Code : 3989 23 Hit

امام محمد باقر(ع) کی کچھ وصیتیں

زندگی کے آخری لمحات میں امام جعفر صادق(ع) کو وصیت فرمائی:’’بیٹا! عقل، روح کی رہنما اور علم، عقل کا راہبر ہے، عقل علم کی ترجمان ہے، علم باقی رکھنے والا ہے اور زبان بہکنے والی ہے۔ ہر ساعت عمر کا ایک حصہ کم ہوتا ہے، ایک نعمت دوسری نعمت کے فنا کے بعد ہی ملتی ہے، زیادہ امیدوں سےپرہیز کرو کہ اکثر لوگ اپنی امیدوں کو نہیں پہنچتے ہیں۔ بہت سے مالدار اپنا مال نہیں کھاپاتے، بہت سے مال روکنے والے اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، یہ وہ وصیت ہے جو مجھے میرے پدربزرگوار نے وقت آخر فرمائی تھی‘‘۔اور ’’بیٹا ! کسی بے چارے پر ظلم نہیں کرنا چاہیئے کہ سوائے خدا کے اس کا کوئی مددگار نہیں ہوتا ہے‘‘۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! یوں تو دنیا سے جانے سے پہلے وصیت کرنا ہر انسان کے لئے ایک مستحب مؤکد امر  ہے جبکہ بعض علماء نے وصیت کرنے کو ایک واجب حکم جانا ہے لہذا علماء قرآن مجید کی اس آیت کو اپنی دلیل کے طور پر بیان کرتے ہیں:’’كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ‘‘۔(سورہ بقرہ: ۱۸۰) تمہارے اوپر یہ بھی لکھ دیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت سامنے آجائے تو اگر کوئی مال چھوڑا ہے تواپنے ماں باپ اور قرابتداروں کے لئے وصیت کردے یہ صاحبانِ تقویٰ پر ایک طرح کا حق ہے۔
چونکہ ہم امام محمد باقر(ع) کی شہادت کے ایام سے قریب ہو رہے ہیں لہذا مناسب سمجھتے ہیں کے مختلف لوگوں کو کی گئی حضرت کی کچھ وصیتوں کا مطالعہ کرتے ہیں اگرچہ اس مقالہ میں کئی گئی تمام وصیتیں اصطلاحی اعتبار سے ممکن ہے وصیت نہ ہوں بلکہ ہو سکتا ہے اس میں آپ کی کچھ نصیحتیں بھی شامل ہوں لیکن ہم ان سب کو یکجا اس وجہ سے عرض کر رہے ہیں تاکہ مضمون کے طولانی ہونے سے پرہیز کیا جاسکے:
عمر بن عبدالعزیز کو امام باقر(ع) کی وصیت
ایک مرتبہ امام محمد باقر(ع) عمر بن عبدالعزیز کے پاس تشریف لے گئے تو اس نے کہا کہ حضور کچھ نصیحت فرمائیں؟ آپ(ع) نے فرمایا کہ میری نصیحت صرف یہ ہے کہ مسلمان بچوں کو اپنا فرزند جوانوں کو اپنا بھائی اور بزرگوں کو اپنا باپ سمجھو، بچوں پر رحم کرو، بھائیوں کے ساتھ صلہ رحم کرو بزرگوں کے ساتھ نیکی کرو اورنیکی کرو تو اسے مکمل اور دائمی بناؤ۔(عین الادب والسیاسۃ ابن ہذیل طراز خفاجی)
ایک مرتبہ عمربن عبدالعزیز مدینہ آیا تو امام محمد باقر(ع)نے اس کے پاس جاکر یہ نصیحت فرمائی کہ دنیا ایک بازار ہے جہاں لوگ نفع، نقصان سب کچھ خرید لیتے ہیں، کچھ لوگ صرف نقصان کے خریدار ہوتے ہیں اور جب وہ مرجاتے ہیں تو ان کی ملامت کی جاتی ہے۔ اس لئے کہ انھوں نے آخرت کے لئے کچھ نہیں جمع کیا، ان کا مال ایسے لوگوں کو ملتا ہے جو ان کی تعریف نہیں کرتے ہیں اور وہ خود ایسےکے سامنے جاتے ہیں جو انھیں معاف نہیں کرتا ہے۔ ہمیں اپنے اعمال پر نظر رکھنی چاہیے۔ ایسی باتوں سے بچو اور دوچیزوں پر خصوصی نظر رکھو، جو چیزیں تمہارے ساتھ جانے والی ہیں انھیں مہیا کرو اور جن چیزوں کو ساتھ لے جانا پسند نہیں کرتے ہو انھیں الگ کردو۔ ایسی چیزوں کی طرف رغبت نہ کرو جن میں تمہارے پہلے والے غارت ہوچکے ہیں۔ اس لئے کہ وہ تم سے بھی جدا ہوسکتی ہیں، لوگوں کے لئے دروازے کھلے رکھو، دربانوں کو سہولت سکھائو، مظلوم کے ساتھ انصاف کرو، ظالم کو رد کرو، جس میں تین باتیں پائی جائیں گی اس کا ایمان اللہ پر کامل ہوگا: ایک یہ کہ خوشی اسے باطل میں نہ داخل کردے، دوسرے یہ کہ غصہ اسے حق سے باہر نہ کردے اور تیسرے یہ کہ اقتدار پاکر غیر کے مال پر قبضہ نہ کرے۔
جابر بن یزید الجعفی کو امام(ع) کی وصیت
اپنے بارے میں لوگوں کی رائے کو غور سے دیکھ ۔ اگر وہ بات تم میں پائی جاتی ہے تو سمجھو کہ لوگوں کی نظروں سے گرجانے سے بدتر پروردگار کی نگاہوں سے گرجانا ہے اور اگر اپنے اندر وہ عیب نہ پائو تو خیال کرو کہ تمہیں بغیر کسی زحمت کے ثواب مل گیا۔
یاد رکھو تم اس وقت تک میرے دوست نہیں ہوسکتے ہو جب تک نفس اتنا بلند نہ ہوجائے کہ تمام شہروالوں کی مذمت سے محزون نہ ہو اور تمام اہل وطن کی تعریف سے مسرور نہ ہو۔ اپنے نفس کو کتاب خدا کے سامنے رکھو اگر اس کے راستے پر گامزن، اس کے منہیات سے پرہیزگار اس کے مرغوبات سے دلچسپی لینے والا پائو تو خوش ہو کہ اب کوئی برائی اثرانداز نہیں ہوسکتی ہے اور اگر نفس کو قرآن کا مخالف پائو تو سمجھو کہ تم دھوکہ میں ہو۔ مومن نفس سے جہاد کرکے اس پر غلبہ حاصل کرتاہے اس کی کجی کو دور کرتا ہے، خواہشات کا مقابلہ کرتا ہے اور اللہ کی محبت کو پیش نظر رکھتا ہے۔
عقل کی راہنمائی میں خواہشات کی زیادتی سے بچو، علم کے اشارہ پر نفس سے ڈرو خالص اعمال کو آخرت کے لئے ذخیرہ بنائو، طمع کے اسباب کو مایوسی سے قطع کردو، خودپسندی کے راستے کو نفس کی معرفت سے روک دو، ابلیس سے پرہیز کرو اور جھوٹی امیدیں نہ کرو کہ اس سے سچا خوف پیدا ہوگا۔
لالچ کو مار کر عزت کو باقی رکھو، مایوسی کی عزت سے طمع کی ذلت کو دفع کرو، مایوسی کی عزت کو ہمت کی دوری سے حاصل کرو۔ دنیا سے تھوڑی امید رکھو اور فرصت کے مواقع کو غنیمت شمار کرو۔
یادرکھو! طلب سلامتی سے بہتر کوئی علم نہیں ہے او ردل کی سلامتی جیسی کوئی عقل نہیں ہے معصیت سے روکنے والے خوف سے بہتر کوئی خوف نہیں ہے، نیکیوں پر اعانت کرنے والی امید سے بہتر کوئی امید نہیں ہے، دل کی فقیری سے بدتر کوئی فقیری نہیں ہے، نفس کی مالداری سے بہتر کوئی مدالداری نہیں ہے ، توفیق کی ہمراہی جیسی کوئی عافیت نہیں ہے،بلند ہمتی جیسی کوئی شرافت نہیں ہے۔
ان ارشادات کے علاوہ تاریخ ابن کثیر،تاریخ یعقوبی، صواعق ابن حجر، کشف الغمہ اربلی، فصول مہمہ ابن صباغ مالکی، تحف العقول، مطالب السئول اور تذکرۃ الخواص وغیرہ میں ایسے بے شمار فرامین موجود ہیں جو بیدار عقل اور گہری بصیرت کے لئے کافی و وافی ہیں۔ آپ کا کام سامعین پر حکمتوں کا فیضان، ان کو وعظ و نـصیحت اور معاشرہ کی اصلاح تھا اس لئے برابر مواقع تلاش کیا کرتے تھے اور حسب موقع اپنے فریضہ کو انجام دیا کرتے تھے۔
کبھی معاشی اصلاح کے بارے میں فرماتے تھے کہ:’’اگر کوئی شخص دنیا کو لوگوں سے مستغنی ہونے، اہل و عیال کے حالات کو بہتر بنانے ہمسایہ پر رحم کرنے کے لئے طلب کرتا ہے تو وہ روز قیامت پروردگار کے سامنے ایسے چہرہ کے ساتھ جائے گا جو چودھویں کے چاند جیسا چمکتا ہوگا۔ آخرت کے لئے دنیا سے بہتر کوئی مددگار نہیں ہے‘‘۔
کبھی حسن اخلاق، اصلاح معاشرت، حفظ مراتب، قیام اخوت کے بارے میں  فرماتے تھے:’’اپنے ساتھیوں کی تعظیم و توقیر کرو۔ ایک دوسرے پر حملہ نہ کرو ، کسی کو نقصان نہ پہنچائو۔ کسی سے حسد نہ کرو۔ بخل سے بچو اور اللہ کے صالح بندے بنو‘‘۔
’’زیادہ مذاق چہرے کی متانت کو کھو دیتا ہے اور زیادہ ہنسنا ایمان پر اثرانداز ہوتا ہے‘‘۔
’’میں نے حضرت علی(ع)کی کتاب میں پڑھا ہے کہ رسول اکرم(ص) نے انصارومہاجرین کے درمیان یہ قانون نافذ کیا کہ ہمسایہ اپنے نفس جیسا ہے۔ نہ اسے نقصان پہنچانا چاہیے اور نہ زیادتی کرنا چاہیے۔ ایک ہمسایہ کا احترام دوسرے ہمسایہ پر اپنی ماں کے احترام جیسا ہے‘‘۔
’’ہمسایہ سے حسن سلوک یہ نہیں ہے کہ اسے اذیت نہ دی جائے۔ بلکہ حسن سلوک یہ ہے کہ اس کی اذیت کو برداشت کیا جائے‘‘۔
’’بدترین ہمسایہ انسان کی کمر کو توڑ دیتا ہے، نیکی کو دیکھتا ہے تو چھپا دیتاہے اور برائی کو دیکھتا ہے تو اچھال دیتا ہے‘‘۔
عبدالملک بن مروان ابتدائی طور پر امام محمد باقر(ع) اور دیگر افرادخاندان کو ایذا رسانی سے کنارہ کشی کرتا تھا اور لوگوں کو تعلیم دیتا تھا کہ ان کا خون بہانے سے بچو کہ آل ابوسفیان اسی میں تباہ ہوئے ہیں۔
لیکن ملک و مال کی لالچ نے اسے بھی اہلبیت رسول(ص) کی مخالفت پر آمادہ کردیا۔ اس کے پیش نظر ان کا بڑھتا ہوا وقار اور اپنی مٹتی ہوئی آبرو تھی۔
اس کی ایک ہوشیاری یہ تھی کہ وہ خفیہ طور پر امام سے مسائل دریافت کرتا تھا اور کام نکل جانے کے بعد آپ ؑکے درپے آزار ہوجاتا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہےکہ بادشاہِ روم نے اسے ایک تہدید آمیز خط لکھا۔ عبدالملک خط دیکھ کر حیران ہوگیا اور اس نے یہ فیصلہ کیا کہ والیٔ حجاز حجاج کو لکھا جائے کہ تم حضرت علی بن الحسین (ع) کو ایک خط اسی انداز سے لکھو دیکھیں وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ حجاج نے خط پاتے ہی اس کے حکم کی تعمیل کی۔ حضرت(ع) نے جواب دیا :پروردگار عالم کے لئے ہر روز کے تین سو ساٹھ لمحات ہیں اور مجھے امید ہے کہ وہ پہلے ہی لمحہ میں تیرے شر سے بچالے گا۔ حجاج نے عبدالملک کو یہی جواب لکھ کر روانہ کردیا۔
ایک مرتبہ بادشاہ روم نے عبدالملک بن مروان کو یہ تہدید کی کہ دینار پر رسول اکرم(ص) کا ذکر نامناسب طریقہ سے کیا جاتاہے تو یہ بات عبدالملک کو بہت زیادہ گراں گذری اور اس نے لوگوں سے مشورہ کیا۔ لوگ جواب دینے سے عاجز رہ گئے۔ تو روح بن زنباع نے کہا کہ حضور کو اس کا حل معلوم ہے لیکن آپ قصداً چشم پوشی کررہے ہیں۔ عبدالملک نے غصہ میں آکر پوچھا کہ آپ ہی بتائیے کہ وہ کون ہے جو اس مسئلہ کا حل نکال سکتا ہے؟ روح نے کہا کہ باقر اہلبیت پیغمبر(ص)۔ عبدالملک نے کہا کہ یہ تو تم ٹھیک کہتے ہو لیکن یہ بات اختلافی ہے۔ یہ کہہ کر مدینہ کے عامل کو خط لکھا کہ حضرت محمد بن علی(ع) کو ایک لاکھ درہم سامان سفر کےلئے اور تین لاکھ مقامی اخراجات کے لئے دے کر احترام کے ساتھ میری طرف روانہ کردو، آپ کے ہم سفر لوگوں کی سہولت کا بھی خیال رہے۔ یہ کہہ کر عبدالملک نے بادشاہ روم کے سفیر کو روک لیا یہاں تک کہ امام باقر(ع) تشریف لے آئے اور عبدالملک نے آپ سے یہ خبر بیان کی۔ آپ نے فرمایا کہ یہ تو کوئی اہم کام نہیں ہے اس لئے ایک تو پروردگار نے بادشاہ روم کو اتنی چھوٹ نہیں دی ہے اور دوسرے یہ کہ چند زرگروں کو بلا کر درہم و دینار پر سورۂ توحید نقش کرادو تاکہ اختلاف کی جڑ ہی ختم ہوجائے۔
بہرحال امام محمد باقر اپنے دور کے اعلم امت اور بنی ہاشم کے سید و سردار تھے۔ آپ(ع) کی زندگی خاموشی اور گوشہ نشینی کی زندگی نہ تھی بلکہ آپ کے علم و فضل کی شہرت چاردانگ عالم میں پھیلی ہوئی تھی، حکومت وقت آپ کے کمال سے ہمیشہ خوفزدہ رہتی تھی، اس کی روش تباہ کن اور اس کی پالیسی خطرناک ہوا کرتی تھی، آپ کو اذیتیں پہنچائی جاتی تھیں، مصائب کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن ان تمام باتوں کے باوجود آپ اپنے علمی جہاد میں مصروف رہا کرتے تھے یہاں تک کہ ۱۱۴ہجری میں زہر سے شہید کردیئے گئے اور بقیع میں دفن ہوگئے۔
زندگی کے آخری لمحات میں امام جعفر صادق(ع) کو وصیت فرمائی:’’بیٹا! عقل، روح کی رہنما اور علم، عقل کا راہبر ہے، عقل علم کی ترجمان ہے، علم باقی رکھنے والا ہے اور زبان بہکنے والی ہے۔ ہر ساعت عمر کا ایک حصہ کم ہوتا ہے، ایک نعمت دوسری نعمت کے فنا کے بعد ہی ملتی ہے، زیادہ امیدوں سےپرہیز کرو کہ اکثر لوگ اپنی امیدوں کو نہیں پہنچتے ہیں۔ بہت سے مالدار اپنا مال نہیں کھاپاتے، بہت سے مال روکنے والے اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، یہ وہ وصیت ہے جو مجھے میرے پدربزرگوار نے وقت آخر فرمائی تھی‘‘۔اور ’’بیٹا ! کسی بے چارے پر ظلم نہیں کرنا چاہیئے کہ سوائے خدا کے اس کا کوئی مددگار نہیں ہوتا ہے‘‘۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منبع :
مأخوذ از کتاب:امام جعفر صادق(ع) اور مذاہب اربعہ ، ص ۳۳۷ ۔ ۳۴۰ ۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین