علاج نہ ملنے پر صیہونی جیل میں بیمار فلسطینی قیدی جوان شہید

قابض صیہونیوں کی جیل میں کینسر میں مبتلا فلسطینی جوان محمد عیادہ صلاح الدین علاج نہ کیے جانے کی وجہ سے شہید ہو گیا۔

ولایت پورٹل:قابض صیہونیوں کی جیل میں شہید  ہونے والےفلسطینی جوان محمد عیادہ صلاح الدین  کے اہل خانہ نے اس کی موت کی ذمہ داری اسرائیل پر عاید کی ہے اور کہا ہے کہ صلاح الدین اسرائیلی زندانوں میں طویل عرصے تک کینسر کے علاج سے محروم رہنے کے نتیجے میں زندگی کی بازی ہار گیا، اہل خانہ کا کہنا ہےکہ سابق اسیر کے ساتھ اسرائیلی زندانوں میں کھلم کھلا اور مجرمانہ غفلت برتی گئی،خیال رہے کہ اسرائیلی حکام نے 8 جولائی 2020ء کو بتایا تھا کہ اسیر صلاح الدین کو کینسر کا مرض لاحق ہوچکا ہے جب کہ خود صلاح‌الدین کا کہنا ہے کہ اسے کئی سال سے کینسر کی تکلیف ہے مگر اس کا کسی قسم کا علاج نہیں کیا گیا۔اسرائیلی عدالت کے حکم پر فلسطینی قیدی کو ایک ماہ قبل رہا کیا گیا تھا۔
اسیر صلاح‌الدین کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے صلاح الدین کو 7 اپریل 2019ء کو گرفتار کیا اور اسے دو سال قید  کی سزا سنائی گئی تھی، اسے کینسر کا مرض گرفتاری سے قبل لاحق ہوچکا تھا،خیال رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں 700 فلسطینی پابند سلاسل ہیں جن میں 300 دائمی امراض کا شکار ہیں جن میں سے 10 کینسر کے مریض ہیں۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین