Code : 1339 67 Hit

پہلا روزہ رکھنے والے بچوں کے لئے کچھ خاص تجاویز

ویسے تو پورے بر صغیر میں یہ رسم عام ہے کہ جب بچے پہلا روزہ رکھتے ہیں تو والدین اپنی استطاعت کے مطابق ان کے لئے خصوصی اہتمام کرتے ہیں مثلاً کچھ لوگوں کو اپنے یہاں افطار پر بلاتے ہیں لیکن ہم تأکید یہ کریں گے کہ جن بچوں کا پہلا روزہ ہو والدین ان کے لئے کسی مختصر و پسندیدہ تحفہ کا انتظام کریں اور پہلے روز افطار کے وقت وہ تحقہ اسے دیں چونکہ اس سے بچے میں ایک نیا جوش ایجاد ہوگا اور والدین تحفہ دیتے وقت بچہ کو یہ نصیحت بھی کریں کہ آج کے بعد سے تم اچھے کام زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کرو اور کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے ضرور اس کے انجام و نتیجہ پر غور کرلیا کرو۔ اس طرح تم اللہ کے نزدیک ایک اچھے اور نیک بندے بن جاؤ گے اور تمہاری زندگی کا طریقہ و انداز بھی بدل جائے گا۔

ولایت پورٹل: وہ بچے جو پہلی بار روزہ رکھ رہے ہیں یا ان پر روزہ واجب ہوچکا ہے اور انہیں روزہ رکھنا ہے تو والدین کے لئے مناسب ہے کہ وہ درجہ ذیل نکات کی رعایت کریں تاکہ ان کے بچے آسانی کے ساتھ روزہ رکھنے کے لئے تیار ہوسکیں اور اپنے واجب کو ادا کرسکیں چونکہ آپ ہی کی طرح آپ کے بچوں لئے بھی ایک طولانی دن گرمی کے عالم میں بھوکا و پیاسا رہنا بہت سخت ہوگا۔
نوجوانی زندگی کا حساس دور
نوجوانی،زندگی کا نہایت حساس دور ہوتا ہے اور چونکہ اس عمر میں نوجوان رشد و نمو کی حالت میں ہوتا ہے لہذا اسے اچھی و سالم غذا  کی ضرورت پڑتی ہے اور اگر اس کی غذا اچھی اور سالم و مناسب نہ ہو تو ممکن ہے اس کی نفسیات بھی اس سے متأثر ہو۔ لہذا وہ بچے اور نوجوان جو اس سال اپنا پہلا پہلا روزہ رکھیں گے شاید یہ ان کی زندگی کا سب سے سخت دور ہوگا چونکہ جس زمانہ میں یہ لوگ روزہ سے رہیں گے وہ ایک طویل وقت ہے چنانچہ ایشیا میں تو ۱۶ گھنٹہ اور دیگر کچھ ممالک میں ۱۸ گھنٹہ تک روزہ کا وقت ہے کہ جو ایک طویل وقت ہے اور ساتھ ہی موسم میں گرمی بھی ہے۔
بچے کو صحت
دین اسلام میں ویسے تو نیک کام کرنے کی کوئی عمر مقرر نہیں ہے لیکن شرعی طور پر لڑکی ۹ سال اور لڑکا ۱۵ سال کی عمر میں بالغ کہلاتا ہے اور اس پر نماز روزہ اور دیگر دینی اعمال و ارکان واجب ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی بچہ اس مدت سے پہلے روزہ رکھے یا نماز پڑھے تو اس کا اجر اللہ کے یہاں محفوظ ہے اور یہ خود تربیتی نکتہ نگاہ سے ایک مثبت چیز ہے۔
اب آئیے بات کرتے ہیں اس بچے کی کہ جس پر ابھی روزہ واجب نہیں ہوا اور وہ روزہ رکھنا چاہتا ہے تو اس گرمی کے عالم میں چونکہ روزہ کافی طولانی ہورہا ہے اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہیئے خاص طور پر اگر بچہ کمزور ہے یا اس کو کم خونی کا عارضہ ہے۔ چونکہ ان صفات کے بچے طولانی روزہ رکھنے سے قاصر ہوتے ہیں لہذا ممکن ہے ڈاکٹر بچے کی کیفیت و حالت کو ملاحظہ کرکے اس کے لئے کسی خاص غذا کی تأکید کرے جس کے سبب اسے روزہ رکھنا آسان ہوجائے۔چونکہ روزہ دار بچوں کی غذا و صحت کی رعایت نہ کرنے سے ممکن ہے اس کی صحت بگڑ جائے اور وہ آئندہ روزہ رکھنے کی ہمت بھی نہ جٹا پائے۔
بچے کے لئے تحفہ خریدنا
ویسے تو پورے بر صغیر میں یہ رسم عام ہے کہ جب بچے پہلا روزہ رکھتے ہیں تو والدین اپنی استطاعت کے مطابق ان کے لئے خصوصی اہتمام کرتے ہیں مثلاً کچھ لوگوں کو اپنے یہاں افطار پر بلاتے ہیں لیکن ہم تأکید یہ کریں گے کہ جن بچوں کا پہلا روزہ ہو والدین ان کے لئے کسی مختصر و پسندیدہ تحفہ کا انتظام کریں اور پہلے روز افطار کے وقت وہ تحقہ اسے دیں  چونکہ اس سے بچے میں ایک نیا جوش ایجاد ہوگا اور والدین تحفہ دیتے وقت بچہ کو یہ نصیحت بھی کریں کہ آج کے بعد سے تم اچھے کام زیادہ سے زیادہ کرنے کی کوشش کرو اور کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے ضرور اس کے انجام و نتیجہ پر غور کرلیا کرو۔ اس طرح تم اللہ کے نزدیک ایک اچھے اور نیک بندے بن جاؤ گے اور تمہاری زندگی کا طریقہ و انداز بھی بدل جائے گا۔
روزہ رکھنے کے سلسلہ میں والدین بچے کے لئے بہترین آئیڈیل
آپ کے بچے ہمیشہ آپ کو اپنا سب سے پہلا اور سب سے بڑا آئیڈیل مانتے ہیں لہذا آپ کوشش کیجئے کہ جتنا بھی آپ پر روزہ سخت و گراں گذرے آپ صبر کا مظاہرہ کیجئے تاکہ آپ کے بچے آپ سے صبر کرنا سیکھیں لہذا آپ اس مدت میں کافی مقدار میں آرام کیجئے اور سحری سے بالکل غافل مت ہوئیے۔آپ اپنے بچوں کی غذا اور سونے پر رمضان المبارک کے ان طویل ایام میں خاص دھیان دیجیئے چونکہ اگر بچے کافی مقدار میں سوئیں گے تو انہیں جلد خستگی کا احساس نہیں ہوگا اور ہو زیادہ سے زیادہ آرام کریں اور سحر و افطار میں ان کی غذا کا خاص خیال کیجئے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम