Code : 2894 108 Hit

عراق کو تقسیم کرنے کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خفیہ منصوبے؛ برطانوی ویب سائٹ کا انکشاف

برطانوی ویب سائٹ نے کرد علاقے کی طرح عراق میں بھی سنی اکثریتی عراق تشکیل دیے جانےکے ریاض اور ابو ظہبی کی حکومتوں کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ نے اس منصوبہ کاخیرمقدم کیا ہے۔

ولایت پورٹل:برطانوی ویب سائٹ میڈل ایسٹ آئی نے اپنی ایک رپورٹ میں  سعودی اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کی جانب سے عراق کو توڑنے اوراس ملک میں کردستان  جیسا سنی خطہ بنانے کی کوششوں اور پیسہ خرچ کرنے کے بارے میں انکشاف کیا ہے ۔
میڈل ایسٹ آئی  نے ڈیوڈ ہارسٹ کے قلم سے لکھی ہوئی رپورٹ شائع کی ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہشام ، یمن اور لیبیا جیسے ممالک میں نیابتی جنگوں ، غداری اور خیانت نے جمہوریت ، خودمختاری اور خود ارادیت کے تصورات کو بے معنی کردیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ جیسے ان تمام تصورات کا مقصد مغربی سامعین کے لئے ہے،اس خطہ میں تو صرف طاقت ہی کی زبان میں بات کی جاتی ہے۔
خطے کے تمام ممالک میں  افراد ، سیاسی گروہ اور خود مختاری اندورنی طور پرپاش پاش ہو رہی ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے یہاں سیریل چل رہا ہے جس کے ہرحصہ میں محمد بن زائد موجود ہوتے ہیں جو موت اور تباہی کا منصوبہ بناتے ہیں اوراس کو اپنے چیلوں کے ذریعہ پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے بعد نیز منصوبہ بنانا شروع کردیتے ہیں۔
ڈیوڈ ہارسٹ مزید لکھتے ہیں کہ یہ جو کھیل عراق میں کھیلا جارہا ہے اس نے ملک کو بڑے خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اس کے بعد انھوں نے ایک بڑی سازش کا انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چھ مہینے پہلے خلیجی ممالک  کے امور میں محمد بن سلمان  کے مشیر اور خطہ میں ان کے نمائندہ کے طور پر جانےجانے والے ثامر بن سبہان نے  عراق کے الانبار ، صلاح الدین اور نینواہ صوبوں سے تعلق رکھنے والے تاجروں اور سیاسی شخصیتیوں پر مشتمل ایک وفد کو سعودی سفیر سے ملنے کے لیے  اردن کے دارالحکومت عمان آنے کی دعوت دی۔
اس اجلاس کا موضوع کردستان کے خطے کی طرح عراق میں بھی سنی خطے کی تشکیل سے متعلق تبادلہ خیال کرناتھا جس پر آخر کار شرکاء نے اتفاق رائے کرلیا۔
میڈل ایسٹ آئی نے مزید لکھا ہے کہ عبدالمہدی اور بن سلمان کی ملاقات کے کچھ ہفتوں بعد ، اردن میں ایک دوسری میٹنگ ہوئی ، جس میں امریکہ اور اسرائیل کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
اس میٹنگ میں ، امریکی ایلچی نے ایک گھنٹہ سے زیادہ شریک نہیں رہے اور کھلے عام سنی خطہ کے  منصوبے کی حمایت نہیں کی ، لیکن اپنے سعودی ہم منصبوں سے کہا تھا کہ اگر وہ ایسا کر سکے تو امریکہ اس کا خیرمقدم کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق ا س سلسلہ میں تیسری میٹنگ ابو ظہبی کافی  وسیع پیمانے پر ہوئی جس میں عراقی پارلیمنٹ اسپیکر سمیت  متعدد پارلیمنٹ ممبروں اور کئی تاجروں نے  بھی شرکت کی،اس میٹنگ میں حلبوسی نے سنی خطے کی تشکیل کے کسی منصوبے کو باضابطہ طور پر مسترد کردیا۔  






0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین