Code : 3717 24 Hit

بی بی معصومہ قم(س) کی اجتماعی و معاشرتی کاوشیں(۱)

آپ کی زندگی کے متعلق زیادہ تو کچھ نہیں ملتا اور یہاں تک کہ خود صاحب ریاحین الشریعۃ کہ جنہوں نے آپ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی ہے انہوں نے بھی اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔لیکن بہر حال آپ کی زندگی کے حالات جتنے بھی کتابوں میں مرقوم ہے ان سے آپ کی عظمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ایک مثالی زندگی کا بارز نمونہ تھیں اور صرف یہی نہیں کہ آپ خواتین کے لئے نمونہ و آئیڈیل ہوں بلکہ آپ کی سیرت پر چل کر مرد بھی اسلامی معاشرے کی ارتقا کا سبب بن سکتے ہیں۔

ولایت پورٹل: عام طور پر دنیا میں مشہور اور معروف شخصیتوں کو ان کے کسی ایک برجستہ پہلو کے ذریعہ پہچانا جاتا ہے اور اس کی شخصیت کے دیگر پہلو مخفی رہ جاتے ہیں، اس طرح کہ لوگوں کو ان کے متعلق زیادہ معلومات حاصل نہیں ہو پاتی۔
اسی طرح ہمیں تاریخ میں کچھ وہ شخصیتیں بھی نظر آتی ہیں جو اپنے زمانے کے حالات کے تقاضوں کے مطابق یا اپنے سے بزرگ دوسری برجستہ شخصیتوں  کی موجودیت کے سبب اس طرح ظاہر نہیں پاتیں جس طرح انہیں ہونا چاہیئے تھا اور جس طرح ان کا تذکرہ ہونا چاہیئے اور جس طرح معاشرے کو انہیں ایک آئیڈیل کے طور پر پہچاننا چاہیئے ویسے سب کچھ نہیں ہوپایا۔
قارئین کرام! ہماری اس بات سے کوئی کچھ غلط نہ سمجھے! ہمارا  مطلب یہ ہے کہ خود معصومین(ع) کے دور میں کچھ دیگر برجستہ شخصیات بھی تھیں ۔اگرچہ معصومین(ع) کا الہی منصب اور مرتبہ اپنی جگہ محفوظ ہے۔ لیکن وہ افراد جو مقام عصمت پر فائز نہیں تھے لیکن انہوں نے مکتب اہل بیت (ع) پر اس طرح زندگی گذاری اور ان کی تعلیمات کے سائے میں اس طرح پروان چڑھے اور وہ مرتبہ پایا کہ ان کے نقش قدم ہمارے لئے مشعلہ راہ ہیں۔ان ہی شخصیات میں کئی معروف ہستیاں گذری ہیں  جیسا کہ حضرت زینب(س) ، حضرت ام کلثوم(س)، حضرت عباس(ع) اور حضرت فاطمہ معصومہ قم(س) ۔
یہ حضرات ہمارے لئے نمونہ ہیں کہ کس طرح عصمت نہ ہونے کے باوجود ان ذوات نے معصومانہ شأن سے زندگی گذاری، کبھی اپنے امام کی ذرہ برابر مخالفت نہیں کی اور اللہ کی نگاہ میں وہ مقام پایا جس پر آسمان پر فرشتہ بھی رشک کرتے تھے۔
قارئین کرام! آج ہم جس ہستی کا تذکرہ کرنے والے ہیں ان کا نام نامی حضرت فاطمہ اور لقب معصومہ ہے۔ اور چاہنے والوں کے درمیان قم میں آپ کا روضہ ہونے کے سبب معصومہ قم(س) کے نام سے پہچانی جاتی ہیں۔ آپ نے اپنے والد ماجد حضرت امام موسیٰ کاظم(ع) اور عظیم المرتبت بھائی، حضرت امام علی رضا(ع) کے زیر سایہ پرورش و تربیت پائی۔ آپ کی شخصیت کے اجتماعی و معاشرتی کاوشوں کے بارے میں بہت ہی کم لکھا جاتا ہے آئیے ہم اس مقالہ میں ایک دو نمونے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حضرت معصومہ قم(س) کون ہیں؟
حضرت فاطمہ (س) ہمارے ساتویں امام، حضرت موسی کاظم(ع) کی دختر نیک اختر ہیں کہ جن کے تقوے اور مسائل شرعی کی رعایت کرنے کی بنیاد پر آپ کے بابا نے آپ کو معصومہ کے لقب سے نوازا تھا  اگرچہ ایک دوسری روایت کی بنیاد پر یہ لقب(معصومہ) آپ کو آپ کے بھائی حضرت امام رضا علیہ السلام نے عنایت فرمایا تھا۔(۱) آپ کے کئی دیگر القاب بھی ہیں کہ جن میں کریمہ اہل بیت(ع) دوسرا سب سے مشہور لقب ہے  اگرچہ بعض علماء نے اس لقب کو مرحوم آیت اللہ العظمیٰ سید مرعشی نجفی(رح) کے ایک مکاشفہ سے نسبت دیا ہے ۔جبکہ یہ بھی احتمال پایا جاتا ہے کہ یہ لقب خود سید مرعشی(رح) سے پہلے بھی آپ کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔(۲)
آپ کی زندگی کے متعلق زیادہ تو کچھ نہیں ملتا اور یہاں تک کہ خود صاحب ریاحین الشریعۃ کہ جنہوں نے آپ کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی ہے انہوں نے بھی اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔(۳) لیکن بہر حال آپ کی زندگی کے حالات جتنے بھی کتابوں میں مرقوم ہے ان سے آپ کی عظمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ ایک مثالی زندگی کا بارز نمونہ تھیں اور صرف یہی نہیں کہ آپ خواتین کے لئے نمونہ و آئیڈیل ہوں بلکہ آپ کی سیرت پر چل کر مرد بھی اسلامی معاشرے کی ارتقا کا سبب بن سکتے ہیں۔
حضرت معصومہ قم(س) کے دور کے حالات
جس زمانے میں آپ نے زندگی بسر کی وہ تاریخ اسلام کا نہایت ہی احساس دور تھا ۔بنی عباس کا اقتدار اپنے عروج پر تھا اور اسلامی معاشرے میں ایک عجیب ڈر اور خوف کا ماحول تھا۔خاص طور پر خاندان اہل بیت(ع) پر سختیاں بنی امیہ کے دور حکومت سے بھی کہیں زیادہ تھیں۔بس فرق یہ تھا کہ سختیوں کا انداز تبدیل ہوچکا تھا۔ ظاہر بظاہر دشمنی نے اب خفیہ دسیسوں اور سازشوں کا نقاب اوڑھ لیا تھا۔ بنی عباس اپنے اقتدار کے ستون محکم کرنے کے لئے ہر مخالف آواز ۔ چاہے وہ کتنی ہی ںحیف تھی۔ کو شدت کے ساتھ دبا دیا کرتے تھے ۔ جن لوگوں نے امام موسیٰ کاظم علیہ کے حالات کو پڑھا اور مطالعہ کیا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ حکومت، خاص طور پر آپ پر نظریں لگائے تھی اور آپ کو کئی بار قیدخانوں کی صعوبتوں کو برداشت کرنا پڑا اور زندگی کا ایک طویل حصہ عباسیوں کی قید میں گذرا ۔ ساتویں امام کی شہادت کے بعد اب امام علی رضا(ع) حکومت کی نگاہوں میں کانٹے کی طرح چبھنے لگے اور آپ کو ولیعہدی کے نام پر  پُر اسرار قید کا سامنا کرنا پڑا ۔ لیکن قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ یہ سب مظالم اور صعوبتیں خاندان اہل بیت(ع) اور خاص طور پر موسی ابن جعفر(ع) کی دختر نیک اختر کے پائے ثبات میں لغزش پیدا نہ کرسکے اور آپ کو اجتماعی و معاشرتی فعالیتوں سے نہیں روک پائے۔ چاہے باپ کی قید کا زمانہ ہو یا آپ کی رہائی کا ، آپ ہمیشہ اپنے بابا کے نقش قدم پر چلتی رہیں اور اپنے چاہنے والوں کے لئے ہدایت کا سامان فراہم کرتی رہیں۔
قارئین! اس امر پر توجہ رہے کہ جن مورخین نے بھی بی بی معصومہ قم(س) کے حالات کا تذکرہ کیا ہے ان کے لئے آپ کی تمام سوشل ایکٹی ویٹیز کا احصاء ممکن نہ ہوا اور یہی وجہ ہے کہ ہم بھی اس مقالہ میں بی بی کی کچھ کاوشوں کا ہی کا تذکرہ کرپائیں گے۔
اجتماعی امور میں آپ کی علمی مرجعیت
تاریخ شیعہ میں یہ امر ایک مسلم حقیقت کے طور تسلیم کیا جاتا ہے کہ شیعوں کو اپنے آئمہ(ع) سے رابطہ برقرار رکھنا ایک دشوار امر بن چکا تھا اور خاص طور پر بنی عباس کے دور حکومت میں یہ نہایت دشوار امر تھا۔چنانچہ آئمہ(ع) سے ملاقات کرنے کے لئے چاہنے والوں کو ہزار جتن کرنے پڑتے تھے۔ کبھی پورے پورے دن راستہ میں بیٹھ جاتے تھے تاکہ جب امام کا یہاں سے گذر ہو تو وہ امام کی زیارت کرلیں اور اپنے مسائل دریافت کرلیں۔ اور کبھی تاریکی شب میں خدمت میں پہونچتے تھے اور کبھی تو یہ سختیاں بھی آئیں کے اپنے مسائل حل کرنے کے لئے کبھی سبزی بچنے والے ، کبھی تیل بیچنے والے کا لباس پہن کر آئمہ(ع) کے گھر تک رسائی حاصل کرتے تھے ۔اور جیسا کہ تاریخ ہمیں بتلاتی ہے کہ ان سخت حالات میں جب امام گھر پر نہیں ہوتے یا قید خانے میں ہوتے تو بی بی معصومہ(س) رجوع کرنے والوں کے مسائل کا جواب دیا کرتی تھیں اور خاندان اہل بیت(ع) سے ان کے رابطہ کو ٹوٹنے نہیں دیتی تھیں۔
چنانچہ نقل ہوا ہے کہ دور دراز سے آیا ہوا شیعوں کا ایک گروہ امام موسیٰ کاظم(ع) سے ملاقات کرکے اپنے مسائل دریافت کرنا چاہتا تھا ۔ مدینہ پہونچ کر تلاش کرتے ہوئے گھر تک پہونچے لیکن معلوم ہوا کہ حضرت گھر پر تشریف فرما نہیں ہیں اسی دوران حضرت بی بی معصومہ(س) دروازے کے پیچھے آئیں اور ان کے آنے کا مقصد دریافت کیا ایک شخص نے بہت سے تحریر شدہ سوالات بی بی کی خدمت میں پیش کردیئے اور عرض کیا کہ ہم مولا کی زیارت کے اشتیاق میں دور دراز کا سفر طئے کرکے آئے تھے اور ہمارے یہاں کے لوگوں کے کچھ مسائل ہیں جو انہوں نے امام(ع) سے دریافت کئے ہیں۔ آپ امام(ع) کی خدمت میں یہ سب پہونچا دیجئے گا! اگر زندگی نے ساتھ دیا تو دوبارہ آکر ان کے جوابات دریافت کرلیں گے ۔بی بی معصومہ(س) نے خادم کے ذریعہ انہیں مہمان خانے میں بٹھایا اور ان کی ضیافت کا اہتمام کیا اور اتنی دیر میں وہ تحریریں لیں اور ہر سوال کا جواب اسی رقعہ کے نیچے لکھ کر  انہیں واپس کردیا ؛  اب یہ خوش و خرم اپنے شہر کی طرف چل پڑے ۔ دل میں امام (ع) کی زیارت نہ ہونے کا قلق تو بہت تھا لیکن خوشی یہ تھی کہ کوئی سوال بغیر جواب کے نہیں رہا۔حسن اتفاق یہ  ہوا کہ لوٹتے وقت مدینہ کے باہر خود امام کاظم (ع) سے ملاقات ہوگئی انہوں نے پورا ماجرا مولا(ع) کے سامنے بیان کردیئے  اور بی بی کے دیئے ہوئے جوابات کو حضرت کی خدمت میں پیش کیا۔ حضرت(ع) نے ہر ایک رقعہ کو کھول کر جواب پڑھا اور آخر میں خوش ہوکر فرمایا: فداھا ابوھا،فداھا ابوھا ، فداھا ابوھا؛ اس کا باپ اس پر قربان جائے۔(۴)
البتہ تاریخ نے صرف یہ ایک واقعہ نقل کیا ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اتفاق صرف ایک مرتبہ ہی رونما ہوا تھا ؟ نہیں ! بلکہ اس طرح کے بہت سے واقعات ہونگے جو امام کاظم و رضا علیہما السلام کی عدم موجودگی میں پیش آئے ہونگے اور بی بی نے خاندان اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں کی ہدایت و رہنمائی کا سامان فراہم کیا ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔زاد المعاد، ص۵۴۷۔
۲۔کریمه اهل بیت(س)، ص۴۱و۴۲۔
۳۔ریاحین الشریعه، ج۵، ص۳۱۔
۴۔حضرت معصومه فاطمه دوم، ص 133به نقل از کشف اللئالی، علامه مستنبط ۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: سجاد ربانی


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین