Code : 846 16 Hit

جوانی اور اس کا نشہ

جوانی اللہ کی نعمت ہے اگر اس سے فائدہ اٹھایا جائے اور اسے صحیح جگہ پر استعمال کیا جائے لیکن اگر اس جوانی کو بے فائدہ و بے سود کاموں میں لگادیا جائے تو یہ جہاں خود کی شرمندگی کا سبب بن سکتی ہے وہی اس کے والدین اور خاندان کے ذلت کی وجہ بھی قرار پاسکتی ہے۔

ولایت پورٹل: ایک دن جوانی کے نشے میں ،میں نے سفر میں بڑی تیزی دکھائی اور تھک ہار کر رات کے وقت ایک ٹیلے کے دامن میں جا لیٹا۔ ایک بوڑھا ضعیف جو قافلے کے پیچھے پیچھے آرہا تھا، کہنے لگا:بیٹھے کا ہے کو ہو، میاں یہ بھی کوئی سونے کی جگہ ہے۔ میں نے کہا چلوں تو کیسے، مجھ میں دم نہیں۔ بوڑھے نے کہا: کیا تم نے داناؤں کا قول نہیں سنا کہ آہستہ چلنا اور کبھی کبھار دم بھر کے لیے سستانا، بھاگنے اور تھک ہار کر بیٹھ جانے سے ہزار درجے بہترہے۔
شیخ سعدی فرماتے ہیں کہ ایک درویش کی بیوی حاملہ تھی اور وضع حمل کا وقت قریب آرہا تھا۔اس بے چارے کے ہاں عمر بھر کوئی اولاد پیدا نہ ہوئی تھی۔ اس نے منت مانی کہ اگر خداوند تعالیٰ مجھے بیٹا عطا کرے ،تو میں اپنے تن کے ان کپڑوں کے علاوہ باقی سب کچھ اس کی راہ میں مسکینوں اورمحتاجوں کو دیدوں گا۔اتفاق کی بات کہ اس کے ہاں بیٹا ہوا۔ اپنی منت کے مطابق اس نے خوان کرم بچھایا۔ میں مدتوں شام کی سرزمین میں گھومتا رہا۔ کئی سالوں کے بعد جب سفر سے واپس آیا، تو اس محلے سے گزر ہوا۔ میں نے لوگوں سے اس کا حال احوال پوچھا۔ کہنے لگے، وہ تو کوتوالی کی حوالات میں ہے۔ میں نے وجہ پوچھی، تو بتایا گیا کہ اس کے بیٹے نے شراب پی کر نشہ میں دُھت ہو کر خرمستی کی اور کسی کو موت کے گھاٹ اُتار کر خود بھاگ نکلا۔ اب اُس کی جگہ باپ کے پاؤں میں بیڑیاں اور گلے میں طوق ہے۔ میں نے کہا اس بلا کو تو اُس نے دعاؤں اور منتوں مرادوں سے پایا تھا۔


شفقنا


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम