Code : 4048 9 Hit

جنوبی سعودی عرب یمن کا حصہ ہے؛عثمانی دور کی دستاویز

ترک حکومت نے حال ہی میں عثمانی دور کی ایک دستاویز جاری کی جس میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی سعودی عرب کے بہت سے علاقےیمن کا حصہ ہیں۔

ولایت پورٹل:سعودی عرب اور خاص طور پر اس ملک کے ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ اپنی پوشیدہ کشیدگی کو جاری رکھتے ہوئے  ترکی نے ایک دستاویز لیک کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی سعودی عرب تاریخی طور پر یمن کا حصہ ہے، اس دستاویز میں ، جو سال 1295 ھ (1844 ء / 1222 شمسی ) سے تعلق رکھتی ہے،کے مطابق عایض بن مرعی  نامی عسیر (سعودی عرب کا حصہ) علاقہ کے حکمران نے عثمانی بادشاہ ، سلطان عبد المجید کو ایک خط بھیجا ، جس اس خطے کو یمن کی سرزمین قرار دیا ہے۔
"مطابعات"  کی رپورٹ کے مطابق  اس خط میں ابن مرعی  نےعثمانی سلطان کی تعریف کے بعد اپنا تعارف اس طرح کروایا ہے کہ ’’ہم  سلطان ابن سلطان ، عبد المجید ابن محمود ابن خان کی خدمت میں اپنا تعارف کرواتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ ہم عرب قبائل کا ایک قبیلہ ہیں جو سرزمین یمن کے ایک پہاڑ میں آباد ہیں اور اسلام کے احکام و شریعت کی پابندی کرتے ہیں۔۔۔ ‘‘۔
یادرہے سعودی میڈیا کی جانب سے2016 ترکی میں ہونے والی  ناکام بغاوت کی مکمل حمایت کی وجہ سے ریاض اور انقرہ کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے جن میں استنبول میں سعودی  قونل خانہ میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بہیمانہ قتل کے بعددونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید درار آگئی۔
واضح رہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے معاملے میں  ترکی نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر کڑی تنقید کی اور انھیں اس قتل میں ملزم قرار دیا جس سے دونوں ممالک کے مابین تجارت کم ہوگئی۔
ادھر ترکی کےصدر کی جانب سے 86 سال بعد استنبول میں واقع ایا صوفیہ میوزیم کو ایک مسجد میں تبدیل کرنے کے اقدام کو بھی سعودی میڈیا میں  تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ترکی کی جانب سے عثمانی دستاویزات سے تاریخی دستاویزات کی کھوج بھی سعودی اقدامات اور پالیسیوں (خاص طور پر لیبیا ، شام اور جنوبی قبرص میں) کے جواب میں معلوم ہوتی ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین