Code : 2966 65 Hit

خود مسلمانوں کے درمیان قرآن مجید کی تنہائی

علامہ تہرانی وضاحت کرتے ہیں: قرآن مجید کو ختم کرنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اسے شائع کرنا چھوڑ دیا جائے یا اسے جلا دیا جائے۔ یہ انگریزوں نے بھی نہیں کیا۔ بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان کی زندگی سے قرآن مجید کو اتنا دور کردیا جائے کہ نہ لوگوں میں اسے پڑھنے پڑھانے کا شوق رہے اور نہ تلاوت کرنے اور اس کی تفسیر کی طرف رجوع کرنے کا شغف باقی رہے اور نہ اس کے بیان کردہ احکام کے پابند رہیں ۔ اور وہ( انگریز) اپنے ان مقاصد میں کافی حد تک کامیاب بھی ہیں اور ایک طویل پروگرامنگ کے تحت وہ اس مقدس کتاب کو خود اس کا دم بھرنے والوں کے درمیان سے نکال کر اس تنہا کردینے میں کامیاب ہوگئے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! تنہائی دائرۃ المعارف وجود میں ایسا کلمہ ہے جسے سن یا پڑھ کر انسان مغموم ہوجاتا ہے ،تنہائی اور غربت یعنی اگر کوئی غربت کے قید خانے میں گرفتار ہوجائے اسے تنہا کہا جاتا ہے۔
نیز یہ ایک ایسا مقولہ ہے کہ جو انسان کے پر کبھی صادق آتا ہے تو کبھی اللہ کی بھیجی اور نازل کردہ کتاب قرآن مجید پر بھی منطبق ہوتا ہے لہذا قرآن مجید میں ایک لفظ ہے جسے مہجور کہا جاتا ہے ۔چنانچہ بعض مفسرین اور دانشوروں کا خیال ہے کہ قرآن مجید اپنی تمام عظمتوں کے باوجود خود اپنے ماننے اور پیروی کرنے والوں کے درمیان ہی مہجور و تنہا ہے۔چنانچہ علامہ طہرانی قرآن مجید کی غربت، مہجوریت اور تنہائی کے متعلق اپنی کتاب ’’مطلع انوار‘‘ کی جلد ۱۲ میں مکمل ایک عنوان قائم کرتے ہیں جس میں قرآن پر عمل کرنے اور ترک عمل کے مثبت و منفی آثار کا تذکرہ کیا گیا ہے ہم اس کا خلاصہ ذیل میں کررہے ہیں:
قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جس کے تمام احکام فطرت کے عین مطابق ہے اور باوجود اس کے کہ ان سب احکام کی بنیاد فطرت ہے ان میں اخلاقیات کی آمیزش بھی پائی جاتی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’و لکم فی القصاص حیوة یا اولی الألباب‘‘۔(۱) اے صاحبان عقل ! حکم قصاص میں تمہارے لئے حیات ہے۔
نیز ایک دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے:’’و إن عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به و لئن صبرتم لهو خیر للصابرین‘‘۔(۲) اور اگر تم ان کے ساتھ سختی بھی کرو تو اسی قدر جس قدر انہوں نے تمہارے ساتھ سختی کی ہے اور اگر صبر کرو تو صبر بہرحال صبر کرنے والوں کے لئے بہترین ہے۔
قرآن مجید کے زندہ جاوید ہونے کا فلسفہ
قرآن مجید کے احکام و قوانین ہمیشہ زندہ و پائندہ ہیں۔ ان پر کبھی زمانے کی گرد نہیں بیٹھ سکتی چونکہ اس کی آیتوں کے مضامین ہر سطح کے علم پر تطبیق کئے جاسکتے ہیں اور طب قدیم کی طرح نہیں ہیں کہ جدید میڈیکل سائنس کے رائج ہونے کے ساتھ ساتھ فرسودہ اور غیر مستعمل ہوجائیں۔لہذا جیسے جیسے علم ترقی کرے گا ویسے ویسے قرآن کی آیات کے معانی زیادہ روشن اور واضح ہوتے جائیں گے۔
قرآن مجید جہاں لوگوں کو خدا اور آخرت کی طرف دعوت دیتا ہے وہیں ظاہری امور کے منظم کرنے اور معاشی نظام کے ان جزئیات کو پیش کرتا ہے جس پر غور کرکرکے بڑے بڑے مفکرین اور اپنے شعبوں کے ماہرین محو حیرت رہ جاتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید کو عظمت کی نگاہوں سے دیکھنے والوں میں مغربی مفکرین، دانشوروں اور اسکالرس کی ایک طویل قطار نظر آتی ہے۔
لیکن افسوس! ہم مسلمان قرآن مجید سے اتنا استفادہ نہیں کرتے جتنا ہمیں کرنا چاہیئے جبکہ رسول اللہ(ص) نے ہمیں بتلایا ہے:’’ما إن تَمسَّکتُم بِهِما نَجَیتُم‘‘۔ لیکن آج ہم مسلمانوں نے قرآن مجید کو الگ تھلگ کردیا ہے اور صرف رسم و رواج کی حد تک ہم قرآن سے اپنا تعلق ظاہر کرتے ہیں جیسا کہ یہ کتاب انفرادی اور اجتماعی کسی مشکل کا حل بیان نہ کرتی ہو(نعوذ باللہ)۔ آج ہماری کیفیت یہ ہے کہ ہم قرآن مجید کو ایک اخبار سے بھی کم اہمیت دیتے ہیں چونکہ ہم میں سے اکثر لوگ ہر دن صبح کے وقت اخبار کو بڑے غور سے پڑھنے کے عادی ہیں لیکن قرآن کی نسبت نہایت سرد مہری کا شکار ہیں۔
قرآن مجید کے متعلق گلیڈ اسٹون ولیم ایورٹ کا نظریہ
علامہ طہرانی ایک دوسرے مقام پر رقمطراز ہیں:’’ گلیڈ اسٹون ولیم ایورٹ (Gladstone William Ewart) برطانیہ کا مشہور سیاست داں جس کی ولادت  لیورپل میں ۱۸۰۹ کو ہوئی اور جس کی موت ۱۸۹۸ء میں واقع ہوئی اور جو برطانیہ کی لبرل پارٹی کا ایک قائد تھا اور جو چار مرتبہ برطانیہ کا وزیر اعظم بھی بنا۔ برطانیہ کے اس یہودی مسلک صہیونی کہ جس نے برطانوی سامراج کو ایک نئی جہت دی اس نے علی الاعلان برطانیہ کی پارلمینٹ میں قرآن مجید کو میز پر پٹختے (نعوذ باللہ) ہوئے غصہ کے عالم میں کہا تھا:’’ جب تک مسلمانوں کے درمیان یہ کتاب(قرآن مجید) رہے گی اس وقت تک وہ لوگ برطانوی سامراج کے سامنے تسلیم نہیں ہوسکتے‘‘۔
اس کے بعد علامہ تہرانی وضاحت کرتے ہیں: قرآن مجید کو ختم کرنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اسے شائع کرنا چھوڑ دیا جائے یا اسے جلا دیا جائے۔ یہ انگریزوں نے بھی نہیں کیا۔ بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان کی زندگی سے قرآن مجید کو اتنا دور کردیا جائے کہ نہ لوگوں میں اسے پڑھنے پڑھانے کا شوق رہے اور نہ تلاوت کرنے اور اس کی تفسیر کی طرف رجوع کرنے کا شغف باقی رہے اور نہ اس کے بیان کردہ احکام کے پابند رہیں ۔ اور وہ( انگریز) اپنے ان مقاصد میں کافی حد تک کامیاب بھی ہیں اور ایک طویل پروگرامنگ کے تحت وہ اس مقدس کتاب کو خود اس کا دم بھرنے والوں کے درمیان سے نکال کر اس تنہا کردینے میں کامیاب ہوگئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1.مطلع انوار، علامہ تہرانی، سوره بقرہ کی آیت نمبر ۱۷۹ کی تفسیر کے ذیل میں۔
2.سوره النّحل : ۱۲۶۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین