Code : 3028 46 Hit

اصطلاح میں شیعہ کن لوگوں کو کہا جاتا ہے؟

شیخ مفید علیہ الرحمۃ اس بارے میں فرماتے ہیں شیعہ یعنی وہ حضرات جو امیر المومنین حضرت علی(ع) کو ولی امرمسلمین تسلیم کرتے ہوئے آپ کی پیروی کرتے ہیں اور پیغمبر اکرم(ص) کے بعد آپ ؑکی امامت بلافصل کے قائل ہیں اور سابقہ خلفاء کی امامت کو قبول نہیں کرتے اس لئے اگرچہ لغت میں لفظ شیعہ ’’پیروی‘‘ یا کسی فرد کے پیرو کے معنی میں ہے لیکن اصطلاحاً اس لفظ کے مذکور خاص معنی ہیں جیسے کہ لغت کے اعتبار سے لفظ اسلام یہود و نصاریٰ کو بھی شامل ہے اس لئے کہ وہ بھی شریعت موسیٰ و عیسیٰ کو تسلیم کرتے تھے لیکن اصطلاحی اعتبار سے صرف شریعت پیغمبر اکرم(ص) پر دلالت کرتا ہے ۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے گذشتہ مقالہ میں لفظ شیعہ کے لغوی معنیٰ کے متعلق لغتداں حضرات کے مختلف اقوال نقل کئے تھے جن سے ہم اس نتیجہ پر پہونچے تھے کہ لفظ ’’شیعہ ‘‘عربی لغت میں کسی فرد یا افراد کی دوسرے فرد یا افراد کے اتباع اور پیروی کرنے، کسی کی نصرت و حمایت کرنے، نیزقول یا فعل میں موافقت و مطابقت کے معنی میں  استعمال ہوتا ہے۔ لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس لفظ کے اصطلاحی معنیٰ سے بھی آشنا ہوجائیں تاکہ ہم آنے والی بحثوں جیسا کہ ان کے عقائد، افکار و نظریات کو آپ کی خدمت میں پیش کرسکیں۔ آئیے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے ایک نظر ڈالتے ہیں گذشتہ مقالہ پر:
لفظ شیعہ کے لغوی معنیٰ
گذشتہ سے پیوستہ: اصطلاحی اعتبار سے لفظ شیعہ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے:
۱۔امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی امامت بلا فصل کا اعتقاد رکھنا اس لئے کہ آپ(ع) دوسرے صحابہ سے افضل تھے اور رسول اکرم(ص) نے آپ  کو اپنا جانشین مقرر فرمایا تھا اسی کے ساتھ اس بات کا بھی اعتقاد رکھنا کہ سلسلۂ امامت آپ کے فرزندوں میں نسل فاطمہ زہرا(س) میں جاری رہے گا اور کسی اورکو امامت کا حق نہیں ہے۔
شیخ مفید علیہ الرحمۃ اس بارے میں فرماتے ہیں ’’لفظ شیعہ کبھی الف و لام کے ذریعہ معرفہ بنا کر (الشیعہ)بولا جاتا ہے اور کبھی الف و لام کے بغیر استعمال ہوتا ہے۔ جب الف و لام کے بغیر بطور نکرہ استعمال ہوتو اس کے معنی میں وسعت ہوتی ہے مثلاً کہا جاتا ہے ’’شیعۂ بنی امیہ‘‘ (شیعۃ بنی امیۃ)یا شیعۂ بنی عباس(شیعۃ بنی العباس)یا شیعۂ فلاں ۔ لیکن جب الف لام کے ذریعہ معرفہ بنا کر’’شیعہ‘‘ بولا جاتا ہے ’’الشیعۃ‘‘تو اس کے خاص معنی مراد ہوتے ہیں یعنی وہ حضرات جو امیر المومنین حضرت علی کو ولی امرمسلمین تسلیم کرتے ہوئے آپ کی پیروی کرتے ہیں اور پیغمبر اکرم(ص) کے بعد آپ ؑکی امامت بلافصل کے قائل ہیں اور سابقہ خلفاء کی امامت کو قبول نہیں کرتے اس لئے اگرچہ لغت میں لفظ شیعہ ’’پیروی‘‘ یا کسی فرد کے پیرو کے معنی میں ہے لیکن اصطلاحاً اس لفظ کے مذکور خاص معنی ہیں جیسے کہ لغت کے اعتبار سے لفظ اسلام یہود و نصاریٰ کو بھی شامل ہے اس لئے کہ وہ بھی شریعت موسیٰ و عیسیٰ کو تسلیم کرتے تھے لیکن اصطلاحی اعتبار سے صرف شریعت پیغمبر اکرم(ص) پر دلالت کرتا ہے ۔(۱)
عبد الکریم شہرستانی بھی لفظ شیعہ کی تعریف میں تحریر کرتے ہیں ’’شیعہ وہ لوگ ہیں جو صرف علی(ع)کا اتباع کرتے ہیں (نہ کہ دیگر صحابہ کا )اور رسول اکرم(ص)کی نص و وصیت کی بنیاد پر آپ(ع)کی امامت و خلافت کے  معتقد ہیں نص چاہے جلی ہو یا خفی ۔ اور اس بات کے بھی معتقد ہیں کہ امامت آپ(ع)کے فرزندوں سے باہر نہیں جاسکتی اگر آپ(ع)کے فرزندوں کے علاوہ کوئی بھی امام بن جائے تواس کی امامت ظالمانہ ہوگی‘‘۔ (۲)
سید شریف جرجانی بھی فرماتے ہیں ’’شیعہ وہ لوگ ہیں جو علی(ع)کی پیروی کرتے ہیں اور آپ (ع)کو رسول اکرم(ع) کے بعد امام (بلا فصل)مانتے ہیں اور معتقد ہیں کہ ان کے فرزندوں کے علاوہ کوئی امام نہیں ہوسکتا۔(۳)
ابن خلدون کا قول ہے ’’فقہاء و متکلمین کے قدماء و متاخرین کی اصطلاح میں شیعہ، علی اور فرزندان علی ؑ کے پیرو کو کہا جاتا ہے ۔ شیعوں کے اعتقاد کے مطابق امامت دین کے ارکان میں سے ہے اور حضرت علی ؑکو پیغمبر (ص) نے اپنے بعد امامت کے لئے منصوب کیا ہے ‘‘۔(۴)
ابوالحسن اشعری شیعہ کی تعریف کے ضمن میں کہتے ہیں ’’انہیں اس لئے شیعہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ علی ؑکی پیروی کرتے ہیں اور انہیں دیگر تمام اصحاب پیغمبر(ص) پر ترجیح دیتے ہیں ‘‘۔(۵)
حضرت علی(ع) کو دیگر اصحاب پر ترجیح سے مراد آپ(ع)کی بلا فصل امامت کا قائل ہونا ہے۔
مذکورہ عبارتوں سے صاف واضح ہے کہ حضرت علی(ع) کی بلا فصل امامت و ولایت ، آپ کی امامت کا منصوص و منصوب ، اور نسل فاطمہ(س) سے آپ(ع) کے فرزندوں میں امامت کا جاری رہنے کا اعتقاد ہی شیعیت کا محور اور اساس سمجھا جاتا تھا۔ یہ اصطلاح اتنی کثرت سے رائج ہے کہ مؤلفین لغات نے لفظ شیعہ کے لغوی معنی بیان کرنے کے بعد یہ تحریر کیا ہے کہ کثرت استعمال میں یہ لفظ ان لوگوں سے مخصوص ہے جو ولایت علی(ع)و اہلبیت علیہم السلام کے قائل ہیں اس سلسلہ میں قاموس کی عبارت یہ ہے :’’وقدغلب ھذاالاسم علی کل من یتولی علیاو اھل بیتہ حتیٰ صارا سماًخاصاًلھم‘‘(۶)
ابن اثیر بھی تحریر کرتے ہیں :’’وقد غلب ھذاالاسم علی کل من یزعم انہ یتولی علیا واہل بیتہ حتیٰ صار لھم اسماً خاصاً فاذا قیل فلان شیعۃ عرف انہ منھم‘‘(۷)
یہ بات لغت کی دیگر کتب میں بھی بعینہ اسی عبارت یا مشابہہ عبارت کے ساتھ موجود ہے (۸) امین الاسلام طبرسی شیعہ کے لغوی معنی یوں بیان کرتے ہیں : شیعہ اس گروہ کو کہا جاتا ہے جو اپنے سردار کی پیروی کرے ‘‘اس کے بعد فرماتے ہیں’’و صار بالعرف عبارۃ عن شیعۃ علی ابن ابی طالب الذین کانوا معہ علی اعدائہ و بعدہ مع من کان قام مقامہ من ابنائہ‘‘(۹)’’عرف میں شیعہ علی ابن ابی طالب(ع) کے پیروکارہیں یعنی جو لوگ علی (ع)کے دشمنوں کے مقابل علی(ع)کے ساتھ تھے اور آپ(ع) کے بعد آپ کے جانشین فرزندوں کے ساتھ رہے ‘‘۔
۲۔دوسری اصطلاح کے مطابق شیعہ انہیں کہا جاتا ہے جو تمام صحابہ اور سابقہ خلفاء پر علی(ع)کی افضلیت کے قائل ہیں چاہے آپ ؑکی بلا فصل امامت کے قائل نہ ہوں ۔ بنیادی طور پر یہ لوگ امامت کے سلسلہ میں وصایت اور نص کے قائل نہیں ہیں ۔ کبھی کبھی ان لوگوں کو بھی شیعہ کہا جاتا ہے جو حضرت علی(ع)کو عثمان سے افضل مانتے ہیں جیسا کہ قاضی عبد الجبار کہتے ہیں ’’و اصل بن عطا عثمان کے مقابل علی(ع)کی افضلیت کے قائل تھے اسی لئے  ان کی جانب تشیع کی نسبت دی جاتی ہے اس لئے کہ اس زمانہ میں شیعہ اسے کہا جاتا تھا جو علی ؑکو عثمان سے افضل مانتا ہو‘‘۔(۱۰)
حاصل کلام یہ کہ اس اصطلاح کے مطابق شیعیت کی اساس و بنیاد و امیر المؤمنین(ع)کی افضلیت کے اعتقاد پر ہے چاہے افضلیت تمام صحابہ و خلفاء پر ہو یا صرف عثمان پر۔ تمام شیعہ اور معتزلہ کی اکثریت حضرت علی (ع)کو رسول اکرم(ص) کے بعد سب سے افضل و برتر مانتی ہے۔
اہل حدیث کا ایک گروہ بھی عثمان کے مقابلہ میں حضرت علی(ع)کی افضلیت کا قائل ہے ۔(۱۱)
کبھی علم رجال اور راویوں کی سوانح کی کتب میں ایسے افراد کی جانب تشیع کی نسبت دے دی جاتی ہے اس بنا پر جو لوگ تشیع کو راوی کے ضعیف ہونے کا سبب مانتے ہیں انہوں نے ایسے لوگوں کی قدح کی ہے ۔ میزان الاعتدال میں ذہبی نے بعض اہل سنت راویوں کی طرف تشیع کی نسبت دی ہے جیسا کہ بخاری کے مشایخ عبید اللہ بن موسیٰ کے بارے میں کہتے ہیں ’’ثقۃ فی نفسہ لکنہ شیعی منحرف‘‘علاء بن العباس کے بارے میں کہتے ہیں ’’شیعی غال‘‘۔ محمد بن احمد بن حمدان کے بارے میں کہتے ہیں ’’کان یتشیع‘‘مشہور مورخ و مفسر محمد بن جریر طبری کے بارے میں کہتے ہیں’’ثقۃ صادق فیہ تشیع یسیر موالاۃ لا تضر‘‘
اسی اصطلاح سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ فرقۂ زیدیہ کاایک گروہ جو امیرالمؤمنین(ع)کو دیگر صحابہ سے افضل تسلیم کرتا ہے ہیں مگر آپ(ع) کی خلافت بلافصل کے قائل نہیں ہے پھر بھی انہیں کیوں شیعہ کہا جاتا ہے۔ اس لئے کہ یہ گروہ امامت کے باب میں نص کے قائل نہیں ہے بلکہ لوگوں کے انتخاب کو امام کی تعیین کا ذریعہ سمجھتا ہے لیکن چونکہ حضرت علی(ع) کی افضلیت کا معتقد ہے لہٰذا انھیں شیعہ کہا جاتا ہے۔
علامہ طباطبائی نے اس گروہ کو شیعہ کہے جانے کی دوسری وجہ بیان کی ہے علامہ طباطبائی فرماتے ہیں کہ چونکہ اس گروہ نے بنی امیہ اور بنی عباس دونوں کی خلافت کو تسلیم نہیں کیا اور امامت کو اولاد فاطمہ زہراؐکا حق سمجھا اس لئے انہیں شیعہ کہاجاتا ہے ‘‘۔(۱۲)
۳۔اصطلاحی اعتبار سے اہل بیت پیغمبر(ص) سے اظہار محبت و مودت کرنے والوں کو بھی ’’شیعہ‘‘ کہا جاتا ہے۔اگرچہ اہل بیت(ع) سے محبت تمام مسلمانوں کے نزدیک متفق علیہ مسئلہ ہے اور ناصبیوں کے علاوہ کوئی بھی خاندان نبوت سے عداوت نہیں رکھتا اس لئے کہ اس سلسلہ میں قرآن مجید نے صراحت کے ساتھ تاکید کی۔(۱۳)شافعیوں کے امام ابن ادریس شافعی کے بعض اشعار سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی حضرت علی ؑکی افضلیت کے قائل تھے ۔ ان کا ایک شعر ہے:
اذا نحن فضلنا علیا فاننا
روافض بالتفضیل عند ذوی الجھل
ہے اور احادیث نبوی میںبھی وضاحت کے ساتھ اس کی اہمیت بیان کی گئی ہے لیکن ان باتوں کے باوجود جو لوگ خاندان رسالت سے محبت و مودت کا اظہار کرتے تھے یا اس کی ترویج کرتے تھے انہیں شیعی یا رافضی کہا جاتا تھا ایسے نام یا القاب اس دور میں زیادہ استعمال کئے گئے جب اہل بیت(ع) کی مخالف متعصب حکومتیں مسلمانوں کی گردن پر مسلط تھیں ۔اس اقدام سے ان کا مقصد لوگوں کو اہل بیت(ع) کی تعلیمات سے دور رکھنا تھا کہ اہل بیت(ع) کے نزدیک ظلم کا خاتمہ نہایت اہم اور ہر چیز پر مقدم ہے۔ امام شافعی کے اشعار اس کی بخوبی کے ترجمانی کرتے ہیں۔
اذا فی مجلس نذکر علیا یقال
و سبطیہ و فاطمۃ الزکیۃ
تجاوزوا  یا  قوم  ھذا    
فھذا من حدیث الرافضیۃ
برئت الی المھیمن من اناس    
یرون الرفض حب الفاطمیۃ ۔(۱۴)
دوسرے مقام پر امام شافعی کہتے ہیں:
ان کان رفضا حب آل محمد
فلیشہد الثقلان انی رافضی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔اوائل المقالات ص/۳۵،۳۶
۲۔الملل و النحل ، ج۱ ص۱۴۶    
۳۔التعریفات ،ص/۹۳
۴۔مقدمہ ابن خلدون ص۱۹۶، مطبوعہ دار القلم ، بیروت
۵۔مقالات الاسلامیین ج۱ ،ص۶۵    
۶۔القاموس المحیط ج۳،ص۴۷
۷۔النہایہ ج۲، ص۵۱۹
۸۔لسان العرب ج۱، ص۵۵، تاج العروس ج۵،ص۵، اقرب الموارد ج۱، ص۶۲۷ملاحظہ فرمائیں۔        
۹۔مجمع البیان ج۴،ص ۴۴۸
۱۰۔المغنی فی ابواب التوحید و العدل ، الامامۃ ج۲، ص۱۱۴
۱۱۔(دیوان امام شافعی ص/۵۵)
۱۲۔شیعہ در اسلام ، ص/۳۰
۱۳۔دیوان الامام الشافعی ص/۵۶
۱۴۔دیوان الامام الشافعی ،ص/۵۵


 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम