فلسطین میں تیسرے انتفاضہ کے آثار

مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں شہادت طلبانہ کاروائیوں میں شدت آنے کے بعد بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں تیسرے انتفاضہ کے آثار بڑھ رہے ہیں۔

ولایت پورٹل:تل ابیب نے حال ہی میں یروشلم اور مقبوضہ مغربی کنارے  میں مزید شہادت طلبانہ کاروائیوں کے امکان کے بارے میں اپنے انتباہات میں اضافہ کیا ہے، وہ مسئلہ جس کی وجہ سے عبرانی حلقوں نے مغربی کنارے اور مقبوضہ یروشلم پر زور دیا ہے وہ خطرے کے اہم علاقوں میں سے ایک بن گیا ہے۔
المیادین نیوز ویب سائٹ نے حال ہی میں اطلاع دی ہے کہ فلسطینی مزاحمت نے دشمن کو مسلمانوں کے مقدس مقامات اور مقبوضہ بیت المقدس کے خلاف مجرمانہ کاروائیوں کے جاری رہنے کے بارے میں خبردار کیا تھا نیز کہا تھا کہ اسرائیلی حمایت یافتہ آباد کاروں کے ہاتھوں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کو روکا جائے اور اگر ایسا نہ کیا گیا توقابضین کے خلاف عوامی اور فوجی مزاحمت کو تیز کر دیا جائے گا،یادرےہ کہ اس کا عملی طور پر اشارہ القدس میں حالیہ شہادت طلبانہ آپریشن سے ہوا۔
واضح رہے کہ حال ہی میں مقبوضہ بیت المقدس میں ایک آپریشن کیا گیا جس کے دوران ایک صہیونی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، یہ کاروائی مقبوضہ بیت المقدس کے پرانے حصہ میں واقع باب الصلالہ کے علاقے میں تینتالیس سالہ فلسطینی مجاہد فادی ابو شخیدم نے کی جسے صہیونیوں نے گولی مار کر شہید کر دیا۔
المیادین نے مزید کہا کہ آپریشن سے پہلے کئی دیگر آپریشنز کیے گئے جن میں سے کچھ منظم تھے اور فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے باضابطہ طور پراس کی ذمہ داری قبول کی تھی جبکہ دیگر انفرادی طور پر کیے گئے تھے جن میں سب سے اہم مسلح حملے تھے۔
ایک لبنانی ویب سائٹ نے لکھا ہے کہ قابض اس وقت اس سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ کیا آپریشن قدس ذاتی محرکات اور منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا تھایایہ ایک منظم آپریشن تھا جو مزاحمت کے محور سے وابستہ فلسطینی گروپ نے کیا تھا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین