عراق امریکہ کے درمیان مذاکرات ،سعودی چینل کی ایران کے خلاف ہرزہ سرائی

عراق سے امریکی فوجی انخلا کے سلسلہ میں بغداد - واشنگٹن کےدرمیان ہونے والے مذاکرات کے موقع پر سعودی عرب کے چینل العربیہ نے  پینٹاگون کے ایک عہدہ دار کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ان کے حوالے سے بتایا کہ  ایران امریکی مفادات پر حملہ کرنے والے عسکریت پسند گروپوں کی حمایت کرتا ہے ،انھیں پیسہ اور اسلحہ بنا دیتا ہے۔

ولایت پورٹل:سعودی عرب کے العربیہ چینل نے آج (جمعرات کو) پینٹاگون کے ایک عہدہ دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) خطے میں ایران اور اس سے وابستہ عسکریت پسند گروپوں کا مقابلہ کرنا چاہتاہے،نامعلوم امریکی عہدہ دار نے العربیہ کو بتایاکہ ہم امریکی افواج پر مسلسل حملوں کے ساتھ ساتھ عسکریت پسند گروہوں کی تربیت اور مالی مدد اور ہتھیاروں کا واضح مظاہرہ کررہے ہیں جو ہمارے مفادات پر حملہ کررہے ہیں۔
سعودی چینل نے انہیں امریکی محکمہ دفاع میں ایک اعلی عہدیدار قرار دیتے ہوئے مزید کہاکہ جب امریکیوں پر حملہ کیا جاتا ہے تو  واشنگٹن پہلے اپنے دفاع میں فوجیوں کا دفاع کرتا ہے جو ہمارا فطری حق ہے،انہوں نے مزید کہا کہ امریکی افواج اور سفارتی ہیڈ کوارٹرس کا دفاع کرنے کا معاملہ بھی امریکہ-عراق اسٹریٹجک بات چیت کا حصہ ہے۔
یادرہے کہ العربیہ نے گذشتہ ہفتے پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کا انٹرویو شائع کیا تھاجس میں جان کربی نے کہا تھا کہ ایران کو عراق میں اپنے اتحادیوں کی حمایت بندکرنی چاہئے،انہوں نے کہا کہ امریکہ عراق میں اپنے مفادات پر حملوں سے پریشان ہے،واضح رہے کہ سعودی چینل کے ایران کے خلاف یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آرہے ہیں جبکہ واشنگٹن کی افواج کو عراق ملک سے انخلا کرنے کے طریق کار کے بارے میں امریکہ اور عراق کے مابین  مذاکرات کاچوتھا دور 23 جولائی 2021 کو شروع ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ  سعودی عرب سمیت خطے کے کچھ ممالک  جو امریکی اور غیر ملکی افواج کی موجودگی کے ذریعے عراق میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں ، دہشت گردی اور داعش کے خلاف جنگ کے بہانے عراق میں  داخل ہونے والی امریکی فوج کے اس ملک سے واپس جانے کے حق میں نہیں ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین