Code : 3954 20 Hit

شادی کے بارے میں کچھ غلط تصورات

کچھ خاندانوں اور گھروں میں تو شادی بیاہ کے متعلق عجیب و غریب رسمیں ہیں کہ وہی رسمیں کبھی کبھی شادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہیں لہذا ہمیں ان غلط تصورات ، افکار اور خیالات کو کم از کم جوانوں کی شادی کی راہ میں رکاوٹ بننے نہیں دینا چاہییئے۔ اگرچہ شادی کے مسئلہ میں بہت سی غلط رسم و رواج ہم مسلمانوں میں رائج ہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ وہیں بہت سے کچھ غلط افکار آج دشمنان دین و مذہب کی طرف سے جوانوں کے ذہنوں میں القاء کئے جارہے ہیں جن کے سبب ہمارا جوان شادی سے پیچھے بھاگ رہا ہے۔

ولایت پورٹل: شادی کے سبب، انسان زندگی کے ایک جدید مرحلہ میں قدم زن ہوجاتا ہے۔ یہ دنیا غیر شادی شدہ زندگی سے بہت مخلتف ہے۔ یہ ایسی دنیا ہے آج بہت سے جوان جلد از جلد اس میں داخل ہونا چاہتے ہیں لیکن کچھ غلط خیالات و افکار کہ بسا اوقات جو خود اپنی ہی طرف سے پیدا ہوجاتے ہیں یا خود اپنے خاندان والے یا معاشرے کے دیگر افراد یا دشمنان دین و انسانیت کے فریبی نعروں میں آکر ہمارے جوانوں کے ورد زبان ہوچکے ہیں کہ جن کے سبب آج جوانوں کی شادیوں میں بہت سی مشکلات اور رکاوٹیں پیدا ہوتی جارہی ہیں۔
کچھ خاندانوں اور گھروں میں تو شادی بیاہ کے متعلق عجیب و غریب رسمیں ہیں کہ وہی رسمیں کبھی کبھی شادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہیں لہذا ہمیں ان غلط تصورات ، افکار اور خیالات کو کم از کم جوانوں کی شادی کی راہ میں رکاوٹ بننے نہیں دینا چاہییئے۔ اگرچہ شادی کے مسئلہ میں بہت سی غلط رسم و رواج ہم مسلمانوں میں رائج ہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ وہیں بہت سے کچھ غلط افکار آج دشمنان دین و مذہب کی طرف سے جوانوں کے ذہنوں میں القاء کئے جارہے ہیں جن کے سبب ہمارا جوان شادی سے پیچھے بھاگ رہا ہے۔  لہذا ہم اس مقالہ میں ان میں سے کچھ کی طرف اشارہ کررہے ہیں:
شادی کے متعلق کچھ غلط تصورات
۱۔ میرا شریک حیات بے عیب و نقص ہونا چاہیئے
عام طور پر آج ہمارے معاشرے کے جوان لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے ذہن میں یہ خرافاتی تصور پیدا ہوجاتا ہے کہ ہمارا شریک زندگی بے عیب ہونا چاہیئے۔ اب ظاہر جو اس طرح کی عینک سے دوسروں کو دیکھنا چاہے گا تو اس کے معیار پر تو کوئی بھی پورا نہیں اتر سکتا ۔لہذا ہمیں ایسے افراد کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں کوئی بھی سو فیصد کامل و اکمل نہیں ملے گا۔ ذرا جناب! اپنے بارے میں تو بتلائیے، کیا آپ ہر اعتبار سے کامل و اکمل ہیں ؟ کیا آپ میں کوئی عیب نہیں پایا جاتا؟
ہر انسان میں کچھ خوبیاں ہوتی ہیں اور ممکن ہے کچھ ایسی عادتیں بھی ہوں جو دوسروں کو پسند نہ آئیں۔البتہ آپ اچھے صفات والا ہمسفر تلاش کیجئے۔ اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے! اگر آپ ایک انجیئنیر ہیں تو کیا آپ دوسرے پروفیشنز میں بھی ویسے ہی ہیں جیسے انجیئنیرنگ میں؟ نہیں ! یہ کبھی ہو ہی نہیں سکتا کہ آپ کو ایسا ہمسفر اور شریک حیات مل جائے جو ہر اعتبار سے کامل ہو۔ البتہ ایسا ضرور مل سکتا ہے جس میں اکثر چیزیں اچھی مثبت پائی جائیں۔لہذا اپنے ذہنوں سے یہ غلط سوچ نکال دیجئے تو جلد ہی آپ کو کوئی شریک زندگی مل جائے گا۔
۲۔جب تعلیم مکمل ہوجائے گی تب شادی کریں گے
آج تعلیم کے مکمل ہونے کا انتظار بھی ہمارے معاشرہ میں ایک رائج تصور ہے اور ہمارے اکثر جوان اس وقت تک شادی کرنے کے بارے میں نہیں سوچتے جب تک ان کی تعلیم مکمل نہ ہوجائے۔
آج کل تعلیم کا دورانیہ بھی کافی طولانی ہوچکا ہے لہذا جوان اپنی تعلیم کے دوران شادی کرنے کی فکر بھی نہیں کرتے۔لیکن دینی کی تعلیمات کی روشنی میں ہم ایسے لوگوں کو یہ مشورہ دیں گے کہ کبھی تعلیم کے مکمل ہونے کا انتظار کرنے کے سبب شادی میں تأخیر مت کیجئے! چونکہ جہاں بہت سی دیگر چیزیں ترقی کا سبب اور ضمانت ہوتی ہیں وہیں ایک شادی بھی ہے چونکہ انسان شادی کے بعد جلد اپنی خواہش تک پہونچ سکتا ہے۔ اسے ترقی کا راستہ مل سکتا ہے۔اسے بہت سی ٹینشنوں سے  نجات مل سکتی ہے چنانچہ ایک حدیث میں رسول اللہ(ص) کا ارشاد ہے:’’غیر شادی شدہ لوگوں کی شادی کراؤ! چونکہ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے ان کے اخلاق کو نیک بنا دے گا اور ان کے رزق میں اضافہ فرمادے گا اور ان میں اعلیٰ انسانی اقدار پیدا ہوجائیں گی‘‘۔(۱)
 ۳۔کوئی بھی مجھ جیسا اور میرے خاندان جیسا نہیں ہے
قارئین کرام! غرور ، تکبر بھی شادی کرنے کی راہ میں ایک رکاوٹ ہے چونکہ جب کوئی یہ سوچ لیتا ہے کہ کوئی بھی خاندان ہمارے خاندان جتنا اچھا نہیں ہے۔ یا کوئی بھی لڑکا یا لڑکی ہمارے لائق نہیں ہے۔ جو میں اس سے شادی کرسکوں۔لہذا اس طرح کے غرور آمیز خیالات شادی میں تأخیر کا سبب بنتے ہیں۔ اور اگر تأخیز کا سبب بھی نہ بنیں یہ بات تو طئے ہے کہ ایسا انسان کسی کے ساتھ خوش نہیں رہ سکتا ۔ظاہر ہے جن لوگوں کی ایسی فکر ہو کون ان سے رشتہ جوڑنا چاہے گا۔لہذا ایک حدیث میں حضرت امام جعفر صادق(ع) سے منقول ہے:’’تکبر و غرور کرنے والا لوگوں کی نظر میں  سب سے مبغوض و منفور ہوتا ہے‘‘۔(۲)
اور ایسے لوگ جن میں غرور بھرا ہوتا ہے اگر کہیں شادی کر بھی لیتے ہیں تو بھی ان کا یہ غرور و تکبر انہیں چین سے جینے نہیں دیتا اور پوری زندگی اس کے کرب سے جھوجتے رہتے ہیں ۔ظاہر ہے ایسے لوگوں کے ساتھ رہنا بہت سخت مرحلہ ہے لہذا جس جوان میں یہ فکر پروان چڑھی سمجھ لیجئے کہ وہ کبھی اپنی مشترکہ زندگی میں خوش نہیں رہ سکتا لہذا ہمیں اپنے جوانوں کے ذہنوں سے ایسی غلط افکار کو باہر نکالنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیئے۔
۴۔کافی درآمد کا نہ ہونا
آج اکثر جب ہم اپنے جوانوں سے پوچھتے ہیں کہ کیوں ابھی تک شادی نہیں کی؟ تو ان کا جواب یہ ہوتا ہے چونکہ ہمارے پاس پیسہ نہیں ہے ۔ابھی تک نوکری بھی نہیں لگی۔کوئی جاب بھی ہاتھ نہیں آئی؟
اگرچہ مناسب در آمد کا نہ ہونا ہمارے سسٹم کا نقص ہے کہ ہمارے اکثر جوان بے روزگار رہ جاتے ہیں اور ان کی کوئی معقول آمدنی کا ذریعہ جلد ممکن نہیں ہوپاتا جبکہ بہت سو کے پاس اتنے پیسہ ہوتے کہ انہیں خود اپنی دولت کا اندازہ نہیں ہو پاتا۔
لیکن ہم ایسے جوانوں سے کہیں گے کہ جب موقع ملے قرآن مجید ضرور پڑھا کریں اس میں اللہ کا ارشاد ہے:’’ وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَاللَّـهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ‘‘۔(۳)
اور اپنے غیر شادی شدہ آزاد افراد اور اپنے غلاموں اور کنیزوں میں سے باصلاحیت افراد کے نکاح کا اہتمام کرو کہ اگر وہ فقیر بھی ہوں گے تو خدا اپنے فضل و کرم سے انہیں مالدار بنادے گا کہ خدا بڑی وسعت والا اور صاحب علم ہے۔
اگر آپ کے پاس کافی سرمایہ و مال نہیں ہے اور آپ کو یہ خوف ستاتا ہے کہ اگر شادی کر بھی لی تو کیسے زندگی کے خرچے پورے ہونگے تو یاد رکھئے! اللہ برکت دے گا اور آپ کو مناسب روزگار بھی عطا کرے گا۔ ہمیں اللہ پر توکل کرنا چاہیئے۔ اس کے بارے میں گمان بد سے پرہیز کرنا چاہیئے چونکہ اللہ کے ہاتھ میں سب کچھ ہے وہ اپنی قدرت سے تنگ دست کو بھی غنی بنا دیتا ہے۔(۴)
البتہ اس طرف بھی توجہ رہے کہ چونکہ ہم نے شادی کو اتنا سخت بنا دیا ہے کہ انسان سو مرتبہ سوچتا ہے جبکہ شادی جتنا دین نے آسان بنایا ہے اتنا ہی ہم لوگوں نے اسے سخت بنا دیا ہے۔ اگر زندگی سادگی میں بسر کرنے کا ارادہ ہو تو شادی کسی وقت بھی کی جاسکتی ہے اس میں کافی در آمد ہونا ضروری نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔بحار الأنوار ، جلد ‏۱۰۰، ص 222۔
۲۔من لا یحضره الفقیه جلد ۴، ص ۳۹۵۔
۳۔سوره نور: 32۔
۴۔تفسیر نورالثقلین، الشیخ الحویزی،ج3، ص597، ح14۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین