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ شامی حکومت اور بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے شراکت داروں کے حالات زندگی کو بہتر بنانے اور شامیوں کو صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے کی کوششوں میں رکاوٹ ہیں۔
جنگ سے پہلے اور اس کے دوران شام میں صحت کے شعبے کی صورتحال
شام کے بحران کے آغاز سے پہلے اس  ملک کے صحت کی دیکھ بھال کے شعبے کو مشرق وسطی میں صحت کی دیکھ بھال کے بہترین نظاموں میں سے ایک سمجھا جاتا تھا لیکن 12 سال کی وحشیانہ دہشت گردی کی جنگ اور ظالمانہ امریکی پابندیوں نے شامی عوام کو کئی شعبوں میں متاثر کیا ہے جس میں صحت اور علاج میں مشکلات بھی شامل ہیں، تاہم شامی حکومت موجودہ مسائل کے باوجود شامی شہریوں کو نسبتاً اچھی طبی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے،واشنگٹن کی طرف سے جہنم کے دروازے کھولے جانے اور پابندیوں کے بعد شام کا صحت کا شعبہ بھی بحران کا شکار ہے جبکہ امریکی حکومت جو دہشت گردی کی انتہائی وحشیانہ قسم کی پیروی کرتی ہے، نے اس ملک کے صحت کی دیکھ بھال کے شعبے کو بھی نشانہ بنایا ہےجس سے براہ راست مریضوں، بچوں، بوڑھوں اور تمام شامی عوام کو نشانہ بنایا گیا ہے،اس وقت شام کا صحت کی دیکھ بھال کا شعبہ ایسی صورت حال سے دوچار ہے جس کی وجہ سے اس کےلیے اپنا کام جاری رکھنا مشکل ہو رہا ہے، جیسا کہ ہسپتالوں کو اپنے مریضوں کی جان بچانے کے لیے درکار ادویات فراہم کرنے کے لیے تکلیف دہ صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ امریکی اور مغربی پابندیوں کی وجہ سے ادویات اور طبی مراکز کو اپنا کام جاری رکھنے کے لیے درکار اسپیئر پارٹس کی درآمد میں کی شدید کمی ہے ، امریکہ نے اسے جنگی حکمت عملیوں میں سے ایک کے طور پر استعمال کیا ہے جبکہ یہ تمام آسمانی مذاہب کی تعلیمات اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
 شام کے صحت کے شعبے پر پابندیوں کے بارے میں اس ملک کے نائب وزیر صحت احمد خلیفاوی کا کہنا ہے کہ ضروری طبی آلات اور ادویات کی فراہمی کے عمل کے لیے متعدد فریقوں کی ضرورت ہے جو اس وقت پابندیوں کی زد میں ہیں، اور اس کے نتیجے میں ان آلات کو حاصل کرنا ممکن نہیں ہو سکا ہے، اس وجہ سے طبی اور دواسازی کے سازوسامان کی ملکی ایجنسیاں ان آلات کی فراہمی کے لیے دیگر فریقوں اور ممالک کے ذریعے پابندیوں کو نظرانداز کرتی ہیں، جو عملی طور پر اس شعبے کے لیے مخصوص کم سے کم ضروریات پورا کرتی ہیں جبکہ پابندیوں کے نتیجے میں اس شعبے پر بہت سارے اثرات ہوئے ہیں اور مغرب کا یہ دعویٰ کہ پابندیوں سے شام کے صحت کے شعبے پر کوئی اثر نہیں پڑا، جھوٹ کے سوا کچھ نہیں،دمشق سرکاری ہسپتال کے ڈائریکٹر جنرل احمد عباسبھی اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ مسائل اور رکاوٹوں کا ایک حصہ غیر ملکی اسپیئر پارٹس اور ان کے لیے درکار غیر ملکی کرنسی کی فراہمی ہے کہ ہم بطور حکومت اور وزارت ضروری ادویات اور شعبہ فراہم کر سکیں،دوسرے یہ کہ کچھ غیر ملکی کمپنیاں ہیں جنہیں جب پتہ چلتا ہے کہ یہ ادویات شام جا رہی ہیں تو وہ قیصر کے قانون کے خوف سے ہمارے ساتھ کاروبار کرنا چھوڑ دیتی ہیں، کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ قیصر قانون نہ صرف شامی حکومت کو نشانہ بناتا ہے بلکہ ان کمپنیوں کو بھی نشانہ بناتا ہے جو شامی حکومت کے ساتھ تعاون کرتی ہیں۔
قیصر پابندیوں کا ایکٹ، شام کے خلاف امریکہ کا جرم
واضح رہے کہ مارچ 2011 میں شام کے بحران کے آغاز کے ساتھ ہی امریکہ نے عملی طور پر شام کے خلاف دہشت گردی کی کمان سنبھالی اور دہشت گرد گروہوں کو میدان میں اتارا، اسی وقت سے وہ صیہونی حکومت اور انگلستان کے ساتھ دہشت گردوں کی فضائیہ بن گیا، اس کے بعد داعش دہشت گرد گروہ جسے واشنگٹن حکام نے بنایا، منظم اور لیس کیا ، کی شکست اور شام میں امریکی فوجیوں کی آمد کے ساتھ ہی انہوں نے عملی طور پر داعش کی جگہ لے لی اور بہت سے جرائم کا ارتکاب کیا، جس میں تیل، گندم کی چوری کے ساتھ ساتھ شامیوں کی جانیں بھی لیں، قیصر پابندیوں کا قانون، جسے 2019 میں منظور کیا گیا تھا اور 17 جون 2020 کو شام کے خلاف لاگو کیا گیا ، پچھلی پابندیوں کے مقابلے میں زیادہ سخت اور جامع ہے, یہ شام کے اتحادیوں کے خلاف ثانوی پابندیوں کے اطلاق سے متعلق ہے,یہ قانون کم از کم اگلے پانچ سالوں کے لیے (عمل درآمد کے وقت سے)، وہ حکومتیں، کمپنیاں اور افراد جو شامی حکومت کو بالواسطہ یا بلاواسطہ مالی اور عسکری ،تیل، قدرتی گیس، فوجی طیاروں کے شعبوں میں یا اس ملک کی تعمیر میں امداد فراہم کرتی ہیں پابندیوں کے تحت آئیں گی، شام کی معیشت کے اہم شعبوں پر دباؤ ڈالنے کے علاوہ، قیصر کا قانون اس ملک کی غیر ملکی سرمایہ کاری اور مرکزی بینک کو بھی نشانہ بناتا ہے۔
واضح رہے کہ 1979 کے بعد سے امریکہ نے ہمیشہ مختلف وجوہات کی بنا پر شام پر پابندیاں عائد کی ہیں اور 2011 سے اس وقت جب اس ملک میں خانہ جنگی شروع ہوئی تھی، امریکی صدر براک اوباما نے شام پر پابندیوں میں توسیع کرتے ہوئے نئی پابندیاں عائد کیں، واضح رہے کہ شام کی معیشت کے اہم شعبوں پر دباؤ ڈالنے کے علاوہ، قیصر کا قانون غیر ملکی تجارت اور اس ملک کے مرکزی بینک کو بھی نشانہ بناتا ہے، پہلی کارروائی میں امریکہ کی وزارت خارجہ اور خزانہ نے اس ملک کے 39 افراد اور اداروں کو قیصر ایکٹ اور ایگزیکٹو آرڈر 13894 کے تحت پابندیوں کی فہرست میں ڈال دیا، جن میں سے سب سے اہم بشار الاسد اور ان کی اہلیہ عاصمہ اسد،  لشکر فاطمیون،  شامی مسلح افواج کی فورتھ  بٹالین اور اس کے رہنما غسان علی بلال جیسے دیگر لوگ شامل ہیں۔
یاد رہے کہ قیصر پابندیوں کے قانون کی منظوری اور اس پر عمل درآمد کی اہم وجوہات: اول دہشت گردوں کے خلاف شامی فوج اور اسلامی مزاحمتی محاذ کے مجاہدین کی فتح اور دوسرے علاقے میں صیہونی حکومت کا مضبوط ہونا ہے، قیصر ایکٹ کی منظوری میں امریکہ کا بنیادی ہدف شام کی معاشی تباہی اور اس ملک میں عدم اطمینان نیز بدامنی میں اضافہ ہے، تاکہ امریکی اور صیہونی شام میں اپنے منصوبوں اور سازشوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں، لیکن اس  ملک کے عوام، حکومت اور فوج ثابت قدم رہے، انہوں نے یہ سوچ رکھا ہے کہ کہ جس طرح انہوں نے تکفیری دہشت گردوں کے خلاف شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں، اسی طرح صیہونی ،امریکی، عرب، اور ترک لیڈروں پر بھی فتح حاصل کریں گے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین