ایران کے خلاف پروپگنڈہ؛سعودی ٹویٹر پیغاموں کا محور

سعودی عرب کے حالیہ معطل اکاؤنٹس کا محورایرانی حکومت کا تختہ پلٹنا اور اس پر پابندیوں سے متعلق گفتگو کرنا تھا۔

ولایت پورٹل:حالیہ معطل سعودی اکاؤنٹس پر غیر ملکی ریسرچ سینٹر کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ان ٹویٹر اکاؤنٹس کی سرگرمیوں کا محور ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے پروپیگنڈے کرنا تھا،Responsible Statecraft ریسرچ سنیٹر کے نامہ نگار ایلی کلفٹن کا کہنا ہے کہ  ٹویٹر کی جانب سے معطل کیے جانے والے 6000 سعودی اکاؤنٹس کے پیغامات کا محور ایران کے حکومتی نظام کو بدلنے اور اس ملک پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے ٹرمپ سے درخواست تھی،حذف شدہ اکاؤنٹس کے صارفین  یمن میں سعودی عرب کے انسانی حقوق کے جرائم کا جواز پیش کرنے اور سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی عرب کو بری  کرنے کی کوشش کررہے تھے،یادرہے کہ ٹویٹر نے گذشتہ جمعہ کو کہا تھا کہ اس نے اپنے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر سعودی حکومت سے منسلک ہزاروں اکاؤنٹس کو حذف کردیا ہے،ایلی کلفٹن  نے مزید کہا ہے کہ ان اکاؤنٹس کے ذریعہ ٹویٹر پرانتیس ملین سے زیادہ پیغامات پوسٹ کیے گئے  ہیں،واضح رہے کہ یہ اکاؤنٹس سعودی عرب کی کمپنی سماءات کی زیر نگرانی چل رہے تھے،ان اکاؤنٹس کو حذف کرنے سے متعلق ٹویٹر کی ایک رپورٹ میں بھی  کہا گیا ہے کہ  ہمارے تکنیکی اشارے بتاتے ہیں کہ سماءات نے یہ اکاؤنٹ اپنے صارفین کے ذریعہ تیار کیے ، انھیں خریدا اور پھر منظم کیا،قابل ذکر ہے کہ یہ  کمپنی ، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان  کے خصوصی بیورو کے سربراہ  بدر العساکر اور احمد الجبرین  کی ملکیت میں  ہے ، ان دونوں پر ٹویٹر کے ذریعہ جاسوسی کا الزام ہے،ٹویٹر کمپنی کے اس  اعلان کے بعد سماءات کی ویب سائٹ دستیاب نہیں ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین