سعودی وزیر خارجہ امریکی ایلچی بن پاکستان کے دورے پر؛عمران خان کشمکش میں مبتلا

سعودی وزیر خارجہ نے حال ہی میں جو بائیڈن کی جانب سے پاکستان کا سفر کیا اس ملک کو کو ریاض اور واشنگٹن کی پالیسیوں کے مطابق لایا جاسکے ۔

ولایت پورٹل:پاکستانی اور سعودی وزرائے خارجہ نے اسلام آباد میں دو طرفہ اجلاس اور اعلی سطحی وفد کے اجلاس کے بعد منگل کو مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکت کی،ان ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے مابین جدید ترین باہمی رابطوں اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا  اور مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ایک اعلی رابطہ کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا  جس کے تحت ثقافت، کھیل ، تجارت اور آب و ہوا میں بدلاؤ کے رجحان کا مقابلہ کرنےکے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھایا جائے گا ۔
پریس کانفرنس میں  پاکستانی وزیر خارجہ قریشی نے اپنے سعودی ہم منصب سے ملاقات کی جس میں علاقائی امور خاص طور پر افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا نیز فلسطین ، یمن اور علاقائی استحکام بالخصوص مشرق وسطی میں پیش آنے والی صورتحال میں تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب ریاستہائے متحدہ کا کارندہ ہے اور  ان کے نزدیک دودھ دینے والی گائے ہے کیونکہ وہ امریکہ کے قومی مفادات کی تکمیل کے لئے ہر ممکن کوشش کرتا ہے،تاہم پاکستان میں جب سے عمران خان نے اقتدار سنبھالا ہے ،اس ملک کی پالیسی میں تھوڑی بہت تبدیلی آئی ہے جو غیر متوقع ہے،واضح رہے کہ کچھ ہفتوں پہلے  جب پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما ، بلاول بھٹو زرداری واشنگٹن گئے تھے تو پاکستانی حکومت نے باضابطہ طور پر اعلان کیا تھا کہ عمران خان سے مایوس ہونے کے بعد امریکہ نے عمران خان سے منہ پھیر لیا ہے اور بلاول کا سہارہ لیا ہے نیز ان کا وائٹ ہاؤس کا دورہ پاکستان میں جو بائیڈن کے اہداف کے حصول کے لئے ناکام کوشش ہے کیونکہ امریکہ کو فوجی اڈہ فراہم نہ کرنے کے بارے میں عمران خان کا موقف چونکا دینے والا تھا۔
کچھ پاکستانی سیاست دانوں اور سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین سے قریب ہونے کی وجہ سےامریکہ کے لیے اب پاکستان کی خارجہ پالیسی تبدیل ہوگئی ہے ، اب پاکستان امریکہ کے ساتھ مساوی تعلقات کا خواہاں ہےجیسا کہ عمران خان متعدد ٹیلی ویژن انٹرویو میں بیان کرچکے ہیں۔
 مثال کے طور پر  عمران خان کی امریکی وزیر خارجہ کے فون کا جواب نہ دینے اور ان سے بات نہ کرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات بہت سرد ہوچکے ہیں،قابل ذکر ہے کہ پاکستان نے ابھی تک شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کےاس ملک کے دورے کے بنیادی مقاصد اور خصوصی مشن کا اعلان نہیں کیا ہے ، تاہم اب ہمیں انتظار کرنا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ اسلام آباد چند دنوں میں بائیڈن کے ایلچی کو کیا جواب دے گا ، کیا وہ اپنے پرانے دوست چین کا انتخاب کرے گا یا ایک بار پھر ضیا الحق کی غلطی کو دہراتے ہوئےافغانستان کی جنگ میں مداخلت کرے گا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین