سید حسن نصراللہ نے لبنان کو بحران سے نکلنے کے کیے مختصر ترین راستہ دکھا دیا ہے:عطوان

عرب دنیا کے معروف تجزیہ کار نے لبنان میں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے اس ملک کے زرعی اور صنعتی شعبوں میں جہاد کی ضرورت کے بارے میں ان کے بیانات کو لبنان کے لیےبحران سےنکلنے کا سب سے مختصر راستہ قرار دیا ہے۔

ولایت پورٹل:عرب دنیا کے ایک مشہور تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے گذشتہ منگل کو لبنان میں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ کے لبنان میں زرعی اور صنعتی شعبوں میں جہاد کی ضرورت اور لبنانیوں کو بھوکا رکھنے اور گھٹنے ٹیکنے کے لئے مجبور کرنے کے مقصد سے عائد کی جانے والی امریکی پابندیوں کے مقابلہ میں خود کفالت کے بارے میں ایک تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ  لبنان کے وقار اور ملک کو اس بحران سے نکالنے کا یہ سب سے مختصر راستہ ہے۔
انھوں نے جمال عبد الناصر کے زمانہ میں مصریوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مصریوں نے وہی کھاتے تھے جو وہ بوتے تھے اور وہی پہنتے تھے جو ان کے کارخانوں میں بنتا تھا، جمال عبد الناصر مصری سوٹ ، قمیض اور جوتے پہن کر فخر محسوس کرتے تھے ۔
عطوان نے مزید کہاکہ جب قومیں اپنا قومی وقار اور خودمختاری تلاش کرنا نیز سر بلند ہونا چاہتی ہیں  تو وہ یقینا اس کے لئے کوئی راستہ تلاش کر لیتی ہیں ورنہ دوسری صورت میں انھیں ہتھیار ڈالنا اور سر تسلیم خم کرنا پڑتا  ہے۔
عرب تجزیہ کار نے مزیدلکھا  ہے کہ زراعت اور صنعت میں لبنانیوں کی واپسی کوئی عیب نہیں ہے ،نیز جیسا کہ بیروت میں واشنگٹن کے سفیر کے امریکی جبر اور آمرانہ اقدامات کو مدنظر رکھتے ہوئے مشرقی ممالک  یعنی چین ، ملائیشیا ، روس ، عراق ، شام اور ایران جیسے ممالک کی طرف رجحان بھی عیب نہیں ہے  ۔
انہوں نے کہاکہ سید حسن نصراللہ نےجو یہ  کہا کہ مشرق کی طرف رجحان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مغرب سے مکمل طور پر منھ پھیر لیا جائے، شاید تکلف کے طور پر تھا یا یہ کہ وہ ان لبنانی رہنماؤں کا  جواب تھا جو مغرب سے وابستہ رہنا چاہتے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین