Code : 3582 33 Hit

گھر کے آنگن میں امام خمینی(رح) کے کچھ نقوش

اگر ہم کسی شخص سے امام خمینی(رح) کی شخصیت کے بارے میں کچھ معلوم کریں تو وہ سب سے پہلے آپ کی سیاسی اور مذہبی شخصیت کے متعلق بات کرے گا۔ چونکہ لوگوں کے سامنے آپ کی زندگی کے یہی دو پہلو سیاسی و مذہبی، زیادہ نمایاں ہیں۔ جبکہ یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ جو شخصیت عظیم ہوتی ہے وہ اپنی کسی ایک خصوصیت کے سبب عظیم نہیں ہوتی بلکہ اس کا پورا وجود کمال کی طرف گامزن ہوچکا ہوتا ہے اور وہ زندگی کے اکثر شعبہ جات میں ایک کامیاب انسان ہوتا ہے۔اس لئے وہ عظیم ہوتا ہے۔

ولایت پورٹل: اکثر و بیشتر ایسا ہوتا ہے کہ جب دنیا کی کسی عظیم شخصیت کے متعلق کوئی بات کی جاتی ہے تو اس کا تعارف اس کی زندگی کے کسی ایک شعبہ سے مخصوص ہوکر رہ جاتا ہے اور اس کی زندگی کے باقی پہلو تحت الشعاع چلے جاتے ہیں۔ اور مطالعہ و تحقیق کرنے والوں سے اس کی زندگی کے دیگر پہلو پوشیدہ ہی رہ جاتے ہیں۔ چنانچہ اس قانون سے امام خمینی(رح) کی شخصیت بھی مستثنیٰ نہیں ہے۔ اگر ہم کسی شخص سے امام خمینی(رح) کی شخصیت کے بارے میں کچھ معلوم کریں تو وہ سب سے پہلے آپ کی سیاسی اور مذہبی شخصیت کے متعلق بات کرے گا۔ چونکہ لوگوں کے سامنے آپ کی زندگی کے یہی دو پہلو سیاسی و مذہبی، زیادہ نمایاں ہیں۔ جبکہ یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ جو شخصیت عظیم ہوتی ہے وہ اپنی کسی ایک خصوصیت کے سبب عظیم نہیں ہوتی بلکہ اس کا پورا وجود کمال کی طرف گامزن ہوچکا ہوتا ہے اور وہ زندگی کے اکثر شعبہ جات میں ایک کامیاب انسان ہوتا ہے۔اس لئے وہ عظیم ہوتا ہے۔
اگر ہم امام خمینی(رح) کی بات کریں تو جہاں آپ کی شخصیت کے یہ دو پہلو یعنی سیاسی و مذہبی بہت نمایاں ہیں وہیں آپ کی زندگی میں تربیتی، اخلاقی اور عرفانی بہت سے گوشے ایسے ہیں جن پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے آئیے ہم اس مضمون میں امام خمینی(رح) کی اپنے گھر والوں یعنی زوجہ اور بچوں سے رابطہ کی کیفیت پر روشنی ڈالیں گے  چونکہ ہمارے لئے آپ کی گھریلو زندگی بڑی جاذب ہے اور اس میں بہت سے سبق آموز نکات پائے جاتے ہیں۔
گھر کے کاموں میں بیوی کی مدد اور ان کا احترام
امام خمینی(رح) کی گھریلو زندگی کا  ایک اہم اور قابل توجہ نکتہ اپنی زوجہ کو مکمل طور پر درک کرنا اور سمجھنا ہے ۔ چنانچہ وہ یاد داشتیں جو امام خمینی(رح) کی مشترک زندگی کے متعلق نقل ہوئی ہوئی ہیں ان میں یہ نکتہ نہایت توجہ کا حامل ہے کہ آپ اپنی زوجہ محترمہ کا خاص احترام کرتے تھے اور ان کا ہر موقع پر خاص خیال رکھتے تھے چنانچہ اس کے متعلق خود آپ کی زوجہ فرماتی ہیں:امام خمینی(رح) میرا بہت احترام کرتے تھے اور مجھے ہر جگہ خاص طور پر اہمیت دیتے تھے اور میرے لئے کبھی کوئی نامناسب کلمہ اپنی زبان پر نہیں لاتے تھے۔ اگر وہ کسی سبب غصہ میں بھی ہوتے تو کبھی میرے ساتھ بے احترامی اور سوء ادب سے پیش نہیں آئے۔جب دسترخوان پر بیٹھتے تھے جب تک میں نہیں آتی تھی وہ کھانا شروع نہیں کرتے تھے اور بچوں سے بھی کہتے تھے کہ تھوڑا انتظار کرو تاکہ تمہاری والدہ آجائے۔ اگرچہ زندگی میں بہت پریشانیاں تھیں آپ ایک طالب علم تھے اور شہریہ(اسکالر شپ) سے ملنے والی معمولی رقم پر گذر بسر ہوتی تھی لیکن آپ اتنے خوددار تھے کہ  کبھی کسی سے اپنی پریشانی کا حال نہیں سنایا بلکہ آپ ہمیشہ یہی چاہتے تھے کہ اس معمولی شہریہ پر ہی زندگی گذر بسر ہوجائے۔آپ میرے ساتھ گھر کے کاموں میں بھی اکثر میرا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔(1)
بیوی اور شوہر چونکہ ایک طویل عرصہ ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں ، ممکن ہے ان کے درمیان احترام کی وہ کیفیت باقی نہ رہے جو ابتدائی زندگی میں ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ امر نہ چاہتے ہوئے بھی رونما ہوجاتا ہے لیکن بہر حال مشترکہ زندگی پر اس کے اپنے خاص اثرات ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی ایسی خاتون ہو کہ جس نے اپنے شوہر کے ساتھ شادی شدہ زندگی کے ۶۰ برس گذارے ہوں اور شوہر کے انتقال کے برسوں بعد بھی وہ انہیں اس طرح یاد کرتی ہوں تو یہ چیزیں اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ بیوی اور شوہر کے اگرچہ بڑے صمیمی روابط ہوتے ہیں کہ جہاں اکثر حد ادب و احترام کا پاس و لحاظ نہیں کیا جاتا ہے لیکن ہمیں امام خمینی(رح) کی زندگی میں یہ نظر آتا ہے کہ تعلقات کی گہرائی کے ساتھ ساتھ ایک طویل عرصہ تک ساتھ رہنے اور بے تکلفی کے باجود احترام کرنا قابل توجہ امر ہے ۔ اپنی بیوی کی بے احترامی تو دور کی بات بلکہ امام خمینی(رح) کی زوجہ کہتی ہیں کہ: میں گھر کے سارے کام اس وقت انجام دیتی تھی جب امام خمینی(رح) گھر سے باہر درس پڑھنے یا پڑھانے کے لئے گئے ہوئے ہوتے تھے چونکہ جب بھی میں برتن دھوتی،جھاڑو لگاتی یا اپنی بیٹیوں کی چادریں اور لباس دھوتی تھی تو امام خمینی(رح) مجھے یہ سب کام کرنے سے منع کرتے تھے اور اپنے آپ وہ کام انجام دیتے تھے۔
امام خمینی(رح) کی زوجہ ایک واقعہ اس طرح بیان کرتی ہیں: یہ اس وقت کا واقعہ ہے کہ جب ہماری بیٹیوں کی شادی ہوچکی تھی، میں ایک دن اپنے گھر کی حوض پر بیٹھی ہوئی کھانے کے برتن دھو رہی تھی جیسے ہی آپ نے دیکھا کہ میں برتن دھو رہی ہوں ایک بیٹی ۔ فریدہ۔ جو اس وقت سسرال سے آئی ہوئی تھی۔ فرمایا: فریدہ جاؤ! تمہاری والدہ برتن دھو رہی ہے چنانچہ میری بیٹی آئی اور اس نے میرے ہاتھ سے برتن لیکر دھوئے۔(2)
نہایت افسوس کی بات ہے کہ آج کل اکثر لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ گھر کے سارے کاموں کو انجام دینا بیوی کی ذمہ داری ہے اور اسی سبب وہ گھر کے کاموں میں اپنی بیوی کی کوئی مدد نہیں کرتے جبکہ امام خمینی(رح) کاطریقہ اس گمان کے بالکل برعکس تھا۔
بیوی کو کسی کام کا حکم نہ دینا
عام طور پر جب شادی کو کچھ عرصہ گذر جاتا ہے تو اب احترام آہستہ آہستہ رخصت ہوجاتا ہے اور کچھ شوہر تو اپنی بیویوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتے ہیں جیسے وہ کوئی شریک زندگی نہیں بلکہ گھر میں کام کرنے والی کوئی کنیز یا باندی لائے ہوں اور محبت بھرے جملات کی جگہ اب کلام میں آمریت کا لہجہ آجاتا ہے چنانچہ اپنے والد کے لئے امام خمینی(رح) کی بیٹی، محترمہ فریدہ مصطفوی کہتی ہیں: ہم نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ ہمارے والد نے ہماری والدہ کو کسی کام کے کرنے کا حکم دیا ہو یہاں تک کہ یہ کہا ہو کہ ایک چائے میرے لئے کپ میں ڈال دو ! اگر گھر میں کوئی نہیں ہوتا تھا اور آپ چائے پینا چاہتے تھے تو اس طرح کہتے تھے : بیگم ! کسی سے کہیں! مجھے چائے دیدے!
اگر کوئی گھر پر نہیں ہوتا تھا تو ہماری والدہ ہی چائے دیتی تھیں۔لیکن کبھی آپ نے انہیں کسی کام کے کرنے کا حکم نہیں دیا۔ نیز ہمارے والد، والدہ کا بڑا احترام کرتے تھے اور ہمیشہ ہمارے سامنے بارہا ان کا شکریہ ادا کرتے  اور ان کے تئیں اپنی ارادت و محبت کا اظہار کیا کرتے تھے۔(3)
قارئین کرام! امام خمینی(رح) کی بیٹی کے اس بیان سے یہ نکتہ بھی بخوبی سمجھا جاسکتا ہے کہ آپ اپنے بچوں کے سامنے اپنی بیوی سے اپنی ارادت و محبت کا اظہار اس وجہ سے کرتے تھے تاکہ اس طرح اپنے بچوں کو سکھائیں اور ان کی تربیت کریں کہ شادی شدہ زندگی میں ایک دوسرے کا احترام اور ان کے تئیں اپنی ارادت و محبت کا اظہار کرنا کتنا اہم امر ہے۔
اس کام سے امام خمینی(رح) دوسرا اہم نکتہ یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ گھر میں ماں کا مرتبہ بلند ہوتا ہے جب تک کسی گھرانے میں ماں کا احترام نہ ہو تو بچے صاحب کردار اور بلند مرتبہ تربیت نہیں پاسکتے چونکہ جب کسی بیوی کو اپنے شوہر کی مکمل حمایت حاصل ہو توتی ہے تبھی  وہ نہایت گرمجوشی سے اپنے بچے  کی تربیت میں مشغول رہ سکتی ہے اور اسے معاشرے کا  ذمہ دار فرد بنا سکتی ہے۔
شادی شدہ زندگی میں غلطی کو نظر انداز کرنے کی اہمیت
یقیناً مشترکہ زندگی میں جس چیز کی تأثیر کسی معجزہ سے کم نہیں وہ  میاں بیوی کے درمیان اچھے اور خوشگوار روابط ہیں۔ چونکہ انسان بہر حال انسان ہے۔ خطا کا امکان تو معصومین(ع) کے علاوہ سب کے یہاں پایا جاتا ہے۔ آپس میں کبھی کبھی کچھ غلط فہمیاں بھی پیدا ہوسکتی ہیں تو اگر ایک دوسرے کی خطاؤں کو نظر انداز کرنے کا جذبہ نہ ہو تو گھر جہنم بن جاتا ہے چنانچہ امام خمینی(رح) نے کچھ نئے شادہ شدہ جوڑوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا: ہم لوگ معصوم نہیں ہیں ۔ہم سے زندگی میں کوئی غلطی سرزد ہوجاتی ہے اور اگر ہماری زندگی میں ایک دوسرے کی خطا سے چشم پوشی اور اس معاف کردینے کا عنصر نہ پایا جائے تو پورے گھر کا نظام درہم و برہم ہوسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔باشگاه خبرنگاران سائیٹ۔
2۔سابق حوالہ ۔
۳۔العالم ویب سائیٹ بحوالہ کتاب، پا به پای آفتاب، ج1، ص97 ۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین