Code : 2840 222 Hit

سپاہ پاسداران نے امریکی ہیبت اور دبدبہ کو مٹی میں ملا دیا ہے:رہبر معظم

رہبرمعظم نے فرمایا کہ سپاہ پاسداران انقلاب نے امریکا کے منہ پر جو زور دار طمانچہ رسید کیا ہے اس سے امریکی ہیبت کا بت پاش پاش ہوگیا اور دنیا میں اس کی ساکھ اور دبدبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔

ولایت پورٹل:تہران کی مرکزی نمازجمعہ اس ہفتے رہبرمعظم  آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی امامت میں ادا کی گئی جس میں دسیوں لاکھ نمازیوں نے شرکت کی ،نمازیوں کے تاریخی اور عظیم الشان اجتماع کو خطاب کرتے ہوئے رہبرمعظم  نے فرمایا کہ پچھلے دوہفتے جو گزرے ہیں ان میں اہم واقعات رونما ہوئے جو ایرانی عوام کے لئے تلخ اور شیریں ہونے کے ساتھ ساتھ سبق آموز بھی تھے ، رہبرمعظم  آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ جن دنوں ایران میں کروڑوں کی تعداد میں اور عراق میں دسیوں لاکھ کی تعداد میں لوگ سپاہ قدس کے کمانڈر کے خون (اور شہادت) کے احترام میں اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے اور اپنی شرکت سے شہید کے جلوس جنازہ کو دنیا کے سب سے بڑے جلوس جنازہ میں تبدیل کرنے کے لئے سڑکوں پر آئے تھے وہ دن ایام اللہ میں سے تھے ، رہبرمعظم  نے تہران کے مصلائے امام خمینی اور اطراف کی سڑکوں پر موجود دسیوں لاکھ نمازیوں کے اجتماع سےخطاب کے دوران فرمایا کہ جس دن سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے عراق میں امریکی فوجی چھاؤنی پر میزائلوں سے حملہ کرکے اسے تباہ کیا وہ دن بھی ایام اللہ میں سے تھا ، رہبرمعظم  آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے اکتالیس برسوں کے بعد اس غیر معمولی اور عظیم الشان انسانی سمندر کو کون سی طاقت میدان میں لے آئی اور جوش و جذبے اور عشق و وفاداری کا یہ اظہار کس قوت کے ذریعے انجام پا رہا تھا ؟ آپ نے فرمایا کہ سوائے دست قدرت الہی کے اور کون سی طاقت اس طرح کا معجزہ رونما کرسکتی تھی ، رہبرمعظم  نے خطبہ نماز جمعہ میں فرمایا کہ ان واقعات میں جو شخص دست قدرت خدا کا مشاہدہ نہیں کرسکتا اور وہ مادی نگاہوں سے تجزئے کرتا ہے، وہ پیچھے رہ جائے گا کیونکہ اللہ کا ارادہ اس قوم کو کامیاب بنانا ہے ، رہبرمعظم  نے ایران کے مختلف شہروں میں شہدائے استقامت کی تشییع جنازہ میں ایرانی عوام کی غیرمعمولی اور تاریخ ساز شرکت کا ذکرکرتے ہوئے فرمایا کہ ایرانی معاشرہ صبّار و شکور ہے ہماری قوم جذبہ استقامت سے سرشار اور شکر گزار قوم ہے اور گذشتہ برسوں کے دوران ایرانی قوم ہمیشہ الطاف الہی کی شکر گزار رہی ہے ، رہبرمعظم  نے فرمایا کہ سردار قاسم سلیمانی کا قتل بزدلانہ اقدام تھا جو میدان جنگ میں آمنے سامنے سے نہیں بلکہ چھپ کر اور دہشت گردانہ طریقے سے انجام دیا گیا اور یہ قتل امریکا کی ذلت و رسوائی کا سبب بنا ، آپ نے فرمایا کہ اس سے پہلے علاقے میں اس طرح کی دہشت گردانہ کارروائی صیہونی حکومت انجام دیا کرتی تھی اور اس کی ذمہ داری قبول کرتی تھی لیکن جنرل سلیمانی کے قتل کا اعتراف امریکی صدر کرتا ہے، اس سے بڑی رسوائی اور کیا ہوگی ،رہبرمعظم  نے فرمایا کہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد ایرانی عوام کا انتقام انتقام کا نعرہ اور مطالبہ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے میزائلوں کے لئے قوت محرکہ ثابت ہوا اور جس طرح سے سپاہ پاسداران نے امریکا کو بھرپور جواب دیا وہ بھی قابل غور ہے، آپ نے فرمایا کہ البتہ یہ جوابی حملہ اور کاری ضرب صرف ایک فوجی ضرب نہیں تھی اس سے بڑھ کر سپاہ پاسداران انقلاب نے امریکا کے منہ پر جو زور دار طمانچہ رسید کیا ہے اس سے امریکی ہیبت کا بت پاش پاش ہوگیا اور دنیا میں اس کی ساکھ اور دبدبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ،آپ نے فرمایا سپاہ پاسداران کے جوابی حملے کے بعد امریکی حکام ایران کے خلاف زیادہ سخت پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں لیکن سپاہ پاسداران کے میزائلی حملے نے امریکا کی ساکھ کو جو نقصان پہنچایا اور جس طرح سے اس کی ہیبت کا بت پاش پاش کیا ہے امریکی حکام اس کی بھرپائی اور تلافی کبھی بھی نہیں کرسکیں گے ،آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای نے فرمایا کہ دشمن اور ان کے آلہ کار کوشش کررہے ہیں کہ ایرانی عوام نے پچھلے دنوں جو جاودانی تاریخ رقم کی ہے اور جن کی وجہ سے یہ ایام ، ایام اللہ ہوگئے ہیں انہیں لوگوں کے ذہنوں سے ختم کردیا جائے اور اس کے لئے انہوں نے مسافرطیارے کے حادثے کو بہانہ بنایا ہے ، رہبرمعظم  نے فرمایا کہ طیارہ حادثہ بہت ہی تلخ حادثہ تھا اور حقیقی معنوں میں اس حادثے سے ہمارے دل غمزدہ ہیں، ایران اور دیگر ملکوں کے عزیز شہری اس حادثے میں بچھڑ گئے اور یہ بہت ہی تلخ حادثہ ہے ہم ان عزیزوں کے پسماندگان کو تعزیت پیش کرتے ہیں لیکن کچھ لوگوں نے کوشش کی کہ امریکی ٹی وی چینلوں اور برطانوی ریڈیو کے پروپیگنڈوں کے سہارے اس حادثے کو سردار سلیمانی اور جنرل ابو مہدی المہندس کی شہادت کے بعد رونما ہونے والے ایام اللہ کے واقعات کو لوگوں کے ذہنوں سے نکال دیں، یہ وہ لوگ ہیں جنھیں ملک کے مفادات کا ذرہ برابر بھی خیال نہیں ہے ،آپ نے فرمایاکہ مسافرطیارے کے حادثے سے جتنا زیادہ ہم سوگوار و غم زدہ ہوئے ہیں، دشمن اتنا ہی زیادہ خوشحال ہوا ہے۔ آپ نے فرمایاکہ اس حادثے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور ساتھ ہی اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ آئندہ اس طرح کا حادثہ رونما نہ ہو ، رہبرمعظم  نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں تین یورپی ملکوں کے تازہ اقدام کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا کہ ان تینوں یورپی ملکوں نے یہ اقدام صرف اس لئے کیا ہے کہ تاکہ ایران میں رورنما ہونے والے حالیہ تاریخ ساز واقعات کی خبروں کو پس پشت ڈال دیں ،آپ نے فرمایا کہ برطانیہ کی خبیث حکومت ، جرمنی کی حکومت اور فرانس کی حکومت نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ ایٹمی معاملے کو دوبارہ سلامتی کونسل میں لے جائیں گی لیکن ہم یورپی حکومتوں کو یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ جب تہمارا سرغنہ امریکا ایرانی عوام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کرسکا تو تمہاری کیا اوقات ہے رہبرمعظم  نے فرمایا کہ دشمن کے مذاکرات فریب اور دھوکہ ہیں اور مذاکرات کی میز پر بیٹھنے والے جنٹل مین ہی بغداد ہوائی اڈے پر دہشت گردانہ حملہ کرنے والے دہشت گرد ہیں اور جب وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہیں تو بھیس بدل لیتے ہیں۔
سحر

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین