Code : 2798 15 Hit

شام کی جنرل سلیمانی کے قتل پر سلامتی کونسل کی خاموشی پر تنقید

اقوام متحدہ میں شامی سفیر نے پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اور الحشد الشعبی کے نائب صدر کے قتل پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ولایت پورٹل:شام کی سرکاری نیوز ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق قوام متحدہ میں شام کے مستقل نمائندے بشار الجعفری نے اس بات پر زور دیا کہ شام نے دہشت گردی کے خلاف سلامتی کونسل کے کچھ ممبروں کی حمایت جاری رکھنے کی قیمت ادا کرنے کے باوجود نمایاں فتوحات حاصل کیں اور یہ فتوحات عالمی سطح پر دہشت گردی کے اثرات کو کم کرنے کے بارے میں اہم رول ادا کررہی ہیں،الجعفری نے جمعرات کے روز سلامتی کونسل میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے لئے منعقدہ ایک اجلاس میں کہا کہ سلامتی کونسل کچھ ممالک کی قید میں ہے ، ان میں سے کچھ کونسل کے مستقل ممبر ہیں جو شام میں  دہشت گردی کے ذریعے ایک جائز حکومت کا تختہ الٹنے اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کررہے تھے جیسا انھوں نے عراق ، لیبیا ، وینزویلا اور دوسرے ممالک میں کیا،شامی سفیرنےالنصرہ  فرنٹ کے خلاف شامی فوج اور اس کے اتحادیوں کی کارروائیوں کے دوران سلامتی کونسل کے کچھ ممبر ممالک کی جانب سے روڑے اٹکانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ النصرہ فرنٹ سلامتی کونسل میں دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل ہے جس نے صوبہ ادلب پر قبضہ کیا ہے اور اسے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی ایک اڈے کے طور پر استعمال کیا ہے  لیکن اس کے باوجود  ان کوکونسل کے کچھ ممبران کی حمایت حاصل ہے،الجعفری کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق قراردادوں پر عمل درآمد اور شام میں النصرہ فرنٹ کی حمایت کرنے والے ممالک کو سزا دینے سے انکار کیوں کرتی ہے نیز عراقی اور ایرانی کمانڈروں کے خلاف امریکی دہشت گردی کے جرائم کی مذمت کرنے سے انکار کیوں کرتی ہے؟" داعش اور نصرہ فرنٹ کے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ جاری لڑائی  میں خاموش  کیوں ہے؟
 

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम