Code : 3739 23 Hit

بی بی معصومہ قم(س) کی اجتماعی و معاشرتی کاوشیں(2)

ایسے حالات میں ضروری تھا کہ کوئی خاندان اہل بیت(ع) کی فرد اٹھے اور ولایت و امامت کے اس بلند و بالا مقام مرتبہ کی حفاظت کرے جس سے اللہ نے ہر رجس سے دور رکھا ہے۔ ظاہر ہے حالات اتنے پیچیدہ تھے کہ اگر اس گھرانے کا کوئی مرد اٹھتا تو اسے مسلمانوں میں تفرقہ و اختلاف پھیلانے کے جرم میں شہید کردیا جاتا اور مقصد بھی حاصل نہ ہوتا لہذا ایک ایسے کردار کی ضرورت تھی کہ جو سیدہ کونین(س) کی نیابت کرے اور وقت کے علی(ع) کو دشمنوں کے بنائے ہوئے سیاسی پھندے سے نکالے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے گذشہ مضمون میں بی بی حضرت معصومہ قم(س) کی زندگی کی کچھ اہم اجتماعی و معاشرتی کاوشوں کا تذکرہ کیا تھا اور یہ بیان کیا تھا کہ بی بی (س) نے خاندان اہل بیت(ع) کی دیگر برجستہ اور ممتاز شخصیات کی طرح علوم اہل بیت(ع) کو لوگوں تک پہونچانے اور ان کی ہدایت کا سامان فراہم کرنے میں کتنا تعاون کیا تھا ۔ اور آج کے مضمون میں بھی ہم کچھ دیگر کاوشوں کا تذکرہ کررہے ہیں چنانچہ اس مضمون کو ابتداء سے پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے!
بی بی معصومہ قم(س) کی اجتماعی و معاشرتی کاوشیں(1)
گذشتہ سے پیوستہ:
نقل احادیث بی بی معصومہ(س) کی ایک اہم  کاوش
شیعت کی تاریخ میں ہمیشہ سے یہ ایک چیز بہت اہمیت کی حامل رہی ہے اور آئمہ (ع) نے بھی اپنے اصحاب کو مسلسل اس کی تأکید کی ہے اور وہ یہ ہے زیادہ سے زیادہ  لوگوں کو سامنے رسول اللہ(ص) کی احادیث بیان کی جائے ۔اور صرف یہی نہیں کہ ایک راوی خود اپنے آپ احادیث بیان کرے بلکہ اسے اپنی نسلوں کو بھی احادیث بیان کرنے کی ترغیب دلانا چاہیئے  تاکہ یہ ان کے لئے بھی ایک سرمایہ محسوب ہو۔ اس کا سبب یہ تھا کہ جب سے خلیفہ دوم نے نقل احادیث پر پابندی عائد کی تھی لوگوں نے خوف کے مارے مجمع میں یہ کہنا تک بھی چھوڑ دیا تھا کہ میں نے رسول اللہ(ص) سے فلاں جگہ ، فلاں حدیث سنی ہے!
اس سختی اور خلیفہ کی شدت کے سبب احادیث کا ایک عظیم سرمایہ لوگوں کے ہاتھوں سے جاتا رہا ۔ اب ظاہر ہے جب بیان حدیث کی تأکید اصحاب کے لئے آئمہ (ع) کی طرف سے تھی تو پھر خود اپنے خاندان اور آل، اولاد کے لئے یہ تأکید کتنی اہمیت کی حامل ہوگی اس کا اندازہ تاریخ سے لگایا جاسکتا ہے۔ چنانچہ جب ہم تاریخ حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ ملتا ہے کہ خاندان اہل بیت(ع) سے نسبت رکھنے والے بہت سے افراد نے اپنے اجداد طاہرین (ع) سے متعدد مقام پر احادیث نقل کی اور یہ سلسلہ نسلاً بعد نسل جاری رہا۔ لہذا یہی وجہ ہے کہ خاندان اہل بیت(ع) میں ایک حدیث کے  بیان کرنے والے بسا اوقات ہمیں کئی راوی مل جاتے ہیں ظاہر ہے اس کی علت یہی تھی کہ رسالتمآب(ص) کی زبان وحی سے نکلنے والے کلمات کہیں خوف کے مارے ضائع نہ ہوجائیں۔
حضرت فاطمہ معصومہ(س) بھی خاندان اہل بیت(ع) سے تعلق رکھنے والی ایسی ہی عظیم المرتبت خاتون ہیں کہ جنہوں نے اپنے آبائے طاہرین(ع) کی احادیث کو متعدد مقام پر بیان کیا ہے جس کے سبب خود علوم حدیث کے ماہرین نے بی بی کے اس عمل کو آپ کی اجتماعی اور معاشرتی کاوشوں میں سر فہرست قرار دیا ہے۔ چنانچہ آپ نے اس اہم کام کے ذریعہ اپنے خاندان کی عظیم میراث کو (کہ جس سے معاشرہ کا سیاسی، اجتماعی، ثقافتی ، عبادی ، عائلی اور انفرادی ڈھانچہ مضبوط ہوسکتا تھا ) احیاء کیا اور بیان حدیث کے ذریعہ امت کی ہدایت کا سامان فراہم کیا اور اسے انحراف سے بچانے کی بھرپور کوشش کی۔
یوں تو حضرت معصومہ قم(س) سے بہت سی روایات کو محدثین نے اپنے آثار میں نقل کیا ہے لیکن دو معروف حدیثوں کا بیان خاص اہمیت کا حامل ہے۔پہلی حدیث، حدیث ولایت ہے۔(۱) اور دوسری ،حدیث منزلت(۲) چنانچہ ان دونوں احادیث کو آپ کی بیان کردہ احادیث میں خاص اہمیت دی جاتی ہے ۔ اور اہمیت دینے کا سبب یہ ہے کہ ان کا مضمون حضرت امیر (ع) کی خلافت کے اثبات پر دلالت کرتا ہے اور جبکہ بنی عباس کے دور میں بیان حدیث پر ظاہراً ہر طرح کی پابندی ہٹا دی گئی تھی لیکن ان احادیث کے تئیں حکومت اور اس سے وابستہ افراد کی حساسیت قابل ملاحظہ ہے۔ چنانچہ علماء نے نقل کیا ہے کہ بی بی معصومہ(س) نے اپنی  دیگر بہنوں کے ساتھ ساتھ متعدد طرق سے ان دونوں احادیث کو بیان فرمایا ہے۔(۳)
بی بی معصومہ(س) کا سیاسی جہاد
آپ کے بابا حضرت امام موسیٰ کاظم(ع) کی شہادت کے بعد، عالم اسلام میں جہاں بہت سے دیگر اتفاق رونما ہوئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ مامون عباسی نے سیاسی سازش اور فریب کے ذریعہ ظاہری طور پر امام علی رضا(ع) کو مدینہ سے بلوا کر اپنا ولیعہد مقرر کردیا تھا۔ اور اس کا اثر یہ ہوا کہ دشمن تو دشمن تھے ہی کچھ  خود اپنے چاہنے والے سادہ لوح بھی آپ کو (نعوذ باللہ من ذالک)  طاقت و منصب کا شیدائی اور آپ پر مامون کا ساتھ دینے کا الزام لگانے لگے۔ جس کے سبب کچھ لوگوں کا ایمان متزلزل ہونے لگا تھا چنانچہ ایسے حالات میں ضروری تھا کہ کوئی خاندان اہل بیت(ع) کی فرد اٹھے اور ولایت و امامت کے اس بلند و بالا مقام مرتبہ کی حفاظت کرے جس سے اللہ نے ہر رجس سے دور رکھا ہے۔ ظاہر ہے حالات اتنے پیچیدہ تھے کہ اگر اس گھرانے کا کوئی مرد اٹھتا تو اسے مسلمانوں میں تفرقہ و اختلاف پھیلانے کے جرم میں شہید کردیا جاتا اور مقصد بھی حاصل نہ ہوتا لہذا ایک ایسے کردار کی ضرورت تھی کہ جو سیدہ کونین(س) کی نیابت کرے اور وقت کے علی(ع) کو دشمنوں کے بنائے ہوئے سیاسی پھندے سے نکالے۔ چنانچہ معصومہ(س) نے عباسیوں کی اس سازش کو ناکام بنانے کا ذمہ سنبھالا اور آپ نے متعدد مقام پر لوگوں کو مامون کی سازش سے خبردار کیا اور جب آپ نے دیکھا کہ یہ اعتراض ایک افواہ کی صورت پھیلتا جارہا ہے آپ نے مدینہ منورہ سے خراسان کا رخ کیا ۔اور جہاں جہاں سے آپ کا قافلہ گذرا آپ نے سیرت زینبی کا مظاہرہ کیا اور لوگوں کے سامنے عباسیوں کی سازشوں کی ساری قلعی کھول کر رکھ دی ۔ چنانچہ یہی امر سبب بنا کے اس سفر کی اطلاع حکومت کو ہوگئی  اور اہل بیت(ع) کے مخالفین کو شدید خطرے کا احساس ہونے لگا چنانچہ جب اس سفیرہ ولایت( یعنی حضرت معصومہ(س) کا قافلہ قم کے نزدیک شہر ساوہ پہونچا دشمنان اہل بیت(ع) کے ایک نجس گروہ نے آپ کے مختصر سے قافلہ پر حملہ کردیا اور آپ کے بہت سے ہمراہیوں کو شہید اور زخمی کردیا گیا۔ کچھ مورخین کے مطابق اس واقعہ میں بی بی پر بھی حملہ ہوا اور آپ کو بھی کئی ضربیں لگیں جن کے سبب آپ خراسان تک نہ جاسکیں اور قم کا رخ اختیار کیا ۔قم پہونچ کر بھی مرض سے افاقہ نہ ہوا اور آپ کی شہادت واقع ہوگئی۔(۴)
قارئین کرام! بی بی کی پوری زندگی ہمارے لئے نمونہ عمل ہے اور آپ کی سیرت آج بھی ہمیں یہ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اگر آپ شیعہ ہیں تو کبھی اپنی ذمہ داری سے نظریں نہ چورائیے چاہے حالات کچھ بھی ہو اور زمانہ کیسا بھی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ ’’مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ فَعَلِىٌّ مَوُلاهُ‘‘۔جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا و رہبر ہیں۔
۲۔’’أنْتَ مِنِّى بِمَنْزلَة هَارُونَ مِنْ مُوسى‘‘۔ یا علی! مجھ سے تمہاری وہی نسبت ہے جو ہارون کی موسیٰ (ع) سے تھی۔(یعنی جس طرح جناب ہارون(ع) موسیٰ (ع) کے بھائی اور ان کے جانشین تھے اور جب موسیٰ امت میں نہیں تھے تو بنی اسرائیل کی رہبری اور قیادت کی ذمہ داری ہارون پر تھی)۔
۳۔’’حدثتنی فَاطِمَةُ وَ زَیْنَبُ وَ أمَّ کُلْثُوم بَنَاتُ مُوسَى بْن جَعْفَر...‘‘۔ نزهة الحفاظ، ج۱، ص۱۰۱۔
۴۔زندگی حضرت معصومہ(س)، ص ۱۴، نقل از ریاض الانساب؛ تاریخ قدیم قم, ص ۲۱۳۔


تحریر: سجاد ربانی


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین