Code : 3053 14 Hit

بعض عرب حکمراں صدی ڈیل کے منصوبے کو تیار کرنے میں امریکہ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں:حماس

فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے پولیٹیکل بیورو کے نائب سربراہ نے انکشاف کیا ہے کہ بعض عرب ممالک صدی ڈیل کے منصوبے کو تیار کرنے میں امریکہ ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

ولایت پورٹل:حماس پولیٹیکل بیورو کے نائب سربراہ صالح العاروری نے الاقصیٰ چینل کو دیے جانے والے اپنے ایک  انٹرویو میں صدی  ڈیل کے نام سے فلسطین مخالف منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے  اس منصوبے کےخلاف ہر قسم کی مزاحمت پر زور دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے زمینی سطح پر اس منصوبے کا مقابلہ کرنے کی ٹھان رکھی ہے نیز فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے بھی اس مذکورہ امریکی منصوبے کی رونمائی کے فورا بعد اپنی تقریر میں  غزہ کا سفر کرنے کے لئے اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
العاروری نے کہا کہ ہم  نے بھی قومی منصوبوں پر کسی معاہدے تک پہنچنے کے لئے کسی بھی قومی شخصیت کے لئے غزہ کا سفر کرنے پر فوری  اتفاق کیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ  تمام  فلسطینی جماعتیں صدی ڈیل کے بارے میں فکرمند ہیں  اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام شراکت دار اس ذمہ داری کو نبھائیں۔
مذکورہ فلسطینی عہدیدار نے مزید کہا کہ ہمارے پاس اطلاعات موجود ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صدی  ڈیل میں کچھ عرب ممالک ملوث رہے ہیں،ان  ممالک اس منصوبے کی توثیق اور نفاذ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے ۔
حماس کے پولیٹیکل بیورو کے نائب سربراہ کچھ اسرائیل اور تمام عرب ممالک کے مابین تعلقات معمول پر لانے اور اس پر رقم خرچ کرنے کا رجحان رکھتے ہیں۔
تاہم تعلقات معمول پر لانے میں  کچھ رکاوٹیں ہیں لیکن صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اس بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں۔
العاروری نے اسرائیلی دھمکیوں کا ذکر رکتے ہوئے  کہا کہ حماس غزہ کے خلاف اسرائیل کی دھمکیوں کو نظرانداز نہیں کرتی ہے لیکن اس سے خوفزدہ نہیں ہے اور ہم اس تحریک کے ذریعہ  صحیح وقت اور جگہ پر جواب دیں گے اور جارحیت کو قبول نہیں کریں گے۔




0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम