ایران اور روس؛ اسٹریٹجک شریک یا معاشی رقیب؟(ایک تجزیہ)

توانائی کی عالمی منڈیوں میں ہنگامہ آرائی اور دنیا میں سلامتی کے مسائل نے ایران اور روس کے درمیان مضبوط تجارتی اور سیاسی تعلقات کو ایجاد کیا ہے، اگرچہ کچھ کا خیال ہے کہ یہ عوامل صرف دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی عارضی گرمائش کی نشاندہی کرتے ہیں جبکہ دوسری وجوہات تہران اور ماسکو کے درمیان قریبی اتحاد کی نشاندہی کرتی ہیں۔

ولایت پورٹل:جدید سیاسی تاریخ میں ایران اور روس کے تعلقات تعاون کی بجائے مقابلے کی بنیاد پر زیادہ نمایاں رہے ہیں، سوویت یونین کے دور میں ہونے والے فوجی واقعات نے دونوں فریقوں کے درمیان بداعتمادی کی فضا پیدا کی لیکن روس اپنی سیاسی کارکردگی کو بدل کر ایران کا زیادہ نمایاں اقتصادی اور سیاسی شراکت دار بننے میں کامیاب رہا کیونکہ دونوں ممالک مغربی پابندیوں کا نشانہ بن چکے ہیں نیز حال ہی میں توانائی کی عالمی منڈیوں میں اتھل پتھل اور خطے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تجارتی اور سیاسی تعلقات کا باعث بنی ہے۔
تعلقات کی عارضی گرمجوشی یا قریبی اتحاد؟
بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ عوامل ماسکو اور تہران کے درمیان تعلقات میں عارضی گرمجوشی کی نشاندہی کرتے ہیں جبکہ اس بات پر یقین کرنے کی متعدد وجوہات  ہیں کہ تبدیلیاں بہت زیادہ قریبی اتحاد کی جڑیں دکھاتی ہیں، جس کی علامتیں توانائی ، بجلی کی پیداوار، مشترکہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور فوجی امداد میں تعاون ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی ٹرن اوور، خاص طور پر جدید ہتھیاروں، بھاری مشینری اور گاڑیوں کی تجارت میں ڈرامائی طور پر اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں تجارت کے مجموعی حجم میں 71 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ2014 میں پابندیوں کی بنا پر ایران اور روس کے درمیان تجارت صرف 1.68 بلین ڈالر تک تھی، یاد رہے کہ ایران کی معیشت کے دوبارہ ابھرنے کے ساتھ اور ایرانی صدر کے دورہ ماسکو اور فریقین کے درمیان ہونے والے اقتصادی معاہدوں سے یہ تعداد 10 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچ سکتی ہے،واضح رہے کہ تہران کے ساتھ تجارت مغربی ایشیا میں روس کی خارجہ پالیسی کا سنگ بنیاد ہے۔
پہلی نظر میں جولائی 2015 میں مشترکہ جامع پلان آف ایکشن (JCPOA) کو اپنانے میں ماسکو کے معاون کردار سے روس اور ایران کے درمیان قریبی سیاسی تعلقات میں تیزی آئی ہے، ایران میں اقتصادی ماہرین کے نقطہ نظر سے روس کو ترجیح دی گئی ہے، ایران میں سرمایہ کاری کے لیے ماسکو کے موقف اور بحیرہ کاسپین کی قانونی حیثیت کے دیرینہ مسئلے پر مشترکہ سفارتی اقدامات بے مثال تعاون کی نئی سطحوں کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم، یہ پیش رفت ایران کی مشکل ساختی اور اقتصادی صورتحال کو نظر انداز کرتی ہے، 10 سال سے زائد عرصے سے روسی فیڈریشن اور ایران کے درمیان مالیاتی کاروبار 2020 میں 1.7 سے 2.2 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور 2021 میں، ہونے والی پیش رفت کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم اب بھی کم ہے، روس اور ایران کے برآمدی ڈھانچے کی موجودہ صورتحال ایسی ہے کہ صارفین کی ایک دوسرے کی اشیاء کی مانگ بہت کم ہے، کموڈٹی ایکسچینج کی انتہائی کم سطح اس کا ثبوت ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کریملن اجلاس میں بجا طور پر نشاندہی کی کہ دوطرفہ تجارت کی موجودہ سطح تسلی بخش نہیں ہے اور اس سلسلے میں دونوں ممالک نے تجارتی تعامل کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور تجارتی تبادلوں کو ابتدائی مرحلے میں 10 ارب ڈالر کی سطح تک بڑھانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ روس کی تجارت کے حجم میں 2021 میں ایک تاریخی ریکارڈ قائم ہوا اور تقریباً چار ارب ڈالر تک پہنچ گیا، 2021 کے 11ویں مہینے میں ایران کے ساتھ روس کی تجارت کی نمو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 89.4 فیصد اضافے کے ساتھ 3 ارب 785 ملین ڈالر تک پہنچ گئی جو 2021 کے آخر تک 4 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
 2021 میں روس اور ایران کے درمیان تجارت کے اس حجم میں سے چار بلین ڈالر کا حجم ہے جو کہ ایک تاریخی ریکارڈ ہے، ایران کو روس کی برآمدات دگنی سے بھی زیادہ اور تقریباً 3 بلین ڈالر ہیں جبکہ ایران سے روس کی درآمدات میں تقریباً 22 فیصد اضافہ ہوا ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا تقریباً 80 فیصد زرعی مصنوعات جیسے اناج اور تیل کے بیج، سبزیاں، پھل، خشک میوہ جات اور گری دار میوے پر مشتمل ہے، دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں متعدد تجارتی منصوبے بھی لگائے جا رہے ہیں جن میں 2021 میں تیزی آئی ہے۔
 بہت سی ایرانی اور روسی کمپنیاں اپنی مصنوعات تہران اور ماسکو کو بیچوان ممالک جیسے ترکی، متحدہ عرب امارات، آذربائیجان اور دیگر ممالک کے ذریعے فراہم کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک روسی کمپنی اپنی مصنوعات تہران کو ترک ثالث کے ذریعے فراہم کرتی ہے اور اس کے برعکس تہران سے ماسکو کو جبکہ قدرتی طور پر اس قسم کی بالواسطہ تجارت ایران اور روس کے درمیان کسٹم سروس کے اعدادوشمار میں شامل نہیں ہے، ممالک کے درمیان تجارت کا حقیقی حجم کسٹم سروس کے سرکاری اشارے سے نمایاں حد تک بڑھ گیا ہے،2020 کے آخر تک ایران کے ساتھ حقیقی تجارت 10 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔
 دریں اثنا تہران اور ماسکو کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعاون کی سطح میں توسیع کو دیکھتے ہوئے بعض معاملات ایسے بھی ہیں جو فریقین کے اقتصادی تعاون کی توسیع کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں جبکہ ان کو آسان بنا کر ایک بڑی فریقین کے معاشی تبادلے میں بہت وسعت آسکتی ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین