Code : 3359 11 Hit

نام نہاد جنگ بندی کے پیچھے آل سعود کے عزائم

ایک عرب زبان میڈیا نے سعودی اتحاد کی جانب سے یمن میں نام نہاد جنگ بندی کے باوجود حملوں میں اضافہ کی وجوہات کا انکشاف کیا ہے۔

ولایت پورٹل:العہد نیوز ایجنسی نےجنگ بندی کے باوجود  سعودی اتحاد کی جانب سے یمنی عوام کے خلاف اپنی جنگ کو تیز کرنے کا  ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جنگ بندی  کے باجود سعودی اتحاد کے حملوں میں بیک وقت اضافہ یمنیوں کے لیے کوئی  عجیب بات نہیں ہے اس لیے کہ یمنی باشندے جانتے ہیں کہ امریکی سعودی اتحاد کی جانب سے جنگ بندی کا مطلب   صورتحال پر قابو پانا اور نئے حملوں میں اضافے کے لیے تیاری کرنا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے 8 اپریل کو دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان کیے جانے کے بعد سے سعودی اتحاد نے فوجی کارروائی شدت اختیار کی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے ایک بھی دن ایسا نہیں گذرا ہے جس دن  دشمن  نے فضائی کارروائی نہ کی ہو اور سعودی جنگی طیاروں نے الجوف ، مارب اور صنعا صوبوں کو نشانہ نہ بنایا ہو اس کے علاوہ زمینی حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ سیز فائر کی وسیع پیمانے پر میڈیا کوریج اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اورمختلف ممالک کے بیانات کی منظوری کے باوجود کسی نے بھی یمن میں سعودی اتحاد کے ذریعہ فضائی اور زمینی حملوں کے خلاف کوئی مؤقف نہیں اختیار کیاہے۔
کسی  نے صنعا کے ان منصوبوں پر توجہ نہیں دی  جو یمن کا مکمل محاصرہ ختم کرنے اور یمن کے خلاف سعودی اتحاد کی جنگ کے خاتمے کواصل حل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
وہ یمن کے بحران کو سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ ختم نہیں کرنا چاہتے۔
العہد نے مزید لکھا کہ سعودی جنگ بندی  کی آڑ میں  فوجی اور فیلڈ کامیابیوں کے حصول کی تلاش میں ہیں۔


 



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین