Code : 2512 28 Hit

مشکلات سے مقابلہ کے لئے بچوں میں امید کی روح کو کیسے پروان چڑھائیں؟

ایک مربی کا اہم کارنامہ یہ ہے کہ وہ آرزو اور حقیقت میں بچوں کو فرق پیدا کرنا سکھائے ۔چونکہ ان نونہالوں نے ابھی زندگی کی تلخی اور شیرینی کو نہیں چکھا ہے اور انہیں آرزو اور حقیقتوں میں تفریق کرنا نہیں آتا لہذا خاص طور پر والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کے ذوق اور آرزوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے حقیقت کو پہچاننے کی طرف مائل کریں۔

ولایت پورٹل: بچوں کے اندر مشکلات سے لڑنے کا حوصلہ دینا اور روز مرہ پیش آنے والے حالات سے مقابلہ کا ہنر سکھانا تربیت کا ایسا جزء لا ینفک ہے جس کے بغیر والدین اپنے فرض تربیت سے سبکدوش نہیں ہوسکتے لہذا والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کریں جب ان کا کسی مشکل سے آمنا سامنا ہو تو وہ اسے دیکھ کر دل ملول یا نروس نہ ہوجائیں بلکہ ان میں یہ جذبہ پروان چڑھے کہ ہم ان مشکل اوقات کو فرصت میں تبدیل کرسکتے ہیں۔ اور یاد رکھئے وہی قومیں آباد رہتی ہیں اور تاریخ میں اپنی جگہ بناتی ہیں جو مشکل گھڑیوں کو فرصت میں بدلنے کا ہنر جانتی ہوں ورنہ یہ زندگی چاروں طرف سے مشکلات کے حصار میں ہے لہذا بچوں کی تربیت کرنے والوں کو چاہیئے چاہے وہ والدین ہوں یا اساتید ان میں یہ ہنر ہونا چاہیئے کہ وہ ان کے سامنے مستقبل کو اس طرح پیش کریں کہ ان میں اس دنیا سے استفادہ کرنے کا سلیقہ پروان چڑھے ان میں خود اعتمادی کا جوہر نکھرے۔
البتہ اس زندگی میں مشکلات کے روبرو ہوتے ہی انسان کے دل دماغ میں بہت سے منفی خیالات کا آجانا ایک بدیھی امر ہے لیکن ان سے لڑنا اور اپنی زندگی کے سفر کو بہر حال جاری رکھنا اور اللہ کی مدد پر بھروسہ رکھتے ہوئے مستقبل کی تاریخ رقم کرنا یہ سب چیزیں تربیت ہی کے نتیجہ میں انسان کو دستیاب ہوتی ہیں۔
اب ایک مربی کا اہم کارنامہ یہ ہے کہ وہ آرزو اور حقیقت میں بچوں کو فرق پیدا کرنا سکھائے ۔چونکہ ان نونہالوں نے ابھی زندگی کی تلخی اور شیرینی کو نہیں چکھا ہے اور انہیں آرزو اور حقیقتوں میں تفریق کرنا نہیں آتا لہذا خاص طور پر والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کے ذوق اور آرزوؤں کو نظر انداز کرتے ہوئے حقیقت کو پہچاننے کی طرف مائل کریں۔
زندگی کے مشکلات اور بحران کے تھپیڑے اتنے شدید ہوتے ہیں جن کے سبب بچوں اور نوجوانوں کے پائے ثبات میں لغزش پیدا ہوجاتی ہے  لہذا پہلے تو انہیں اس بات کا یقین دلائیں کہ آپ ان کے لئے مشکلات میں سب سے بڑی پناہ گاہ ہیں اور جب ان پر کوئی مشکل آئے گی وہ ان کے ساتھ اور شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔جب انہیں آپ کی مدد اور حمایت کا بھروسہ ہوگا تو پھر وہ کسی مشکل کو دیکھ کر نہیں گھبرائیں گے۔
نیز والدین کی ذمہ داری یہ بھی بنتی ہے کہ وہ بچوں میں توکل اور غیبی مدد پر ایمان کا جذبہ پروان چڑھائیں۔ چنانچہ امیر المؤمنین علیہ السلام اپنے ایک خط میں ارشاد فرماتے ہیں:’’واعلم أن الذی بیده خزائن السموات والارض أذن لک فی الدعاء وتکفل لک بالإجابة وأمرک أن تسأله لیعطیک و تسترحمه لیرحمک، ولم یجعل بینک وبینه من یحجبه عنک ولم یلجئک إلى من یشفع لک إلیه، ولم یمنعک إن اسأت من التوبه، ولم یعاجلک بالنقمۃ‘‘۔(سید جعفر شهیدی، قصار الکلمات، نامه ۳۱، ص ۲۰۲) جان لو کہ وہ ذات جس کے دست اختیار میں آسمان و زمین کے خزانے ہیں اس نے تمہیں دعا کرنے میں اختیار دیا ہے اور دعا کی قبولیت کو اپنے ذمہ لیا ہے اور تم سے کہا ہے کہ تم اس سے طلب کرو تاکہ وہ تمہیں عطا کرے اور اس سے بخشش طلب کرو تاکہ وہ تمہیں معاف کردے اور اس نے تمہیں مجبور نہیں کیا ہے کسی کو اس کی بارگاہ میں واسطہ بنا کر لے جاؤ۔ اگر تم نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہے تو تمہیں توبہ سے منع نہیں کیا ہے اور تمہیں سزا دینے میں عجلت نہیں کی ہے۔
ملاحظہ کیجئے! اللہ تعالیٰ کتنا کریم و مہربان خالق ہے؟ اس نے اپنے اور مخلوقات کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں کیا ہے اسے کسی واسطے کی ضرورت نہیں ہے اور ہم کسی بھی گوشہ میں بیٹھ کر دعا کرکے اس سے مرتبط ہوسکتے ہیں اور کبھی اگر ہمارے لوٹنے میں دیر ہوجائے اور تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اگر ہمیں اس کی طرف لوٹنے میں دیر بھی ہوجائے  اور اگر قدم ڈگمگا بھی جائیں اور لوٹنے میں دیر بھی ہوجائے تب بھی اس کا دروازہ بند نہیں ہوگا اس کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہوا ہے اللہ کی آغوش رحمت ہمیشہ پھیلی ہوئی ہے لہذا امیرالمؤمنین کے مذکورہ کلام کی روشنی میں یہ استفادہ ہوتا ہے اپنی روح کو قوی کرنے اور اپنے کو پہچاننے اور اپنی داخلہ طاقت کو یکجا کرنے کی نصیحت اور اللہ پر توکل اور غیبی امداد پر بھروسہ ایک تربیت کرنے والے کے لئے ضروری عنصر تصور کرتے ہیں اور وہ بھی ایسی غیبی امداد کہ جو کبھی ختم نہیں ہوتی اور ہمیشہ انسان کے اختیار میں ہیں۔
پیغمبران الہی ایسے راستے کی طرف رہنمائی کرتے تھے جو حق اور صحیح تھا چنانچہ مفسرین نے ہدایت کے معنیٰ کے سلسلہ میں کہا ہے ہدایت یعنی اس راستہ کی نشاندہی کرنا جو مقصد تک پہونچتا ہے۔اور دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ طالب ہدایت کو مقصد مطلوب تک پہونچا دینا ہی ہدایت کا مطلب ہے۔
لہذا تربیت کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ بچوں کو منزل مقصود تک پہونچانے کی کوشش کرے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम