Code : 1274 145 Hit

لکھنؤ میں امیرالمؤمنین(ع) انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد ؛بڑی تعداد میں علماء و دانشوروں نے کی شرکت

آخری اجلاس شب میں ۸ بجے مولانا صابر علی عمرانی کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ صدارت نمائندہ مقام معظم رہبری آیت اللہ مہدی مہدوی پور نے فرمائی۔ اس اجلاس میں امیر المؤمنین(ع) اوارڈ بدست آقائے مہدی مہدوی پور بذریعہ آقائے ضابط پروفیسر خسرو قاسم علی گڈھ کو،حجۃ الاسلام مولانا شہوار حسین نقوی کو اور ایراز میڈیکل کالج لکھنؤ کو بذریعہ مہدی رضا صاحب پیش ہوا۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق ادارۂ اصلاح لکھنؤ کے زیر اہتمام 14 قومی اداروں کی جانب سے ’’ امیر المومنین(ع) کانفرنس‘‘ اتوار 28 اپریل کو رائے اوما ناتھ آڈیٹوریم قیصر باغ لکھنؤ میں 3 حصوں میں منعقد ہوئی۔
پہلے اجلاس کا آغاز دن میں 3 بجے قاری محمد رشید کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ صدارت راجہ محمود آباد محمد امیر محمد خاں نے کی افتتاحی خطاب حجۃ الاسلام مولانا سید احمد رضا حسینی ( کناڈا) نے کی موصوف کناڈا میں ایک تبلیغی سینٹر کے سربراہ ہیں اور بہت سے قومی کام انجام دے رہےہیں۔ انہوں نے حضرت علی(ع) کی خلافت بلا فصل کو بہترین دلائل کے ذریعہ پیش کیا۔ یونٹی اسکول کے بچوں نے اپنے استاذ حجۃ الاسلام مولانا سید ارشد حسین عرشی کی رہنمائی میں بہترین اور مؤثر طریقے سے پیش کیا: غریب عیسائی خاندان کی بچی مریم بھوکی ہے اسے شکوہ ہے کہ آج ایلیا ( حضرت علی(ع)) شب کو کھانا لے کر کیوں نہیں آئے؟ معلوم ہوا کہ ان کے سر پر ضربت لگی ہے یہ سن کر وہ تڑپ جاتی ہے روتی ہے بلکتی ہے فریاد کرتی ہے۔ اس پر اثر منظر نے حاضرین کو رونے پر مجبورکردیا۔ پروفیسر عزیز بنارسی نے منقبت امیر المؤمنین حضرت علی(ع)پیش کی۔ سابق مرکزی وزیر عارف محمد خاں صاحب نے امت مسلمہ کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے حضرت علی علیہ السلام کے تعلیمات پر عمل کرنے کی تلقین کی موصوف جناب وقار رضوی کے ذریعہ تشریف لائے تھے انہوں نے اپنے اخراجات سفر اور اپنے قیام و طعام کا خرچ خود برداشت کیا اور اس کہاوت سے اپنا دامن بچایا کہ:’’نہ ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ آئے چوکھا‘‘۔
اس اجلاس میں دو’’ امیر المؤمنین(ع) اوارڈ‘‘ بھی دیئے گئے۔ تبلیغی ادارہ مدرسۃ الواعظین لکھنؤ کے صد سالہ خدمات پر اسے یہ اوارڈ متولی منتظم راجہ محمود آباد مدظلہ کے توسط سے بدست حجۃ الاسلام والمسلمین سید احمد رضا حسینی پیش کیا گیا اس اوارڈ کے ذریعہ اس جذبہ کا اظہار بھی شامل تھا کہ یہ قیمتی ادارہ کبھی بھی تعطل کا شکار نہ ہونا چاہیے۔اور سوا سو سالہ خدمات اصلاح کو مرتب کرنے والے ڈاکٹر مولانا ریحان حسن رضوی کو ’’امیر المؤمنین(ع) اوارڈ‘‘ بدست راجہ صاحب محمود آباد پیش ہوا۔ راجہ صاحب موصوف نے اپنی صدارتی تقریر میں حضرت علی علیہ السلام کی عظیم علمی شخصیت کے حوالہ سے قوم کو تعلیم یافتہ بننے اور جہالت سے دور رہنے کا مؤثر پیغام دیا۔
امیر المومنین(ع) کانفرنس کا دوسرا اجلاس شام ۵ بجے ہوا ۔آغاز قاری الیاس صاحب کے ذریعہ تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ چونکہ اس اجلاس کا پروگرام اودھ نامہ کے مالک وقار رضوی پہلے بنا چکے تھے انہوں نے ہی یہ آڈیٹوریم بک کیا تھا اور گورنر اترپردیش جناب رام نائک کو مدعو کر رکھا تھا۔ اس اجلاس میں انہوں نے استقبالیہ کلمات کے بعد نظامت مولانا سید محمد حسنین باقری کے سپرد کردی۔گورنر جناب رام نائک کے اسی ہفتہ آپریشن کے بعد پیس میکر لگا ہے پھر بھی وہ اس پروگرام میں آنے کے خواہش مند تھے۔ ڈاکٹروں نے جب انہیں اجازت نہیں دی تو انہوں نے اپنا پیغام ٹیپ کراکے اپنے نمائندہ جناب انجم نقوی کے ذریعہ بھیجا۔ یہ پیغام حاضرین کو سنایا بھی گیا اور انجم نقوی صاحب نے تقریر بھی کی۔
اس اجلاس کی صدارت لندن سے بالخصوص تشریف لائے آیت اللہ عقیل الغروی نے کی ۔ابتدا میں جب پروگرام بنا تھا اور فون پر ان سے بات ہوئی تھی انہیں دعوت اس معذرت کے ساتھ دی گئی تھی کہ ادارہ زاد سفر کا بار برداشت نہیں کرسکتا۔انہوں نے فرمایا تھا زاد راہ کا کوئی سوال ہی نہیں۔ زاد راہ کا بار ڈالا نہ اپنے قیام و طعام کی سعادت حاصل کرنے کا موقع دیا۔ ببلو و رومی برادران کے یہاں قیام فرمایا۔ کتاب نفس رسول(ص) کی اشاعت پر ان کا بہت پہلے سے زور تھا۔ اس کے پروف پر نظرثانی بھی فرمارہے تھے۔ لیکن مصروفیات نے اجازت نہ دی ۔ پھر بھی انہوں نے اس کی اشاعت میں قدرے تعاون بھی فرمایا۔اور ماضی کے مخلصانہ روابط کی اخلاقی رعایت کو باقی رکھا۔  
افتتاحی تقریر حجۃ الاسلام الحاج مولانا احتشام عباس زیدی بانی پرنسپل حوزہ علمیہ عین الحیاۃ اکبر پور نے فرمائی۔ اور حضرت علی علیہ السلام کی روش پر چلتے ہوئے علماء سے حق گوئی کا مطالبہ کیا۔ یہ وہ مرد مجاہد ہیں کہ جب ۱۹۸۷ء میں سعودی پولیس نے امریکہ کے خلاف احتجاج کرنے پر چار سو حاجیوں کو شہید کردیا تھا اس وقت انہوں نے زخمیوں کو اسپتال پہنچایا لاشوں کو اٹھایا لباس خون سے تربتر ہوگیا۔ ان کی تقریر کے بعد ’’امیر المؤمنین(ع) اوارڈ ‘‘ پیش ہوئے۔ بزرگ عالم مولانا ڈاکٹر کلب صادق صاحب قبلہ ’’عصری تعلیم کے عصری سر سید‘‘ کے بعنوان بدست آیت اللہ عقیل الغروی ڈاکٹر صاحب کے داماد نجمی صاحب کے ذریعہ۔ پروفیسر فضل امام رضوی کو بعنوان ’’بزرگ استاذ و ادیب‘‘ ان کے بیٹے عماد امام کے ذریعہ بدست حجۃ الاسلام مولانا احتشام عباس زیدی، ہونہار طالب علم مرتضیٰ ثروت تقی کو بدست پروفیسر عراق رضا زیدی۔ اور مخلص ہندو عزادار ۹۳ سالہ پنڈت شیو چرن ترپاٹھی کو بدست جناب انجم نقوی(نمائندۂ گورنر اترپردیش) امیر المؤمنین(ع) اوارڈ سے نوازا گیا۔ باب العلم کے حوالہ سے علم پر پروفیسر عراق رضا زیدی نے معیاری نظم پیش کی۔ صدارتی تقریر میں آیت اللہ عقیل الغروی نے ظالموں کے خلاف آواز بلند کرتے رہنے پر زور دیا انہوں نے ’’امیر المؤمنین(ع) کانفرنس‘‘ کو سراہا اور مدیر اصلاح کی ستائش کرتے ہوئے فرمایا کہ بروقت انہوں نے چہاردہ صد سالہ یادگار شہادت امیر المومنین(ع) منانے کی اپیل کی تھی اور اس پر عمل بھی کیا ایسے پروگرام پورے سال پوری دنیا میں ہونا چاہئے۔ یہ بھی اعلان کیا کہ ماہ صیام کے بعد نئی دہلی اور لندن دونوں مقامات پر میں بین الاقوامی ’’ امیر المؤمنین(ع) کانفرنس‘‘ کا منصوبہ بنا چکا ہوں۔
آخری اجلاس شب میں ۸ بجے مولانا صابر علی عمرانی کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ صدارت نمائندہ مقام معظم رہبری آیت اللہ مہدی مہدوی پور نے فرمائی۔ اس اجلاس میں امیر المؤمنین(ع) اوارڈ بدست آقائے مہدی مہدوی پور بذریعہ آقائے ضابط پروفیسر خسرو قاسم علی گڈھ کو،حجۃ الاسلام مولانا شہوار حسین نقوی کو اور ایراز میڈیکل کالج لکھنؤ کو بذریعہ مہدی رضا صاحب پیش ہوا۔
مدح امیر المؤمنین(ع) جناب مجیب صدیقی نے پیش کی مولانا سید غلام السیدین حاشرؔ جوراسی کا قطعہ تاریخ مولانا سید محمد ابن عباس نے پیش کیا۔ مقررین میں حجۃ الاسلام مولانا سید مراد رضا رضوی نے حضرت علی(ع) اور دینی جمہوریت کے موضوع پر ولولہ انگیز تقریر کی۔ ندوۃ العلماء لکھنؤ کے استاذ مولانا سید محمد غفران ندوی نے اپنی تقریر میں حضرت علی(ع) کے خصائص و فضائل بیان کرتے ہوئے حضرت عمر کا یہ جملہ ’’لولا علی لھلک عمر‘‘ کو اس ترجمہ کے ساتھ پیش کیا کہ اگر علی نہ ہوتے تو عمر برباد ہوجاتا۔ حجۃ الاسلام مولانا علی عباس خاں نے حضرت علی(ع) نے  توحید الٰہی کے اثبات میں جو جدوجہد فرمائی ہے اس کا ذکر اپنی پر جوش تقریر میں کیا۔
امامیہ ہال نئی دہلی کے امام جمعہ حجۃ الاسلام الحاج مولانا ممتاز علی غازی پوری نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ معبود فہمی کا طریقہ حضرت علی(ع) نے سکھایا اور حضرت علی(ع) کی شجاعت ضرورت اسلام تھی۔ صدارتی تقریر سے قبل حکیم امت مولانا ڈاکٹر کلب صادق صاحب قبلہ کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ جو مجلۂ اصلاح کے تازہ امیر المؤمنین(ع) نمبر میں موجود ہے۔ بیماری کی حالت میں بھی انہیں اس پروگرام میں شرکت کی خواہش تھی انہوں نے منتظمین کانفرنس کی ستائش کے ذریعہ ان کی ہمت افزائی کی اور اپنے خاندانی وقار و شرافت و اخلاق کا مظاہرہ فرمایا۔ اسی اجلاس میں چودہ جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب ’’نفس رسول(ص)‘‘ کا اجرا ہوا۔ امروہہ سے تشریف لائے حجۃ الاسلام مولانا کوثر مجتبیٰ نقوی نے کتاب ’’ فضائل الخمسہ فی صحاح ستہ‘‘ کا اردو ترجمہ تین جلدوں میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب کا بھی اجراء ہوا۔ صدارتی تقریر آیت اللہ مہدی مہدوی پور نے فرمائی اور عالمی طاقتوں کے ذریعہ جو جمہوری اسلامی ایران کی دشمنی کی جارہی ہے اس کا سبب انہوں نے اس مملکت اسلامی کا نقش قدم امیر المؤمنین(ع) پر چلنا قرار دیا۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر خسرو قاسم اور ادارۂ اصلاح کو بہت سراہا کہ فضائل اہل بیت(ع) اطہار میں یہاں بہترین کتابیں شائع ہورہی ہیں۔
اس پروگرام میں شامل 14 اداروں کی جانب سے مدیر ماہنامہ اصلاح مولانا سید محمد جابر جوراسی نے آخر میں شکریہ ادا کیا۔ وہ  چودہ ادارے یہ ہیں:(1) ولایت فاؤنڈیشن(دہلی)،(2) المصطفیٰ عالمی یونیورسٹی(دہلی)، (3)اہلبیت کونسل(انڈیا)(4)المومل کلچرل فاؤنڈیشن(لکھنؤ) (5) محبان ام الائمہ تعلیمی و فلاحی ٹرسٹ(پٹنہ) (6) ہدی مشن، (7)  فلاح المومنین ٹرسٹ، (8) عین الحیات ٹرسٹ، (9)حیدری ایجوکیشنل اینڈ ویلفئرسوسائٹی، (10) اودھ نامہ ایجوکیشنل ٹرسٹ (11) سبیل میڈیا (12)  ہادی ٹی وی (13) حسینی چینل (14 ) ادارۂ اصلاح۔اس اجلاس کی بہت کامیاب نظامت حجۃ الاسلام الحاج مولانا سید منظر صادق زیدی نائب صدر اہل بیت کونسل آف انڈیا نے کی۔ یہ ادارہ بھی مذکورہ چودہ اداروں میں شامل ہے اور اس ادارے کی طرف سے امیرالمومنین(ع) کانفرنس کے سلسلے میں مولانا مرزا اظہر عباس کو خصوصی طور سے دہلی سے لکھنؤ بھیجا گیا تھا منتظمین کو ان کا تعاون بھی ملتا رہا۔
ہال سے باہر سڑک تک سامعین موجود تھے انہوں نے اس کانفرنس کی کامیابی پر منتظمین کی ہمت افزائی کی اور اس کی کامیابی کا سبب اخلاص و روحانیت کو قرار دیا۔(رپورٹ سید محمد مہدی باقری مدیر مسئول ماہنامہ اصلاح لکھنؤ)

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम